
نور گلی میں اتوار کی ایک خوش گوار صبح تھی۔ زین، عائشہ اور چھوٹو دادی اماں کے باغ میں کھیل رہے تھے۔ مٹھو طوطا آم کے درخت پر بیٹھا گنگنا رہا تھا۔
اچانک زین کی نظر گلاب کی جھاڑی کے پیچھے رکھے ایک پرانے صندوق پر پڑی۔
’’عائشہ! ذرا ادھر آؤ۔ دیکھو، یہ کیا ہے؟‘‘ زین نے آواز دی۔
عائشہ دوڑتی ہوئی آئی۔ صندوق پر بڑے خوب صورت حروف میں لکھا تھا:
’’علم کا خزانہ‘‘
’’خزانہ! خزانہ! سونا چاندی!‘‘ مٹھو خوشی سے چلایا۔
زین نے جلدی سے صندوق کھولا، مگر اندر نہ سونا تھا، نہ چاندی۔ صرف چند رنگ برنگے کارڈ رکھے تھے۔
’’یہ کیسا خزانہ ہے؟‘‘ زین نے منہ بنایا۔
اتنے میں دادی اماں وہاں آگئیں۔
’’ارے بھئی! تم لوگوں کو میرا پرانا صندوق مل گیا؟‘‘
’’دادی! اس میں تو صرف لفظ لکھے ہیں!‘‘ زین نے شکایت کی۔
دادی مسکرائیں۔ ’’بیٹا، لفظ بھی خزانہ ہوتے ہیں۔ آج ہم ان سے ایک کھیل کھیلیں گے۔‘‘
پہلا لفظ: تجسس
عائشہ نے پہلا کارڈ نکالا۔ اس پر لکھا تھا:
تجسس — کسی بات کو جاننے کی خواہش۔
’’دادی! مجھے ہمیشہ یہ جاننے کی خواہش ہوتی ہے کہ آسمان نیلا کیوں ہے۔ کیا یہ تجسس ہے؟‘‘ عائشہ نے پوچھا۔
’’بالکل!‘‘ دادی نے جواب دیا۔ ’’تجسس انسان کو نئی نئی باتیں سیکھنے پر آمادہ کرتا ہے۔‘‘
مٹھو فوراً بولا، ’’مجھے تجسس ہے کہ میرے لیے امرود کہاں ہیں!‘‘
سب ہنس پڑے۔
دوسرا لفظ: فراست
اب زین نے دوسرا کارڈ اٹھایا۔
فراست — عقل مندی سے کسی بات کو سمجھنے کی صلاحیت۔
زین نے سر کھجایا۔ ’’دادی، یہ تو مشکل لفظ ہے!‘‘
دادی نے کہا، ’’فرض کرو تمہیں راستے میں ایک بٹوا ملتا ہے۔ تم سمجھ جاتے ہو کہ یہ کسی کا گم ہوا ہوگا اور اسے مالک تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہو۔ یہ فراست ہے۔‘‘
زین نے فخر سے کہا، ’’پھر تو میں بہت فراست والا ہوں!‘‘
عائشہ ہنس کر بولی، ’’پہلے یہ بتاؤ، کل اپنے جوتے فریج میں کس نے رکھے تھے؟‘‘
’’وہ تو ایک تجربہ تھا!‘‘ زین نے فوراً جواب دیا۔
تیسرا لفظ: امانت
تیسرے کارڈ پر لکھا تھا:
امانت — وہ چیز جو کسی کے پاس حفاظت کے لیے رکھی جائے۔
ابھی دادی کچھ سمجھاتیں کہ چھوٹو بھونکنے لگا۔
’’بھوں! بھوں!‘‘
سب نے مڑ کر دیکھا۔ باغ کے دروازے کے پاس ایک چھوٹی سی سرخ تھیلی پڑی تھی۔
زین نے تھیلی اٹھائی۔ اس کے اندر کچھ سکے، ایک چھوٹی سی چابی اور ایک پرچی تھی۔
’’واہ! پیسے!‘‘ مٹھو چلایا۔
زین نے کہا، ’’ہم ان پیسوں سے مٹھائی خرید سکتے ہیں!‘‘
عائشہ نے فوراً ٹوکا، ’’نہیں زین! یہ ہماری چیز نہیں۔ یہ کسی کی امانت ہے۔‘‘
زین کچھ سوچنے لگا۔
’’لیکن ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ یہ کس کی ہے؟‘‘
چوتھا لفظ: جستجو
دادی نے اگلا کارڈ نکالا۔
جستجو — کسی چیز کو تلاش کرنے یا حقیقت معلوم کرنے کی کوشش۔
’’آج تمہیں اس تھیلی کے مالک کی جستجو کرنی ہے!‘‘ دادی نے کہا۔
زین کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
’’یعنی ہم جاسوس بنیں گے؟‘‘
’’بالکل!‘‘
زین، عائشہ اور چھوٹو گلی میں نکل پڑے۔ مٹھو ان کے سروں پر اڑ رہا تھا۔
پہلے انہوں نے دودھ والے سے پوچھا، پھر سبزی فروش سے، مگر تھیلی کسی کی نہ تھی۔
آخر انہیں گلی کے کونے پر رحمت چچا ملے۔ وہ پریشان کھڑے اپنی جیبیں ٹٹول رہے تھے۔
’’چچا! آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟‘‘ عائشہ نے پوچھا۔
’’بیٹی، میری ایک سرخ تھیلی گم ہوگئی ہے۔ اس میں دکان کی چابی اور کچھ سکے تھے۔‘‘
زین نے تھیلی دکھائی۔
’’کیا یہ آپ کی ہے؟‘‘
’’ارے ہاں! یہی تو ہے!‘‘ رحمت چچا خوشی سے بول اٹھے۔
پانچواں لفظ: دیانت داری
بچے گھر واپس پہنچے تو دادی نے آخری کارڈ نکالا۔
دیانت داری — سچائی اور ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرنا۔
’’آج تم دونوں نے دیانت داری کا مظاہرہ کیا ہے،‘‘ دادی نے کہا۔
زین نے مسکرا کر جواب دیا، ’’دادی! شروع میں تو میرا دل مٹھائی خریدنے کو چاہ رہا تھا۔‘‘
’’لیکن تم نے صحیح کام کیا، یہی اصل بات ہے،‘‘ دادی نے پیار سے کہا۔
اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔
رحمت چچا ایک ڈبہ لے کر کھڑے تھے۔
’’بچو! تمہاری ایمانداری کے شکریے میں کچھ تازہ جلیبیاں لایا ہوں۔‘‘
زین خوشی سے اچھل پڑا۔
’’واہ! امانت بھی واپس ہوگئی اور مٹھائی بھی مل گئی!‘‘
مٹھو چلایا، ’’دیانت داری! میٹھی جلیبی!‘‘
سب قہقہے لگانے لگے۔
دادی نے مسکرا کر کہا، ’’دیکھا بچو! علم کا خزانہ کھولو تو اس میں سے صرف لفظ نہیں، اچھی عادتیں بھی نکلتی ہیں۔‘‘
اور اس دن کے بعد زین اور عائشہ نے طے کیا کہ وہ ہر روز ایک نیا اردو لفظ سیکھیں گے اور اسے اپنی گفتگو میں استعمال بھی کریں گے۔






