تازہ شمارہ
تجارت و معیشت

۱۷۰ کلومیٹر کا خواب: سعودی عرب کے شہرِ مستقبل کو کیا ہوا؟

آئینے کی دیواروں میں نوّے لاکھ انسانوں کو بسانے کا تصور دنیا کو حیران کر گیا تھا۔ پھر تعمیراتی معاہدے منسوخ ہونے لگے اور خواب کی زبان بدل گئی۔ نیوم کی کہانی ہمیں مستقبل کے بارے…

تجارت و معیشت October 4, 2026 10 منٹ مطالعہ

۱۷۰ کلومیٹر کا خواب: سعودی عرب کے شہرِ مستقبل کو کیا ہوا؟

آئینے کی دیواروں میں نوّے لاکھ انسانوں کو بسانے کا تصور دنیا کو حیران کر گیا تھا۔ پھر تعمیراتی معاہدے منسوخ ہونے لگے اور خواب کی زبان بدل گئی۔ نیوم کی کہانی ہمیں مستقبل کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

فرض کیجیے، آپ صبح گھر سے نکلتے ہیں۔ نہ سڑک پار کرنی ہے، نہ ٹریفک میں پھنسنا ہے۔ دفتر، اسکول، اسپتال اور روزمرہ کی ضرورتیں قریب ہیں۔ آپ جس شہر میں رہتے ہیں، وہ دور دور تک پھیلی آبادی نہیں، صحرا کے بیچ کھڑی ایک عظیم الشان عمارت ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں آئینے کی طرح چمکتی ہیں اور اندر زندگی کئی منزلوں میں آباد ہے۔

یہ کسی ناول کا منظر نہیں تھا۔ سعودی عرب نے دنیا کے سامنے ایسا ہی ایک شہر بنانے کا تصور پیش کیا تھا: دی لائن۔

مگر اس خواب میں ایک سوال شروع سے موجود تھا، جسے چمکتی تصویروں کے درمیان آسانی سے نظرانداز کیا جا سکتا تھا: ایسی عمارت بن بھی جائے تو کیا وہ ایک کامیاب شہر بن جائے گی؟

آج، جب نیوم کے بعض بڑے منصوبوں کے معاہدے منسوخ ہو چکے ہیں اور دی لائن کی سرکاری وضاحت مرحلہ وار تعمیر پر زور دے رہی ہے، وہی سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ neom.com

اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ہمیں صحرا سے پہلے اس خواب کے اندر جانا ہوگا۔

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۷ کو محمد بن سلمان نے نیوم کا اعلان کیا۔ شمال مغربی سعودی عرب میں تقریباً ۲۶ ہزار ۵۰۰ مربع کلومیٹر پر محیط اس خطے کے لیے آنے والے برسوں میں ۵۰۰ ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ مقصد صنعت، ٹیکنالوجی اور نئے کاروباروں کے ذریعے سعودی معیشت کو متنوع بنانا تھا۔ یہ رقم مستقبل کی سرمایہ کاری کا اعلان تھی؛ اسے پہلے ہی خرچ ہو چکی رقم سمجھنا درست نہیں۔ the destination for the future

نیوم کو محض ایک شہر سمجھنا بھی غلطی ہوگی۔ یہ کئی منصوبوں پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے۔ لیکن اس کا سب سے مشہور چہرہ دی لائن بنا، جس نے شہری زندگی کی مانوس تصویر ہی بدل دینے کا وعدہ کیا تھا۔

۲۰۲۲ میں پیش کیے گئے ڈیزائن کے مطابق دی لائن ۱۷۰ کلومیٹر طویل، صرف ۲۰۰ میٹر چوڑی اور ۵۰۰ میٹر بلند ہونی تھی۔ آخرکار اس میں نوّے لاکھ لوگوں کو بسانے کا تصور تھا۔ روزمرہ سہولتوں تک پانچ منٹ کی پیدل رسائی اور تیز رفتار ریل سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بیس منٹ میں پہنچنے کا وعدہ بھی اسی خاکے کا حصہ تھا۔ pif.gov.sa

ذرا ٹھہریے: ۱۷۰ کلومیٹر لمبا شہر، مگر چوڑائی صرف ۲۰۰ میٹر!

