سات سال پہلے ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابی احمد کو نوبیل امن انعام ملا تھا۔ انہوں نے پڑوسی ملک اریٹیریا سے سرحدی تنازع ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی کوشش کے اعتراف میں انہیں ۲۰۱۹ء کا انعام دیا گیا۔ آج انہی دو ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ جس صلح پر دنیا نے خوشی منائی تھی، وہ دیرپا ثابت نہ ہوسکی۔ [۱]
دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کی ایک بڑی وجہ عصب کی بندرگاہ ہے۔ ایتھوپیا سمندر تک رسائی چاہتا ہے، جبکہ اریٹیریا کو اندیشہ ہے کہ اس بہانے اس کی زمین پر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ تنازع بڑھا تو اس کے اثرات دونوں ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرۂ احمر سے دنیا بھر کا تجارتی سامان گزرتا ہے۔ لیکن بندرگاہ اور تجارت سے پہلے ان لوگوں کی فکر ضروری ہے جنہیں ایک اور جنگ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
یکم اکتوبر کو ایتھوپیا نے اریٹیریا کے دارالحکومت اسمرا میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا حکم دیا۔ دس اریٹیریائی سفارت کاروں کو بھی اڑتالیس گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کو کہا گیا۔ جواب میں اریٹیریا نے سفارتی تعلقات توڑ دیے۔ ایتھوپیا کا الزام ہے کہ اریٹیریا، مصر اور سوڈان اس کے مسلح مخالفین کی مدد کررہے ہیں۔ تینوں ملکوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ [۲]
لڑائی کے دوران بات چیت کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے۔ سفارتی رابطے ختم ہوجائیں تو کسی غلط فہمی کو دور کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے میں ایک غلط اندازہ حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔
۷ اکتوبر کو رائٹرز نے شمالی ایتھوپیا کے شہر ادیگرات میں اریٹیریائی فوجیوں کی آمد کی خبر دی۔ اس نے وہاں کے لوگوں اور ماہرین کے بیانات کا حوالہ دیا۔ اگلے روز ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی فوجیوں کی آمد اور ڈرون حملوں کی اطلاعات دیں۔ اس کے ذرائع میں حکومت کا حامی ایک کمانڈر اور جنگی واقعات پر نظر رکھنے والا ادارہ ACLED شامل تھے۔ خبر رساں ادارے نے واضح کیا کہ وہ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔ حالات تشویش ناک ہیں، مگر ہر اطلاع کو تصدیق شدہ خبر نہیں سمجھا جاسکتا۔ [۳،۴]
یہاں ایک بات سمجھ لینا ضروری ہے۔ ایتھوپیا پہلے ہی سمندر کے راستے تجارت کرتا ہے۔ عالمی بینک کی جولائی ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق، سامان کی مقدار کے لحاظ سے اس کی درآمدات اور برآمدات کا ۹۵ فیصد سے زیادہ حصہ ادیس ابابا–جبوتی راستے سے گزرتا تھا۔ یہ اعداد اُس وقت کے ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایتھوپیا اپنی بیرونی تجارت کے لیے اس راستے پر کس قدر انحصار کرتا تھا۔ [۵]
ایتھوپیا کی یہ خواہش قابلِ فہم ہے کہ اس کے پاس تجارت کے لیے دوسرے راستے بھی ہوں۔ لیکن کسی بندرگاہ کو استعمال کرنے کا حق ملنا اور اس کا مالک بن جانا الگ باتیں ہیں۔ دوسرے ملک کی بندرگاہ معاہدے یا کرائے پر بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔ اس کے انتظام میں دونوں ملک شریک ہوسکتے ہیں۔ ایسا بندوبست کرنے کے لیے سرحد بدلنے کی ضرورت نہیں۔
اس کے لیے دونوں ملکوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ضروری ہے۔ ایتھوپیا کو اطمینان ہونا چاہیے کہ اس کی تجارت نہیں روکی جائے گی۔ اریٹیریا کو بھی یقین ہونا چاہیے کہ بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت، اس کی زمین پر حق جتانے کا ذریعہ نہیں بنے گی۔
۱۹۹۳ء میں اریٹیریا آزاد ہوا تو ایتھوپیا سمندر سے براہِ راست رسائی سے محروم ہوگیا۔ ابی احمد نے ۵ اکتوبر کو سمندری رسائی کا مطالبہ دہرایا۔ ایتھوپیا اسے پرامن طریقے سے حاصل کرنے کی بات کرتا ہے۔ اریٹیریا کو ڈر ہے کہ عصب پر زبردستی قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ [۶،۷]
اس دوران ایتھوپیا کے اندر بھی لڑائی دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔ ستمبر میں تگرائے کی مقامی فورسز نے ہوائی اڈوں پر قبضہ کیا اور مرکزی فوج سے لڑائی ہوئی۔ ۲۰۲۲ء میں ہونے والا پریٹوریا امن معاہدہ پہلے ہی اختلافات کا شکار تھا۔ اسی معاہدے سے پچھلی جنگ ختم ہوئی تھی۔ اریٹیریا اس معاہدے میں شامل نہیں تھا، حالاں کہ جنگ میں اس کی فوج ایتھوپیا کی حکومت کے ساتھ لڑی تھی۔ [۷]
اس بار اتحاد بھی بدل گئے ہیں۔ رائٹرز کی ۲۱ ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، سات مسلح گروہوں نے ابی احمد کی حکومت ہٹانے کے لیے اتحاد بنایا۔ اس میں تگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ، یعنی TPLF، اور امہارا فانو نیشنل موومنٹ بھی شامل ہیں۔ فانو پچھلی جنگ میں TPLF کے خلاف لڑا تھا۔ اب دونوں ایک اتحاد میں شامل ہیں، لیکن زمین اور سیاست سے متعلق ان کے اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ [۸]
حکومت کی مخالفت نے انہیں یکجا تو کردیا ہے، مگر ملک چلانے کے لیے صرف یہ اتفاق کافی نہیں ہوگا۔ اقتدار کی تقسیم، مختلف علاقوں کے حقوق اور پرانے جھگڑوں کے حل پر بھی اتفاق چاہیے۔ ورنہ آج کے اتحادی کل پھر ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا سکتے ہیں۔
مرکزی حکومت کے لیے بھی صرف فوجی کامیابی کافی نہیں۔ کسی شہر پر قبضہ کرلینے سے وہاں کے لوگوں کی شکایات دور نہیں ہوجاتیں۔ انہیں تحفظ اور انصاف چاہیے۔ اپنے مستقبل کے فیصلوں میں ان کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے۔ یہ مسائل حل نہ ہوں تو لڑائی دوبارہ شروع ہونے کا اندیشہ باقی رہتا ہے۔
ان سیاسی اور فوجی حساب کتاب میں عام لوگوں کا نقصان اکثر نظرانداز ہوجاتا ہے۔ جنگ کا انجام صرف اس سے طے نہیں ہوتا کہ کون جیتا اور کس نے کتنی زمین حاصل کی۔ یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کتنے گھر اجڑے اور کتنے لوگ جان سے گئے۔
پچھلی تگرائے جنگ میں مرنے والوں کی تعداد کے مختلف اندازے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے گینٹ یونیورسٹی کے محققین کا اندازہ نقل کیا۔ اس کے مطابق تشدد، بھوک اور علاج کی سہولتیں تباہ ہونے سے پانچ لاکھ شہری ہلاک ہوئے۔ یہ تحقیقی اندازہ ہے، ہر موت کی الگ تصدیق پر مبنی گنتی نہیں۔ اس کے باوجود اس سے انسانی نقصان کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ جنگ میں گولیوں کے علاوہ بھوک اور علاج نہ ملنے سے بھی لوگ مرتے ہیں۔ [۹]
۵ اکتوبر کو رائٹرز نے امدادی اداروں کی ایک رپورٹ کے حوالے سے فضائی حملوں میں کم از کم سترہ اموات کی خبر دی۔ وہ خود اس کی تصدیق نہیں کرسکا۔ رپورٹ میں حملہ کرنے والے فریق کا نام بھی نہیں تھا۔ اس لیے ان اموات کو حتمی تعداد ماننا یا کسی فریق کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ [۱۰]
خطے کے دوسرے تنازعات بھی اس لڑائی کو بڑھا سکتے ہیں۔ رائٹرز کے ۲ اکتوبر کے تجزیے میں سوڈان کی جنگ، نیل کے پانی پر اختلافات اور خلیجی ملکوں کی مقابلہ آرائی کا ذکر ہے۔ مصر اور سوڈان کو ایتھوپیا کے بڑے ڈیم پر اعتراضات ہیں۔ بیرونی مدد اور بدلتے اتحادوں کے باعث لڑائی دوسرے علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ البتہ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ تمام پڑوسی ملک جنگ میں شریک ہوجائیں گے۔ [۱۱]
بڑی طاقتوں کی پالیسیوں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ رائٹرز کی ۵ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے ستمبر میں اریٹیریا پر عائد پابندیاں ہٹائیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اس فیصلے کی وجہ اپنے علاقائی مفادات کو قرار دیا۔ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ہونے کی وجہ سے اریٹیریا کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس فیصلے پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ سیاسی اور فوجی فائدہ نظر آنے لگے تو انسانی حقوق کے بارے میں بڑی طاقتوں کا رویہ کیوں بدل جاتا ہے؟ [۱۲]
ان کے مفادات اور دوہرے معیار پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔ لیکن الزامات کی بنیاد ثبوت ہونے چاہییں۔ حکومتوں کے فیصلوں، ہتھیاروں کی فراہمی اور سفارتی تعلقات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہر واقعے کو کسی خفیہ منصوبے کا حصہ قرار دے دینا کافی نہیں۔
بیرونی مداخلت کا حوالہ دے کر مقامی حکمران بھی اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ عوام کی آواز دبانے والی حکومت ہو یا شہریوں کی جان خطرے میں ڈالنے والا مسلح گروہ، دونوں سے جواب طلب ہونا چاہیے۔ کسی طاقتور ملک کی حمایت انہیں اس ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتی۔
ہندوستان کے لیے بھی اس خطے میں امن اہم ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے UNCTAD کے مطابق، ۲۰۲۳ء میں عالمی تجارت کا تقریباً ۱۲ سے ۱۵ فیصد حصہ نہرِ سوئز سے گزرا تھا۔ یہ اعداد اس راستے کی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔ بحیرۂ احمر میں بدامنی بڑھی تو جہازوں کے سفر، بیمے اور سامان کی ترسیل پر خرچ بڑھ سکتا ہے۔ اس کا اثر دوسرے ملکوں پر بھی پڑسکتا ہے۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس وجہ سے ہندوستان میں کسی خاص چیز کی قیمت ضرور بڑھے گی۔ [۱۳]
مسلمانوں کی تاریخ میں حبشہ کا ذکر پناہ اور انصاف کے حوالے سے آتا ہے۔ لیکن اس تاریخی تعلق کی بنا پر آج کے تنازع کو مذہبی رنگ نہیں دیا جاسکتا۔ ہر انسان کی جان قیمتی ہے، چاہے اس کا مذہب یا نسل کچھ بھی ہو۔ تگرائے، امہارا یا اریٹیریا کے عوام کو اپنے حکمرانوں کے ہر فیصلے کا ذمہ دار ٹھہرانا ناانصافی ہوگی۔
جنگ روکنے کی کوششیں بھی جاری رہنی چاہییں۔ افریقی یونین نے یکم اکتوبر کو ایتھوپیا، اریٹیریا اور مصر سے تحمل کی اپیل کی۔ اس نے رابطے برقرار رکھنے اور بات چیت سے اختلافات حل کرنے پر زور دیا۔ [۱۴]
ہماری نظر میں سب سے پہلے عام لوگوں کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔ امداد پہنچانے والوں کے لیے راستے محفوظ کیے جائیں۔ جنگی واقعات کی جانچ ایسے اداروں سے کرائی جائے جو کسی فریق کے حامی نہ ہوں۔ دونوں حکومتیں براہِ راست بات چیت بحال کریں۔ بندرگاہ کے استعمال کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے، تاکہ سرحدوں کے بارے میں اندیشے بھی دور ہوں۔
امن معاہدے کی مضبوطی اختلاف کے وقت ہی معلوم ہوتی ہے۔ حالات سازگار ہوں تو صلح کے اعلانات آسان ہوتے ہیں۔ اصل امتحان تب ہوتا ہے جب حکومتیں دباؤ میں ہوں اور انہیں فوجی کارروائی آسان راستہ دکھائی دینے لگے۔ ایسے وقت میں بات چیت جاری رکھنا ہی امن کی سنجیدہ کوشش ہے۔
عصب کی بندرگاہ سے تجارت کا راستہ کھل سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ایتھوپیا اور اریٹیریا کو ایک دوسرے کے خدشات سمجھنا ہوں گے۔ ایتھوپیا کی ترقی بھی ضروری ہے اور اریٹیریا کی خودمختاری کا احترام بھی۔ دونوں مقصد بات چیت سے حاصل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
ایک بندرگاہ کی خاطر جنگ چھڑ گئی تو نقصان صرف محاذ پر نہیں ہوگا۔ لوگ گھروں سے محروم ہوں گے، بچوں کی تعلیم رکے گی اور علاج و روزگار کے مسائل بڑھیں گے۔ سمندر تک پہنچنے کی خواہش رکھنے والوں کو پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں اس کوشش میں لاکھوں لوگوں کی زندگی اجڑ نہ جائے۔
حوالہ جات
[۱] Norwegian Nobel Committee، ۲۰۱۹ء — https://www.nobelprize.org/prizes/peace/2019/press-release/
[۲] Reuters، یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء — https://www.reuters.com/world/africa/explosions-heard-overnight-ethiopias-capital-diplomatic-sources-say-2026-10-01/
[۳] Reuters، ۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء — https://www.reuters.com/world/africa/eritrean-troops-drive-through-northern-ethiopian-town-witnesses-say-2026-10-07/
[۴] Associated Press، ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ء — https://apnews.com/article/ethiopia-eritrea-tigray-mekelle-shire-tplf-drones-6d89a0f53f527fb45d21637c5d9a0179
[۵] World Bank، ۲۰ جولائی ۲۰۲۳ء — https://www.worldbank.org/en/news/press-release/2023/07/20/addis-djibouti-corridor-to-get-major-upgrade-that-is-key-to-unlocking-connectivity-and-trade-for-ethiopia-afe-hoa
[۶] Reuters، ۵ اکتوبر ۲۰۲۶ء؛ سمندری رسائی سے متعلق بیان — https://www.reuters.com/world/africa/airstrikes-artillery-hit-north-ethiopia-after-tigray-capitals-fall-aid-sources-2026-10-05/
[۷] Reuters، ۲۳ ستمبر ۲۰۲۶ء — https://www.reuters.com/world/africa/why-new-war-ethiopias-tigray-threatens-trigger-wider-conflict-2026-09-23/
[۸] Reuters، ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶ء — https://www.reuters.com/world/africa/seven-ethiopian-armed-groups-announce-anti-government-alliance-2026-09-21/
[۹] Associated Press، ۵ اکتوبر ۲۰۲۶ء — https://apnews.com/article/ethiopia-red-sea-tensions-eritrea-egypt-sudan-bad74909a59297de524fdf377f0605c2
[۱۰] Reuters، ۵ اکتوبر ۲۰۲۶ء؛ ہلاکتوں سے متعلق غیر مصدقہ اطلاع — https://www.reuters.com/world/africa/airstrikes-artillery-hit-north-ethiopia-after-tigray-capitals-fall-aid-sources-2026-10-05/
[۱۱] Reuters، ۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء — https://www.reuters.com/world/africa/why-renewed-fighting-ethiopias-tigray-risks-regional-war-2026-10-02/
[۱۲] Reuters، ۵ اکتوبر ۲۰۲۶ء؛ اریٹیریا اور امریکی پابندیاں — https://www.reuters.com/world/iran-war-smolders-shunned-eritrea-looks-come-cold-2026-10-05/
[۱۳] UNCTAD، جنوری ۲۰۲۴ء؛ ۲۰۲۳ء کے تجارتی اعداد — https://unctad.org/news/red-sea-black-sea-and-panama-canal-unctad-raises-alarm-global-trade-disruptions
[۱۴] African Union، یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء — https://www.au.int/en/pressreleases/20261001/statement-auc-escalating-tensions-between-ethiopia-eritrea-and-egypt








