تازہ شمارہ
زاویہ

مسلم مُجاہدینِ آزادی جن کو یاد رکھنا ہرہندوستانی پر واجب ہے

ان کی یادیں اس لئے بھی قیمتی ہیں کہ ہم ان کی قربانیوں کے مقروض ہیں اور اس لیے بھی کہ ان میں ہمارے لیے بہت سی روشنی اور بہت سے سبق موجود ہیں۔

کالم کا حصہ
زاویہ
زاویہ September 10, 2026 12 منٹ مطالعہ

ہندوستان کی جنگ آزادی ایک وسیع البنیاد قومی تحریک تھی جو ایک صدی سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی ہے اور مسلم مجاہدین آزادی نے اس جدوجہد میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی قائدانہ خدمات اور مجاہدانہ قربانیاں ہر ہندوستانی کے لیے، خواہ وہ کسی بھی مذہب اور علاقے کا ہو، نا قابل فراموش اور قابل تقلیدہیں۔ ان میں کثیر تعداد علمائے دین، سیاسی و سماجی قائدین، انقلابیوں، فوجیوں، صحافیوں اور سماجی مصلحین کی ہے، جن کے نظریات اور قربانیوں نے تحریک آزادی کو واضح شکل دی اور ہندوستان کو صحیح معنوں میں ایک ملک اور ایک قوم بنایا۔

یہ قائدین مختلف سیاسی روایات و نظریات اور مختلف طریقہائے مزاحمت کی نمائندگی کرتے تھے لیکن ان کی خواہش ایک تھی۔ برٹش حکومت کا خاتمہ اور ایک ایسے ہندوستان کا قیام جہاں انصاف، وقار، خوشحالی اور خود مختاری کا راج ہو۔ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کو ان کے متنوع طریقوں نے تقویت بخشی۔ ان کو اس لیے بھی یاد رکھنا لازمی ہے کہ ہم ان کی قربانیوں کے مقروض ہیں اور اس لیے بھی کہ ان کی جدو جہد میں ہمارے لیے بہت سی روشنی اور بہت سے سبق موجود ہیں۔

ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی(۱۸۵۷ء) اور اس سے پہلے ملک و قوم کے جذبہ حریت کی آبیاری کرنے والوں میں سلطنت دہلی کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر (1775-1862) کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے، جن کو بغاوت کے جرم میں رنگون جلاوطن کیا گیا اور جن کی شاعری آج بھی دلوں میں وطن کی محبت کی شمعیں روشن کرتی ہیں، علامہ فضل حق خیرآبادی جنھوں انگریزوں کی غلامی کے خلاف جہاد کا پہلا فتویٰ دیا اور اپنی آخری سانسوں تک اس پر ڈٹے رہے، بیگم حضرت محل (1820-1879) جنھوں نے دہلی میں بہادرشاہ ظفر کی طرح لکھنؤ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی اور جلاوطنی میں جان دے دی لیکن ہتھیار نہیں ڈالا، حاجی بیگم شہید (ملکہ سہسرام) جنھوں نے راجا کنورسنگھ کے شانہ بہ شانہ انگریزوں سے لوہا لیا اور موت کو گلے لگایا لیکن بابو کنور کا ساتھ چھوڑنے کی پیشکش قبول نہیں کی۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی جنھوں نے فتوی جہاد کے جرم میں کالاپانی کی جلاوطنی اور سزائے قید برداشت، مولانا کافی مرادآبادی جنھوں نے مجاہدین آزادی کی قیادت کے جرم میں قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور نغمۂ آزادی گاتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوم لیا، مولوی احمداللہ شاہ، مولانا فیض احمد بدایونی، جنرل بخت احمد، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، عبد الغفارخان (حاکم جھجر) اور دوسرے انگنت علماء و قائدین جنھوں نے یا تو شہادت کا جام پیا، یا قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں یا پھر جلاوطنی اور گمنامی میں زندگی کے آخری ایام گذارے اور اپنی آنے والی نسلوں کو وہ آدرش دے گئے جن پر چل کر نئے ہندوستان کو وہ معماران وطن ملے جنھوں نے اس جہاز کو ڈوبنے سے بچایا اور طوفانوں سے نکالا۔ ان میں چند کا ذکر یہاں نہایت اختصار سے ملاحظہ کریں:

1۔ مولانا ابوالکلام آزاد (1888-1958)
مولانا ابوالکلام آزاد قومی تحریک کے صف اول کے دانشوروں اور ان قوم پرور رہنماؤں میں سے ایک تھے جنھوں نے اس جدید ہندوستان کی فکری بنیادیں استوار کیں اور آزادی کے بعد اس کی عملی تعبیرات وضع کیں۔ ایک ممتاز عالم، صحافی، اور سیاسی مفکر جنہوں نے ہندو مسلم اتحاد اور ہندوستان کے ثقافتی تنوع کو اس کی قومی شناخت کی بنیاد قرار دیا۔ تحریک عدم تعاون اور ہندوستان چھوڑو تحریک کے دوران مہاتما گاندھی کے شانہ بہ شانہ کام کیا۔ طویل مدتت تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔انڈین نیشنل کانگریس کے سب سے کم عمر صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، سب سے طویل مدت تک کانگریس کے صدر رہے اور آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم ہوئے۔ ان کا نقطہ نظر سیاسی آزادی سے آگے ایک تعلیم یافتہ، سائنسی ذہن رکھنے والی اور ثقافتی طور پر پُراعتماد قوم کی تخلیق تک پھیلا ہوا تھا اور وہ آج بھی ہندوستان کو راہ دکھا رہا ہے۔ یوجی سی، آئی آئی ٹی اور ساہتیہ اکادمی جیسے ادارے ان کے ذہن رسا کی تخلیق ہیں جنھوں نے نئے ہندوستان کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

2۔ مولانا حسرت موہانی (1875-1951)
مولانا حسرت موہانی ایک نامور شاعر، صحافی اور انقلابی رہنما تھے۔ مکمل آزادی (پورن سوراج) کی مانگ سب سے پہلے انہوں نے پیش کی، انقلاب زندہ باد کا نعرہ ہندوستان کو انہوں نے دیا اور اس کو مقبول بنایا۔ نو آبادیاتی حکمرانی کی بے خوف مخالفت کے لیے ان کو ہمیشہ رکھا جائے گا۔ آئین ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے بھی ان کا کردار یادگار ہے۔ ہندومسلم ہم ٓہنگی اور گنگا جمنی تہذیب کے پرجوش وکیل تھے۔ کرشن کی شان میں ان کا کلام اپنی مثال آپ ہے۔ تحریک آزادی میں قیدوبند کی مشقتیں سب سے زیادہ برداشت کرنے والے رہنماؤں میں شامل تھے۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو ادب کو بھی مالا مال کیا اور عشق و محبت، آزادی، مساوات، سماجی انصاف اور حب الوطنی پر مبنی ان کی شاعری ہندوستان کو نسل در نسل متاثر کرتی رہی ہے۔

3۔ مولانا محمد علی جوہر (1878ء-1931ء)
مولانا محمد علی، ان کے بڑے بھائی مولاناشوکت علی (علی برادران) اور ان کی والدہ نے جنگ آزادی میں جسم و جاں کی بازی لگادی تھی۔ جوہر نے کامریڈ (انگریزی) اور ہمدرد (اردو) اخبارات نکالے۔ خلافت تحریک منظم کی اور اس کے ذریعےرائے عامہ کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا، گاندھی جی کو خلافت تحریک کی شکل میں وہ پلیٹ فارم دیا جس نے ان کو ماورائے نسل و مذہب مقبولیت دی اور تحریک عدم تعاون کے دوران گاندھی جی کے شانہ بہ شانہ کام کیا۔ 1920 کی دہائی کے اوائل میں نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف ملک گیر مہم چلائی۔ گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے اس کے باوجود لندن گئے کہ ان کی طبیعت شدید ناساز تھی، برطانوی حکومت سے کہا کہ وہ آزادی لے کر جائیں گے یا پھر اسے ان کو قبر کے لیے زمین دینا ہوگی کیونکہ وہ ایک غلام ملک میں دفن ہونا نہیں چاہتے۔ پھر وہیں ان کا انتقال ہوا اور تدفین کے لیے ان کو بیت المقدس (یروشلم) لے جایا گیا۔

4۔شیخ الہند مولانا محمود حسن (1851-1920)
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، پوری اسلامی دنیا میں قابل احترام مانے جاتے ہیں، برطانوی راج کے خلاف ریشمی رومال تحریک کی قیادت کی۔ انگریزوں کے ذریعے حجاز سے گرفتار کر کے مالٹا میں قید کیے گئے۔ رہائی کے بعد وطن لوٹ کر تحریک خلافت منظم کیا، جمعیۃ علماء ہند کے بانیوں میں شامل تھے، ترک موالات کا فتویٰ دیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے جلسہ تاسیس کا خطبہ صدارت انہوں نے ہی دیا تھا۔