عام شہر پھیلتے ہیں۔ ان میں نئی سڑکیں، نئی بستیاں اور نئے کاروباری مرکز بنتے ہیں۔ دی لائن کے تصور میں اس پھیلاؤ کو ایک باریک، طویل پٹی میں سمیٹنا تھا۔ زمین پر پھیلنے کے بجائے زندگی اوپر نیچے تہوں میں آباد ہوتی۔ دیکھنے میں یہ خیال اتنا غیرمعمولی تھا کہ اس نے ایک مشکل سوال کو تقریباً پس منظر میں دھکیل دیا: اس کے اندر روزمرہ زندگی کیسے چلے گی؟

کسی عمارت کی تصویر میں اسپتال ایک روشن نشان ہوتا ہے؛ حقیقی زندگی میں وہاں مریض پہنچتے ہیں، ایمبولینس آتی ہے، عملہ ڈیوٹی بدلتا ہے اور سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی طرح اسکول صرف ایک کمرہ نہیں، بچوں، والدین، اساتذہ اور ان کے مختلف اوقات کا پورا نظام ہے۔ ایک شہر میں لاکھوں ایسی ضرورتیں بیک وقت حرکت کرتی ہیں۔

یہ انجینئرنگ اور شہری منصوبہ بندی کا بنیادی مسئلہ ہے: عمارت کی شکل طے کر دینا، اس کے اندر زندگی کی تمام صورتیں طے کر دینا نہیں ہوتا۔

بیس منٹ میں ۱۷۰ کلومیٹر کا سفر بھی ایک دلچسپ حساب سامنے لاتا ہے۔ اس کے لیے اوسط رفتار تقریباً ۵۱۰ کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ اعلان کردہ فاصلے اور وقت سے نکلا ہوا حساب ہے، کسی ٹرین کی مصدقہ رفتار نہیں۔ اگر سفر میں رکنا، مسافر اتارنا اور دوبارہ رفتار پکڑنا بھی شامل ہو، تو نظام پر تقاضے مزید بڑھ جاتے ہیں۔

یوں ایک دلکش وعدہ، انجینئر کے سامنے پہنچتے ہی کئی مشکل سوالوں میں بدل جاتا ہے۔

پھر تعمیر کے بعد کا سوال آتا ہے: لوگ یہاں رہنے کیوں آئیں گے؟

کوئی خاندان صرف عمارت کی شہرت کی وجہ سے اپنا شہر نہیں چھوڑتا۔ اسے روزگار، مناسب رہائش، بچوں کی تعلیم، سماجی تعلقات اور اپنے مستقبل پر اعتماد چاہیے۔ کوئی کاروبار بھی محض اس لیے دفتر نہیں کھولتا کہ کھڑکی سے منظر حیرت انگیز ہے۔ اسے گاہک، کارکن، رسد اور قابلِ اعتماد قواعد درکار ہوتے ہیں۔

شہر کی کامیابی کا امتحان افتتاح کی رات نہیں، اس کے بعد کی عام صبحیں ہوتی ہیں۔

نیوم کی مشکلات کا ایک پہلو مالی تخمینوں سے بھی سامنے آیا۔ مارچ ۲۰۲۵ کی وال اسٹریٹ جرنل رپورٹ نے داخلی دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ ایک مسودۂ پیشکش میں نیوم کو ۲۰۸۰ تک مکمل تصور کے مطابق بنانے کے لیے ۸٫۸ ٹریلین، یعنی ۸۸ کھرب ڈالر کا تخمینہ تھا۔ رپورٹ نے بعض انتظامی افراد کی جانب سے مالی اعداد میں دانستہ ردوبدل کے الزامات بھی نقل کیے۔ یہ خرچ ہو چکی رقم یا عوامی طور پر منظور شدہ حتمی بجٹ نہیں، رپورٹ شدہ تخمینہ اور الزامات تھے۔ wsj.com

اس فرق کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ پھر بھی، اتنا بڑا تخمینہ ایک بنیادی سوال اٹھاتا ہے: کسی تصور کی قیمت کب اتنی بڑھ جاتی ہے کہ خود اس تصور پر دوبارہ غور کرنا لازم ہو جائے؟

اسی مقام پر منصوبے کی انتظامی ثقافت اہم ہو جاتی ہے۔ کسی بھی بڑے ادارے میں اگر کامیابی کی خبر سنانا آسان اور مشکل بتانا نقصان دہ ہو، تو خطرات وقت پر سامنے نہیں آتے۔ جو اعتراض ابتدا میں نقشے کی معمولی اصلاح سے حل ہو سکتا تھا، وہ بعد میں تعمیر، وقت اور سرمائے کا بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ یہ ایک عمومی انتظامی سبق ہے؛ اسے نیوم کے ہر فیصلے کی ثابت شدہ وجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

بڑے خواب کو ایسے ماہرین بھی درکار ہوتے ہیں جو یہ کہہ سکیں: اس حصے کا حساب دوبارہ کیجیے۔

۲۰۲۶ میں سامنے آنے والی بعض تبدیلیاں، تاہم، محض قیاس نہیں رہیں۔

نیوم کے پہاڑی منصوبے تروجینا کو ۲۰۲۹ کے ایشیائی سرمائی کھیلوں کی میزبانی مل چکی تھی۔ مگر ۵ فروری ۲۰۲۶ کو اولمپک کونسل آف ایشیا نے انہی کھیلوں کے لیے قازقستان کے شہر الماتی کے ساتھ میزبانی کا معاہدہ کیا۔ یوں ایک اہم بین الاقوامی تقریب تروجینا کے مستقبل سے الگ ہو گئی۔ anocolympic.org

تروجینا کے بارے میں ایک عام تاثر کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ یہ منصوبہ یکساں گرم، ہموار صحرا میں نہیں، جبل اللوز کے پہاڑی خطے میں ہے، جہاں بلندی ۲۶۰۰ میٹر تک پہنچتی ہے اور سردیوں میں درجۂ حرارت صفر سے نیچے جا سکتا ہے۔ سوال وہاں سردی کے بالکل ناممکن ہونے کا نہیں، ایک وسیع سیاحتی منصوبے کو تعمیر کرنے اور کامیابی سے چلانے کا تھا۔ neom.com

پھر ۲۵ مارچ ۲۰۲۶ کو تعمیراتی کمپنی ویبِلڈ نے اعلان کیا کہ نیوم نے تروجینا میں تین بندوں، ان سے بننے والی میٹھے پانی کی جھیل اور «دی بو» نامی تعمیر کے معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس وقت کام تقریباً ۳۰ فیصد مکمل تھا۔ Webuild Group

۲۱ مئی کو اسی کمپنی نے نیوم کے «کنیکٹر» تیز رفتار ریلوے منصوبے کے معاہدے کی منسوخی بھی بتائی۔ اس کام کی پیش رفت تقریباً ۲۰ فیصد تھی۔ ویبِلڈ نے کہا کہ اس منسوخی کے ساتھ نیوم کے لیے اس کی تمام سرگرمیاں ختم ہو گئی ہیں۔ یہ ایک کمپنی کے کام کے خاتمے کی تصدیق تھی، پورے نیوم کے بند ہونے کا اعلان نہیں۔ Webuild Group

یہاں ایک اور بات غور طلب ہے۔ تعمیر روک دینے سے اس کی مالی ذمہ داریاں لازماً ختم نہیں ہوتیں۔ ویبِلڈ کے مطابق معاہدوں کی شرائط کے تحت پہلے سے کیے گئے کام اور تعمیراتی مقام سے سامان اور عملہ ہٹانے سمیت متعلقہ اخراجات نیوم کو ادا کرنا تھے۔ Webuild Group

یعنی بعض اوقات خواب کو مختصر کرنا بھی ایک مہنگا فیصلہ ہوتا ہے۔

تو کیا نیوم ناکام ہو گیا؟

اس کا جواب ایک لفظ میں دینا اس کہانی کو ضرورت سے زیادہ آسان بنا دے گا۔ بڑے معاہدوں کی منسوخی سنجیدہ پسپائی کی علامت ہے، لیکن نیوم کئی منصوبوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی سرکاری معلومات میں بندرگاہ اور ہوائی اڈے جیسے فعال اثاثے بھی درج ہیں۔ اس لیے پورے خطے کو صرف ایک ترک شدہ کھنڈر قرار دینا دستیاب شواہد سے آگے نکل جانا ہوگا۔ neom.com

البتہ دی لائن کے موجودہ سرکاری تعارف کی زبان غور سے پڑھنے کے قابل ہے۔ اب اسے ایسے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو مرحلہ وار اور طلب کے مطابق آگے بڑھے گا۔ neom.com

اس وضاحت کو ابتدائی بڑے وعدوں کے ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ایک معنی خیز فرق سامنے آتا ہے: اب تعمیر کی رفتار اور وسعت کو ضرورت کے ساتھ جوڑنے پر زور ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا اعتراف ہو سکتی ہے کہ مستقبل کی آبادی اور کاروبار محض اعلان سے پیدا نہیں ہوتے؛ انہیں قدم بہ قدم راغب کرنا پڑتا ہے۔ یہ ہماری تعبیر ہے، منصوبے کی تکمیل کے بارے میں کوئی ضمانت نہیں۔

نیوم کی اصل اہمیت شاید اسی لیے سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر بھی ہے۔ نئے شہر بنانے والے حکمران، بڑے کاروبار شروع کرنے والے سرمایہ کار اور اپنے ادارے کو تیزی سے پھیلانے والے منتظم، سب ایک ہی کشش محسوس کر سکتے ہیں: اگر تصور اتنا شاندار ہے تو دنیا اسے قبول کیوں نہیں کرے گی؟

مگر دنیا کا جواب ہمیشہ تصور کی خوب صورتی کے مطابق نہیں آتا۔ لوگ اپنی ضرورت، استطاعت اور اعتماد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ کامیاب منصوبہ وہ ہوتا ہے جو ان فیصلوں سے سیکھ سکے، اپنے نقشے میں جگہ بنا سکے اور ضرورت پڑنے پر راستہ بدل سکے۔

نیوم کا حتمی انجام ابھی لکھا جانا باقی ہے۔ ممکن ہے اس کے کچھ حصے کامیاب ہوں، کچھ چھوٹے ہو جائیں اور کچھ صرف ابتدائی تصویروں میں باقی رہیں۔ مگر اس کی اب تک کی کہانی ایک بات واضح کرتی ہے: مستقبل کا شہر دکھانا اور مستقبل کا شہر بسانا، دو الگ صلاحیتیں ہیں۔

جب اگلی بار ہم کسی شہرِ مستقبل کی چمکتی تصویر دیکھیں، تو عمارت کی بلندی کے ساتھ ایک عام رہائشی کی صبح بھی تصور کریں۔ وہ کہاں کام کرے گا؟ اس کا بچہ کہاں پڑھے گا؟ اس کی آمدنی میں رہائش کیسے آئے گی؟ اور وہ وہاں رہنے کا فیصلہ کیوں کرے گا؟

جس دن ان سوالوں کے جواب تصویروں جتنے پُرکشش ہو جائیں، اسی دن شہرِ مستقبل واقعی مستقبل کا شہر بننے لگے گا۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے