اخبارعالم

محمد بن سلمان : تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی سلطنت

یمن کی جنگ، سرمایہ کاری کو دھچکا اور امریکی مدد کی حدود؛ سعودی ولی عہد کے لیے ۲۰۲۶ء ان وعدوں کا حساب بن گیا ہے جن پر انہوں نے نئے سعودی عرب کی بنیاد رکھی تھی۔…

اخبارعالم October 23, 2026 8 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

یمن کی جنگ، سرمایہ کاری کو دھچکا اور امریکی مدد کی حدود؛ سعودی ولی عہد کے لیے ۲۰۲۶ء ان وعدوں کا حساب بن گیا ہے جن پر انہوں نے نئے سعودی عرب کی بنیاد رکھی تھی۔

کسی حکمران کے لیے مشکل وقت صرف وہ نہیں ہوتا جب اس کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں۔ کبھی مشکل اس وقت بھی آتی ہے جب اس کے اپنے وعدے اس کے سامنے کھڑے ہوجائیں۔ محمد بن سلمان کے ساتھ اس وقت کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کو ایک محفوظ، خوشحال اور جدید ملک بنانے کا خواب دکھایا تھا۔ اب اسی ملک کے ہوائی اڈوں پر حملے ہورہے ہیں اور دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو جمع کرنے والی سب سے نمایاں کانفرنس اگلے سال تک ملتوی کردی گئی ہے۔ جس اجتماع میں سعودی مستقبل کی کامیابی دکھائی جانی تھی، اس کا التوا اس مستقبل پر اٹھنے والے سوالوں کی خبر بن گیا ہے۔ کانفرنس کی منتظم تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ ۲۶ تا ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ہونے والا اجتماع اب ۲۰۲۷ء میں ہوگا۔ Impact on Humanity

یہ محض ایک تقریب کا ملتوی ہونا نہیں۔ محمد بن سلمان کی پوری معاشی حکمت عملی کو بیرونی دنیا کے اعتماد کی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ آئے، نئی صنعتیں لگیں، سیاح پہنچیں اور سعودی نوجوانوں کو تیل کے شعبے سے باہر روزگار ملے۔ لیکن جس سرمایہ کار کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہو، اسے مستقبل کے منافع کا وعدہ کتنی دیر روک سکتا ہے؟ رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاری کانفرنس کا التوا حالیہ مہلک حملوں اور پھیلتی ہوئی علاقائی جنگ کے پس منظر میں ہوا ہے۔ reuters.com

ولی عہد کی مشکل یہ ہے کہ سلامتی اور ترقی کے بحران الگ الگ نہیں رہے۔ ایک دوسرے کو بڑھا رہے ہیں۔ حملے سرمایہ کاروں کو خوف زدہ کرتے ہیں۔ سرمایہ کاری میں رکاوٹ معاشی منصوبوں کو سست کرتی ہے۔ دفاع کی بڑھتی ہوئی ضرورت وسائل پر مزید دباؤ ڈالتی ہے۔ یوں جس امن کی بنیاد پر نئی معیشت تعمیر ہونی تھی، پہلے اسی امن کو بچانے کا سوال سامنے آگیا ہے۔

اس سوال کا ایک سرا یمن میں ہے۔ ۲۰۱۵ء میں سعودی فوجی مداخلت شروع ہوئی تھی۔ ایک دہائی سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی حوثی شکست کھا کر منظر سے غائب نہیں ہوئے۔ ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت سعودی عرب کے لیے بدستور سنگین خطرہ ہے۔ ستمبر میں ایسوسی ایٹڈ پریس نے علاقائی حکام کے حوالے سے خبر دی کہ سعودی عرب کو میزائل روکنے والے ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے اور اس نے اتحادی ملکوں سے دفاعی مدد مانگی ہے۔ apnews.com

یہاں جنگ کی ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ مہنگا اسلحہ خرید لینا اور مسلسل حملوں کے مقابلے میں پورے ملک کو محفوظ رکھنا دو مختلف کام ہیں۔ ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں، شہر اور طویل سرحدیں؛ ہر جگہ حفاظت درکار ہے۔ حملہ آور کو ایک کمزور مقام چاہیے، محافظ کو ہر اہم مقام بچانا ہوتا ہے۔ اس فرق کی قیمت صرف فوجی بجٹ نہیں ادا کرتا۔ مسافر، مزدور، کاروباری ادارے اور عام خاندان بھی ادا کرتے ہیں۔

حوثیوں کے شہری مقامات پر حملوں کی مذمت اس لیے ضروری ہے کہ شہریوں کی جان کسی سیاسی یا فوجی مقصد کی بھینٹ نہیں چڑھائی جاسکتی۔ لیکن ان حملوں کی مذمت سعودی قیادت کو اپنی حکمت عملی کے حساب سے بری نہیں کرتی۔ اتنے طویل تنازع کے بعد بھی اگر امن دور ہے تو جنگ جاری رکھنے کے مقصد، طریقے اور انجام پر سوال اٹھے گا۔ یمنیوں کی تباہی اور سعودی شہریوں کا عدم تحفظ، دونوں اس سوال کو مزید سخت بناتے ہیں۔

اسی مقام پر محمد بن سلمان کا امریکی تعلق بھی آزمائش میں آگیا ہے۔ ستمبر میں رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی۔ اکتوبر کی بعد کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ امریکی حملوں پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ reuters.com امریکی حکام نے دوسری جانب بتایا کہ واشنگٹن سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق مدد دے رہا ہے، مگر براہ راست حملوں کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ABC News

اس کا مطلب تعلقات کا خاتمہ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تعلقات کی حد سامنے آگئی ہے۔ کسی امریکی صدر سے قربت اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ سعودی ضرورت کے وقت اپنی فوج بھی میدان میں اتار دے گا۔ واشنگٹن اپنے مفاد، اپنی ترجیحات اور اپنی سیاسی قیمت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ ریاض کو بھی اپنی سلامتی کا حساب اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر کرنا ہوگا۔

یہ صورت حال اس لیے زیادہ تلخ ہے کہ ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی جنگ کے معاشی اثرات پورے خطے میں پھیل رہے ہیں۔ ۲۲ اکتوبر کو جاری ہونے والے آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کی مجموعی معیشت ۲۰۲۶ء میں ۱٫۳ فیصد سکڑ سکتی ہے۔ توانائی، تجارت، جہاز رانی اور سیاحت متاثر ہوئی ہیں۔ سعودی عرب بھی ان معیشتوں میں شامل ہے جنہیں اب سکڑاؤ کا خطرہ درپیش ہے۔ reuters.com جنگ کے فیصلے چند دارالحکومت کرتے ہیں، مگر ان کا بل پورا خطہ ادا کرتا ہے۔

تاہم سعودی مشکلات کو صرف حالیہ جنگ کا نتیجہ سمجھنا بھی غلط ہوگا۔ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت اور ان کی عملی افادیت پر پہلے سے سوال اٹھ رہے تھے۔ فروری ۲۰۲۶ء میں رائٹرز نے بتایا تھا کہ سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی نئی حکمت عملی میں صنعت، معدنیات، مصنوعی ذہانت اور سیاحت پر زور دیا جارہا ہے، جبکہ ’’دی لائن‘‘ جیسے مہنگے منصوبوں کو محدود یا نئی صورت دینے پر کام ہورہا ہے۔ reuters.com

اکتوبر کے آغاز میں نیوم کے مجوزہ اسٹیڈیم کے بارے میں بھی رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی کہ منصوبہ غیر معینہ مدت کے لیے روک دیا گیا ہے۔ یہ اسٹیڈیم ۲۰۳۴ء کے فٹ بال عالمی کپ کے لیے تجویز کردہ مقامات میں شامل تھا۔ reuters.com کسی غیر ضروری یا ناقابل برداشت منصوبے کو روکنا دانش مندی ہوسکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب حکمران اپنی کامیابی کی پہچان انہی غیر معمولی تعمیرات کو بنادے تو ان کی پسپائی تعمیراتی فیصلے سے بڑھ کر سیاسی سوال بن جاتی ہے۔

اصل امتحان یہ نہیں کہ صحرا میں دنیا کی سب سے حیران کن عمارت کون بناتا ہے۔ امتحان یہ ہے کہ سرمایہ کتنی مستقل ملازمتیں پیدا کرتا ہے، صنعت کتنی مضبوط ہوتی ہے اور سرکاری آمدنی تیل کی قیمتوں سے کتنی آزاد ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف کی ۲۰۲۵ء کی رپورٹ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد مجموعی ملکی پیداوار کے تقریباً ۱٫۶ فیصد بتائی گئی تھی، جبکہ وژن ۲۰۳۰ء کا اصل ہدف ۵٫۷ فیصد تھا۔ رپورٹ نے ضابطوں کی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورت حال سمیت کئی مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ elibrary.imf.org سرمایہ کاروں کی تالیاں اور ان کا مستقل سرمایہ ایک چیز نہیں۔

اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سعودی عرب کی گزشتہ تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ آئی ایم ایف نے جولائی ۲۰۲۶ء میں بتایا تھا کہ ۲۰۲۵ء میں سعودی معیشت ۴٫۶ فیصد بڑھی، مہنگائی دو فیصد سے نیچے آئی اور مالی ذخائر اطمینان بخش رہے۔ ادارے نے معاشی اصلاحات اور بحران برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی سراہا تھا۔ imf.org یہی پیش رفت موجودہ بحران کو زیادہ سنجیدہ بناتی ہے۔ داؤ پر صرف ولی عہد کی تشہیر نہیں، وہ حقیقی معاشی فائدے بھی ہیں جو حاصل ہوئے ہیں۔

محمد بن سلمان کے سامنے اب قیادت کا مشکل ترین کام ہے: اپنے ہی بنائے ہوئے تاثر سے آزاد ہوکر فیصلے کرنا۔ جہاں جنگ نتیجہ نہیں دے رہی، وہاں قابل عمل امن تلاش کرنا ہوگا۔ جہاں منصوبے وسائل سے بڑے ہوگئے ہیں، وہاں ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ اور جہاں امریکی قربت کو تحفظ کی ضمانت سمجھ لیا گیا تھا، وہاں قومی مفاد کی نئی گنتی کرنا ہوگی۔

یہ سب اسی وقت آسان ہوگا جب غلط خبر دینے والے سے زیادہ غلط فیصلہ کرنے والے کا احتساب ہو۔ جب ترقی پر سوال کو ترقی دشمنی نہ سمجھا جائے۔ جب عوام کو صرف افتتاحی تقریبات دکھانے کے بجائے منصوبوں کی لاگت اور فائدے کا حساب بھی دیا جائے۔ بڑے اختیار کی اصل خوبی غلطی سے پاک ہونا نہیں، غلطی درست کرنے کی گنجائش رکھنا ہے۔

۲۰۲۶ء محمد بن سلمان کے لیے اسی گنجائش کا امتحان بن گیا ہے۔ وہ اب بھی بے پناہ وسائل رکھتے ہیں۔ لیکن وسائل کی فراوانی حکمت عملی کی کمی کو ہمیشہ نہیں چھپا سکتی۔ سعودی عرب کا مستقبل اس بات سے طے ہوگا کہ ولی عہد اپنے وعدوں کا قد کتنا بلند رکھتے ہیں نہیں، بلکہ ان وعدوں کو عوام کی محفوظ اور بہتر زندگی میں کتنا بدل پاتے ہیں۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے

آج کی ڈائری

ہفتہ، 17 اکتوبر2026

واقعات کے پس منظر اور تجزیاتی زاویے سے مصدقہ پیشرفتوں کی  یہ ڈائری  یہاں اس لیے پیش کی جارہی ہے تاکہ غیر مصدقہ دعووں…

آج کی ڈائری October 17, 2026 6 منٹ مطالعہ
آج کی ڈائری

ہماری یاد داشت کا ایک ورق

جمعہ، 16 اکتوبر2026ء : آج کی ڈائری کے اہم واقعات و موضوعات بھارت میں انتخابی بے ضابطگیوں کے احتساب کے مسئلے پر تصادم، پاکستان…

آج کی ڈائری October 16, 2026 6 منٹ مطالعہ