5۔ مولانا عبید اللہ سندھی (1872-1944)
مولاناعبید اللہ سندھی ریشمی رومال تحریک کے قائدین میں شامل تھے۔ افغانستان کو ہجرت کی، راجا مہندر پرتاپ(صدر) اور مولانابرکت اللہ بھوپالی (وزیراعظم) کی قیادت میں پہلی جلاوطن حکومت ہند بنائی، ہندوستان کی بیرون ملک انقلابی کوششوں کو منظم کیا، برطانوی راج کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کئی ملکوں کا سفرکیا۔

6۔ مولانا حسین احمد مدنی (1879-1957)
متحدہ قومیت کے مضبوط وکیل اور جمعیۃ علماء ہند کے رہنما مولانا حسین احمد مدنی نے تحریک آزادی میں ایک سے زائدبار قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پہلی دفعہ اپنے استاذومربی شیخ الہند مولانا محمود حسن کے ساتھ حجاز سے گرفتار کیے گئے۔ دوسری دفعہ بھارت چھوڑو تحریک کے دوران جیل بھیجے گئے۔ دو قومی نظریہ کی سخت مخالفت کے لیے یاد کئے جاتے ہیں۔ اس کے لیے بڑی سخت مخالفتیں اور تنقیدیں جھیلیں لیکن اپنے موقف سے کبھی ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے، تحریک آزادی کے فیصلہ کن مرحلے میں تو تقسیم کے خلاف اپنی ساری صلاحیتیں لگادی تھیں۔

7۔ اشفاق اللہ خان (1900-1927)
اشفاق اللہ خان ہندوستان کے سب سے مشہور انقلابی مجاہدین آزادی میں سے ایک ہیں۔ وہ ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن کے رکن تھے۔ انہوں نے رام پرساد بسمل اور چندر شیکھر آزاد جیسے انقلابیوں کے ساتھ کام کیا۔ 1925 کے کاکوری ٹرین ایکشن میں حصہ لیا جو برطانوی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک کے لیے فنڈز حاصل کرنے کے لیے کی گئی کارروائی تھی۔ گرفتار کر کے سزائے موت سنائی گئی اور صرف ستائیس سال کی عمر میں ان کو پھانسی دے دی گئی۔ ان کی ہمت، شجاعت، حب الوطنی اور قربانی نوجوان ہندوستانیوں کی نسلوں کو متاثر کرتی رہی ہے۔

8۔ حکیم اجمل خان (1868-1927)
مسیح الملک حکیم اجمل خان ایک ممتاز طبیب، ماہر تعلیم اور قوم پرور رہنما تھے۔ تحریک عدم تعاون میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، تعلیمی اصلاحات اور قومی بیداری کے لیے کام کیا، جامعہ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی عوامی خدمت، تعلیم، تہذیب اور بین المذاہب ہم آہنگی کا نمونہ تھی۔

9۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری(1880-1936)
ڈاکٹر ایم اے انصاری ملک کے ایک مشہور طبیب اور انڈین نیشنل کانگریس کے ایک بااثر رہنما تھے۔ خلافت اور عدم تعاون کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور آئینی اصلاحات، جمہوری شراکت داری اور قومی اتحاد کی مسلسل وکالت کی۔ بہت سے سیاسی و سماجی رہنماؤں کی مالی مدد جیب خاص سے کرتے تھے. ان کی قیادت نے تحریک آزادی کے اہم مراحل میں ہندوستانی سماج کے مختلف طبقات کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد کی۔ وہ خلافت تحریک کے سرگرم رہنماؤں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں شامل تھے۔

10۔ خان عبدالغفار خان (1890-1988)
سرحدی گاندھی کے نام سے مشہور خان عبدالغفار خان عدم تشدد کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ایک تھے۔ شمال مغربی سرحدی علاقے میں خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی، جس نے نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف پرامن مزاحمت کے لئے ہزاروں افراد کو متحرک کیا۔ انصاف، خدمت اور انسانی وقار کے اصولوں پر وہ مضبوط اعتقاد رکھتے تھے، انہوں نےاس کے لیے ملک کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کے تئیں ان کی اٹوٹ اور تادم حیات وابستگی نے انہیں امن اور قومی اتحاد کی لازوال علامت بنا دیا۔

11۔ وکوم عبدالقادرمولوی (1873-1932)
وکوم عبدالقادر مولوی کیرالہ کے ایک بااثر سماجی مصلح، صحافی اور قوم پرور رہنما تھے۔ اخبارات اور تعلیمی اقدامات کے ذریعے انہوں نے سماجی اصلاح، جدید تعلیم اور لوگوں میں سیاسی بیداری کو فروغ دیا۔ ان کی عظمت یہ ہے کہ ان کی جدوجہد آزادی کا فکری بیداری اور تعلیمی ترقی سے گہرا تعلق تھا جس کے اثرات کیرل اورجنوبی ہند کے ایک بڑے خطے میں آج بھی نظر آتے ہیں۔

12۔ ڈاکٹر ذاکر حسین (1897۔1969)
ممتاز ماہرِ تعلیم، مجاہدِ آزادی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معمار اور ملک کے تیسرے صدرجمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کا ملک کی تعلیمی پالیسی بنانے اور تعلیمی نظام کو عملی ماڈل دینے میں کلیدی کردار ہے۔ تعلیم کی وردھا اسکیم (1937) کی ترتیب و توضیع کی ذمہ داری گاندھی جی نے ان کو سونپی تھی جو قومی تعلیمی پالیسی کی بنیاد بنی۔

13 ۔مولانا مظہر الحق (1866۔1930)
تحریکِ آزادی کے ممتاز رہنما، ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار اور نامور قانون داں مولانا مظہرالحق نے پٹنہ میں تحریک آزادی کے کارکنان کے لیے صداقت آشرم قائم کیا۔ اس کے لیے گنگا کے کنارے اپنی بیش قیمت وسیع و عریض جائیدادیں وقف کردیں اور تحریک عدم تعاون کے دوران بہار ودیاپیٹھ قائم کیا اور وہ بہار نیشنل کالج کے بانیوں میں بھی شامل تھے جہاں سے ملک و قوم کو نوجوان قائدین کی تازہ دم تعلیم یافتہ نسلیں ملیں۔ بہار میں کانگریس کے دفاتر اور بہار ودیا پیٹھ آج بھی صداقت آشرم میں ہی ہیں.

14 ۔بدرالدین طیب جی (1844ء۔1906ء)
نامور وکیل اور مجاہدِ آزادی بدرالدین طیب جی انڈین نیشنل کانگریس کے تیسرے صدر تھے۔ اپنے قوم پرور نظریات کےلیے تاریخ کے اوراق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے خاندان نے ملک کو مجاہدین آزادی کی کئی نسلیں دیں۔ ملک کے ترنگے قومی پرچم کو موجودہ شکل دینے میں ان کے مشورے اور محترمہ ثریا طیب جی کی فنی مہارت کا کردار بہت اہم تھا، موجودہ ترنگا ثریا طیب جی کا ڈیزائن کیا ہوا ہے.

15 ۔ سیف الدین کچلو (1888۔1963)
پنجاب کے ممتاز مجاہدِ آزادی سیف الدین کچلو جلیانوالہ باغ ستیاگرہ کے سرگرم رہنما تھے جو جنگ آزادی کا ایک اہم، اندوہناک لیکن فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ قومی یکجہتی کے علمبردار تھے۔

سوال یہ ہے کہ ان کو کیوں یاد کیا جائے؟ جواب میں دفتر کے دفتر ناکافی ہوں گے کیوں کہ ان میں ہرشخص ایک مکمل کتاب ہے لیکن اگر مختصر جواب تلاش کریں تو ان رہنماؤں نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے لیے متنوع نقطہ نظر کی نمائندگی کی، مثلاً: مسلح مزاحمت (اشفاق اللہ خان، عبید اللہ سندھی)، عدم تشدد کی عوامی تحریکیں (مولانا آزاد، عبدالغفار خان، مختار انصاری)، مذہبی اور فکری قیادت (عبدالباری فرنگی محلی ،محمود حسن، حسین احمد مدنی)، صحافت اور سیاسی بیداری (محمد علی جوہر، حسرت موہانی)، خواتین کی قیادت (بیگم حضرت محل، والدہ علی برادران ‘بی اماں’)، تعلیمی اور ادارہ جاتی قومی تعمیر (حکیم اجمل خان، مولانا مظہرالحق، ڈاکٹر ذاکر حسین) جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک واقعی ایک جامع قومی جدوجہد تھی جس میں ہندوستانی مسلمانوں نے ہم وطنوں کے ساتھ ہرقسم کی قربانیاں دیں۔ ان کی زندگیاں حب الوطنی، انصاف، اتحاد اور آئینی جمہوریت کے نظریات کی ترغیب دیتی ہیں۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے