- کتاب: قرآن مجیداوربائبل میں پیغمبروں کا کردار: ایک موازنہ
- مصنف: پروفیسر عبدالرحیم قدوائی
- ناشر: خلیق احمدنظامی مرکز علوم القرآن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
- مبصر: پروفیسر اخترالواسع(سابق صدر (وائس چانسلر)،مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور)
تقابلِ ادیان کی دنیا میں بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جو محض دو مذہبی متون کے موازنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان مذاہب کے بنیادی تصورات، تصورِ خدا، تصورِ انسان، تصورِ نبوت اور نظام اخلاق وشریعت کو سمجھنے کی کلید بن جاتے ہیں۔ پیغمبروں کی شخصیت اور کردار بھی ایسا ہی ایک بنیادی موضوع ہے۔ اسی اہم موضوع کو مرکز بنا کر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی تصنیف ’’قرآن مجید اور بائبل میں پیغمبروں کا کردار: ایک موازنہ‘‘ سامنے آتی ہے۔یہ کتاب اس اعتبار سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ مصنف نے قرآن مجید اور بائبل میں مشترک پیغمبروں کی تفصیلات ذاتیہ کو سامنے رکھ کر یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ دونوں مقدس صحائف پیغمبروں کو کس زاویے سے پیش کرتے ہیں۔ کتاب کا بنیادی موضوع تقریباً بیس مشترک پیغمبروں کی شخصیت و کردار کا تقابلی مطالعہ ہے اور مصنف نے خصوصاً بائبل میں بعض پیغمبروں سے منسوب اخلاقی کمزوریوں اور قرآن مجید میں انبیائے کرام کی عصمت و تقدیس کے فرق کو نمایاں کیا ہے۔
پروفیسرعبدالرحیم قدوائی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبۂ انگریزی کے پروفیسر رہے ہیں ،مطالعات قرآن و قرآنیات سے ان کی گہری دلچسپی شہرہ آفاق ہے۔ وہ خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن کے اعزازی ڈائریکٹر ہیں، لیسٹر یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور انگریزی ادب میں دو دوڈاکٹریٹ کی اسناد رکھتے ہیں۔ قرآن مجید اور اسلامیات کے موضوع پر ان کی متعدد محققانہ تصانیف اور مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے علمی کام کا ایک نمایاں پہلو قرآن مجید کے انگریزی تراجم اور مغربی علمی روایت کا مطالعہ ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کے 120 مکمل انگریزی تراجم کا تنقیدی مطالعہ کیا ہے ۔ اردو، عربی اور انگریزی میں ان کی ‘ اسلام اہلِ مغرب کی نظر میں’،’ جہاتِ قرآنیات’،’ جلوۂ دانشِ فرنگ’،’ الإسلام فی عیون الغرب’،’ اضاءات قرآنیة ‘اور ‘تراجمِ قرآن کی طرف (Towards Translating The Qur’an)’ جیسی معرکۃ الآراتصانیف شامل ہیں۔ مصنف کا یہ علمی پس منظر تقاضا کرتا ہے کہ زیرِ نظر کتاب کو محض ایک روایتی مناظرانہ تصنیف سمجھنے کے بجائے قرآن، بائبل اور مغربی مطالعاتِ قرآن کاایک مستند تقابلی مطالعہ اور ایک بیش قیمت علمی خدمت کے طور پرسنجیدگی سے لیا جائے۔
کتاب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے پیغمبروں کے حالات و کردار بائبل سے اخذ کیے ہیں جیسا کہ بعض مغربی اہلِ علم کا یہ دعویٰ صدیوں سے فضا میں ہے؟مصنف نے اس سوال کا جواب محض نظری استدلال سے دینے کے بجائے دونوں کتابوں کے متعلقہ متون کو آمنے سامنے رکھنے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ان کے نزدیک اگر قرآن مجید بائبل سے ماخوذ ہوتا تو دونوں صحائف میں پیغمبروں کے کردار، ان کے اقوال و اعمال، ان کے تصورِ حیات اور ان کے اخلاقی مقام میں اس قدر بنیادی فرق نہ پایا جاتا۔مصنف نے لکھا ہے کہ تقابل کا زیادہ معروضی طریقہ یہ ہے کہ دونوں صحائف کے اصل متون کو سامنے رکھا جائے اور ان کی تشریحات و تاویلات کو حتی الامکان بحث سے الگ رکھا جائے تاکہ قاری براہِ راست متون کے موازنے سے نتیجہ اخذ کر سکے۔
کتاب کی ترتیب بھی اس کے منہج کی آئینہ دار ہے۔ پہلے باب میں قرآن مجید کے بائبل سے اخذ کیے جانے کے مغربی دعوے کا پس منظر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ، حضرت ایوبؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسماعیلؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت لوطؑ، حضرت یعقوبؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت ہارونؑ، حضرت داؤدؑ، حضرت سلیمانؑ، حضرت زکریاؑ، حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کے احوال و کوائف کا تقابل کیا گیا ہے۔ حضرت مریمؑ کے لیے بھی مستقل باب شامل ہے۔آخر میں عقیدۂ عصمتِ انبیاء کے تناظر میں مجموعی موازنہ، بائبل میں پیغمبروں سے منسوب کبیرہ گناہوں ، قرآن و بائبل میں مذکور پیغمبروں کی فہرست، مشترک انبیاء کے اعداد و شمار اور قرآن مجید اور بائبل کے امتیاز پر مستقل ضمیمے شامل کیے گئے ہیں۔یہ ترتیب قاری کو جزوی موازنے سے کلی نتیجے تک لے جاتی ہے۔
کتاب کا سب سے اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ قرآن اور بائبل میں کسی پیغمبر کا نام مشترک ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قرآن نے اس کا بیان بائبل سے نقل کیا ہے۔ دونوں صحائف میں تقریباً بیس پیغمبروں کے بیانیے ملتے ہیں لیکن ان کے نزدیک یہ مماثلت بنیادی طور پر ناموں تک محدود ہے۔ خدا سے تعلق، کردار و اعمال، تصورِ زندگی، مقصدِ حیات اور اخلاقی رویے کے اعتبار سے دونوں صحائف میں ان شخصیتوں کی تصویر کشی میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے بلکہ وہ متضاد ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کا تقابلی مطالعہ ایک اہم علمی سوال پیدا کرتا ہے،اگر قرآن واقعی سابقہ صحیفے کی محض نقل ہوتا تو اس میں سابقہ بیانیوں کی بنیادی ساخت کیوں تبدیل ہوتی؟ پیغمبروں کے کرداروں کو اخلاقی طور پر بلند تر مقام کیوں دیا جاتا؟ اور ان کے واقعات میں ایمان، تقویٰ، آخرت، اخلاق اور انسانی ذمہ داری کے ایسے پہلو کیوں ہوتے جو سابقہ بیانیوں میں موجود نہیں ہیں؟ مصنف اس فرق کو قرآن مجید کی انفرادیت اور ابتکاریت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
کتاب کے عنوان میں ’’کردار‘‘ اور عرضِ مصنف میں ’’بیانیے‘‘ کا استعمال بھی معنی خیز ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ’’پیغمبروں کے قصے‘‘ کے بجائے ’’پیغمبروں کے بیانیے‘‘ کی اصطلاح کو ترجیح دی، کیونکہ قرآن مجید میں بیان کیے گئے واقعات ان کے نزدیک محض قصہ یا داستان نہیں بلکہ حقیقی واقعات اور ہدایت کے حامل بیانات ہیں۔قرآن مجید میں انبیائے کرام کا ذکر اسی لیے محض تاریخی معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں آتا۔ ان کے حالات میں انسان کے لیے ایمان، صبر، توکل، عدل، تقویٰ، دعوت، قربانی اور حق پر استقامت کے نمونے موجود ہیں۔ اس اعتبار سے قرآن کےپیغمبران کرام علیھم السلام محض ماضی کی کسی قوم کےرہنما نہیں بلکہ انسانوں کے لیے اسوۂ ہدایت ہیں۔یہی زاویہ بائبل کے ان بیانیوں سے ایک بنیادی امتیاز پیدا کرتا ہے جن میں انبیاء سے ایسے اعمال منسوب کیے گئے ہیں جو اخلاقی اور دینی اعتبار سے انتہائی پست ہیں۔
قرآن مجید پیغمبروں کو ایسے مقدس اور قابلِ اتباع کردار کے طور پر پیش کرتا ہے جو انسانوں کی رہنمائی کے لیے منتخب کیے گئے ہیں، جب کہ بائبل کے بیانیوں میں جلیل القدر پیغمبروں سے ایسے گناہ منسوب کیے گئے ہیں جو نبوت کے تصور اور اخلاقی قیادت کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔اسی موضوع کو کتاب کے خاتمے میں عقیدۂ عصمتِ انبیاء کے تناظر میں دوبارہ سمیٹا گیا ہے، جب کہ ایک مستقل ضمیمے میں بائبل میں پیغمبروں سے منسوب کبیرہ گناہوں کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہاں کتاب کا تقابلی منہج محض مذہبی دفاع نہیں رہتا بلکہ تصورِ نبوت کے دو مختلف تصورات کو سمجھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ قرآنی تصور میں نبی اللہ کا منتخب بندہ، وحی کا امین، اخلاقی نمونہ اور انسان کی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کی شخصیت میں اخلاقی پاکیزگی اور دینی اعتبار سے قابلِ اعتماد ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی تصور بائبل میں پیغمبروں سے متعلق روایات کے مقابلے میں قرآن مجید کو نمایاں امتیاز عطا کرتا ہے۔
کتاب کا ایک اہم استدلال یہ بھی ہے کہ بائبل کے بیانیوں میں بعض مقامات پر پیغمبر بنیادی طور پر بنی اسرائیل کی قومی تاریخ کے کردار دکھائی دیتے ہیں، جب کہ قرآن مجید انبیائے کرام کو ایک وسیع تر آفاقی سلسلۂ ہدایت کا حصہ بناتا ہے۔ قرآن میں پیغمبر کسی مخصوص قوم کے تاریخی ہیرو ہی نہیں بلکہ توحید، اخلاق، عدل اور آخرت کی تعلیم کے داعی ہیں۔یہ فرق قرآن کے تصورِ رسالت کو سمجھنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن میں انبیاء کا سلسلہ ایک وحدتِ دعوت کی صورت میں سامنے آتا ہے، مختلف زمانے، مختلف اقوام اور مختلف حالات، مگر بنیادی دعوت ایک ،اللہ کی بندگی، اخلاقی ذمہ داری اور آخرت کی جواب دہی۔
اس تصنیف کی ایک قابلِ ذکر خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے بائبل اور قرآن مجید کے متعلقہ اقتباسات کو حوالوں کے ساتھ یکجا کیا ہے۔ دونوں متون کو ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو رکھا ہے تاکہ قاری خود ان کے درمیان فرق محسوس کر سکے۔بائبل کے لیے بائبل سوسائٹی آف انڈیا، بنگلور کے اردو ترجمے اور قرآن مجید کے لیے مدینہ منورہ کے مرکزتراجم قرآن کمپلیکس سے شائع شدہ محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کو پیش نظر رکھا گیا ہےتا کہ کتاب میں بائبل اور قرآن کی تفسیری شروحات کے بجائےبنیادی متن کو تقابل کے لیے سامنے رکھا جائے ۔ یہ طریقۂ کار کتاب کو محض خطیبانہ یا تاثراتی تحریر بننے سے بچاتا ہے اور اسے متنی تقابل کی طرف لے جاتا ہے۔
قرآن مجید کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ بائبل کا سرقہ یا ناقص چربہ ہے، مستشرقین مغرب کاایک بہت پرانا مغالطہ ہے۔ ابتدائی مسیحی ناقدین سے لے کر جدید مستشرقین اور ریوائزنسٹ تک جس کو دیکھیے وہی اس مغالطے کو دوہراتا نظر آتا ہے۔آج کے ملحدین بھی بڑے زور شورسے اس مغالطے کو دلیل بناتے ہیں۔ یہ کتاب اس دعوے اور مغالطے کا جواب پیغمبروں کے کردار کے مطالعے سے دینے کی کوشش ہے۔مصنف کا استدلال یہ ہے کہ اگر قرآن بائبل کی نقل ہوتا تو انبیائے کرام کے بارے میں دونوں متون میں اس قدر بنیادی اور اخلاقی نوعیت کا فرق کیوں ہوتا۔اردو میں تقابلِ ادیان پر متعدد کتابیں موجود ہیں، تاہم مصنف کی اس کاوش نے اس موضوع پر ایک خلا کی نشاندہی کی اور اس کو پرکیا۔ اردو میں بائبل اور قرآن مجید میں پیغمبروں کی تصویر کشی کے منظم، تفصیلی اور متنی تقابل پر اس شرح و بسط سے کام کم ہوا ہے۔ مصنف مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا عبد الماجد دریابادی، مولانا تقی عثمانی اور دیگر اہلِ علم کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی کاوش کو اسی علمی روایت کی ایک کڑی قرار دیتے ہیں۔ کتاب کا حاصلِ مطالعہ صرف یہ نہیں کہ قرآن اور بائبل میں پیغمبروں کے حالات مختلف انداز میں بیان ہوئے ہیں، بلکہ مصنف کے نزدیک یہ اختلاف دونوں کتابوں کے مجموعی مذہبی تصور کو بھی واضح کرتا ہے۔قرآن مجید میں پیغمبر توحید کے داعی، وحی کے امین، اخلاقی رہنما اور انسانیت کے لیے اسوہ ہیں۔ ان کے واقعات میں تاریخ کے ساتھ ہدایت، واقعے کے ساتھ عبرت اور کردار کے ساتھ اخلاقی تعلیم ہے۔اس کے مقابلے میں بائبل کے بیانیوں میں ایسے کردار اور واقعات موجود ہیں جنہیں تصورِ نبوت کےباوصف قبول کرنا دشوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف کے نزدیک دونوں متون کا موازنہ محض چند تاریخی واقعات کا تقابل نہیں رہتا بلکہ عقیدۂ نبوت اور تصورِ وحی کے بنیادی فرق کو واضح کرتا ہے۔
اس کتاب کا مطالعہ ان قارئین کے لیے بالخصوص مفید ہے جو قرآن مجید کو مغربی مطالعاتِ قرآن کے تناظر میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ تاہم کتاب کا اپنا منہج یہ ہے کہ قاری پہلے اصل متون کو دیکھے اور پھر نتیجہ اخذ کرے۔ اس اعتبار سے اس کی افادیت صرف ان قارئین تک محدود نہیں جو مصنف کے مذہبی مقدمے سے پہلے ہی متفق ہوں بلکہ تقابلِ ادیان کے طلبہ اور محققین بھی اس میں موجود متنی مواد سے استفادہ کر سکتے ہیں۔البتہ اس نوع کے تقابلی مطالعے میں ایک بنیادی علمی احتیاط ہمیشہ ضروری رہتی ہے۔ کسی مذہبی متن کے بارے میں تاریخی، تدوینی اور اعتقادی دعووں کو الگ الگ سطحوں پر دیکھا جائے۔
’’قرآن مجید اور بائبل میں پیغمبروں کا کردار: ایک موازنہ‘‘پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی ایک ایسی تحقیقی کاوش ہے جس میں تقابلِ ادیان کے ایک اہم اور حساس موضوع کو متنی شواہد کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ مصنف نے قرآن اور بائبل میں مشترک پیغمبروں کے ناموں کی مماثلت سے آگے بڑھ کر ان کی شخصیت، کردار، اخلاق، مقصدِ حیات اور تصورِ نبوت کا تقابل کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ محض مشترک ناموں یا مشترک واقعات کی موجودگی کو ماخذ اور سرقے کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ دونوں صحائف ان شخصیتوں کو کس طرح پیش کرتے ہیں، ان کے کردار کو کیا اخلاقی مقام دیتے ہیں اور ان کے واقعات سے کیا مذہبی و اخلاقی نتائج اخذ کرتے ہیں۔ اسی لیے یہ کتاب صرف انبیائے کرام کے تذکروں کا موازنہ نہیں بلکہ دراصل دو مذہبی متون کے تصورِ وحی، تصورِ نبوت، تصورِ اخلاق اور تصورِ ہدایت کے مابین فرق کو سمجھنے کی ایک کوشش بھی ہےاور یقیناً یہی اس کتاب کی سب سے بڑی معنویت ہے کہ یہ قاری کو محض یہ نہیں بتاتی کہ قرآن اور بائبل میں کیا فرق ہے، بلکہ اسے دونوں متون کو سامنے رکھ کر پڑھنے اور خود فرق محسوس کرنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ مصنف کے اپنے الفاظ میں اس تصنیف کا مقصد قرآن مجید کے منزل من اللہ اور کلام اللہ ہونے کے بارے میں اہلِ ایمان کے یقین کو مزید مستحکم کرنا ہے۔یوں یہ کتاب اردو میں تقابلِ ادیان، مطالعاتِ قرآن اور خصوصاً تصویرِ پیغمبر اور عصمتِ انبیاء کے موضوع پر ایک گرانقدر قابلِ مطالعہ تحقیقی اضافہ قرار پاتی ہے۔ ساڑھے چار سو صفحات پر پھیلی ہوئی اسا کتاب کو جس اہتمام سے مرکزعلوم قرآن ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے طباعت و اشاعت کی منزلوں سے گزارا ہے، وہ اسی کا حصہ ہے اور ہم اس کے لیے پروفیسر عبدالرحیم قدوائی ،ان کے رفقائے اور مرکز کے دیگر ذمہ دران کو دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔








