آج کی ڈائری

 پیر،  26 اکتوبر  2026 | جنوبی ایشیا • مشرق اوسط • عالمی معیشت • آب و ہوا اور ماحول

مشن ٹرمپ: سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کی مشترکہ سفارت کاری

ہندوستان |   قومی سیاست، حکمرانی اور سلامتی

  1. 27 ارب ڈالر کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کی تجاویز منظور

ہندوستان کی دفاعی خریداری کونسل (Defence Acquisition Council) نے 26 اکتوبر کو 2.12 لاکھ کروڑ روپے، یعنی تقریباً  22.27ارب ڈالر مالیت کی دفاعی خریداری کی تجاویز کو منظوری دی۔ مجوزہ خریداریوں میں انتہائی کم فاصلے تک مار کرنے والے فضائی دفاعی نظام، ڈرون مخالف آلات، نگرانی اور حملے کے نظام، نیز طویل فاصلے تک مار کرنے والے خودکش ڈرون شامل ہیں۔ یہ منظوری دفاعی خریداری کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں۔

  1. ہندوستانی بینکاری نظام کی سائبر سکیورٹی توجہ کا مرکز

وزیر اعظم نریندر مودی نے سائبر حملوں سے ہندوستان کے بینکاری نظام اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بھوبنیشور میں ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی تربیتی ادارے کے افتتاح کے موقع پر اس مسئلے کو نمایاں کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہندوستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نظام کے ساتھ سائبر حملوں سے تحفظ، صارفین کے حقوق اور متعلقہ اداروں کی تیاری بھی اسی رفتار سے بہتر ہو رہی ہے؟

  1. جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کے مطالبے پر احتجاج جاری

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ آج بھی جاری رہا۔ اس کی وجہ یونیورسٹی کا یہ اعلان ہے کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے15  دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ طلبہ نے چیف الیکشن افسر کی تقرری اور انتخابات کے لیے واضح نظام الاوقات جاری کرنے کا مطالبہ کردیا۔ یہاں 15سال سے زائد عرصہ سے طلبہ یونین معطل ہے۔

  1. تیل کی قیمتوں اور امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلے سے ہندوستانی روپے پر دباؤ

خام تیل کی بلند قیمتیں اور امریکی فیڈرل ریزرو کا آئندہ مالیاتی پالیسی سے متعلق فیصلہ رواں ہفتے ہندوستانی روپیہ اور بانڈ مارکیٹوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

  1. ہندوستان نے فلیکس فیول گاڑیوں کے لیے E100 ایندھن کو تسلیم کر لیا

حکومت ہند نے مرکزی موٹر وہیکل قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے فلیکس فیول گاڑیوں کے لیے E85 کے ساتھ E100ایندھن کو بھی تسلیم کر لیا۔ ہندوستان ٹائمز کے مطابق، اس سلسلے میں نوٹیفکیشن23  اکتوبر کو جاری کیا گیا اور26  اکتوبر کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوا۔

تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں مناسب تکنیکی مطابقت اور سرٹیفکیشن کے بغیر محفوظ طور پر E100 استعمال کر سکتی ہیں۔ قابل غورنکات پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش، درآمدی پٹرولیم پر انحصار میں کمی، حیاتیاتی ایندھن کی معاشیات اور کسانوں، گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں اور صارفین پر اس پالیسی کے ممکنہ اثرات ہیں۔

  1. موسم، قدرتی آفات اور ماحولیات

سمندری طوفان ارنب سے ہندوستان کے مشرقی ساحل کو خطرہ  درپیش ہے۔ آج شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق، سمندری طوفان ارنب(Cyclone Arnab)  کی شدت میں اضافہ متوقع ہے اوراس کے تقریباً 28  اکتوبر کو آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلی علاقے سے گزرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام شدید بارش اور ممکنہ انخلا کی تیاری کر رہے ہیں۔ آندھرا پردیش اور اڈیشہ کے بعض علاقوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

پاکستان: علاقائی سفارت کاری، علاقائی جغرافیائی سیاست اور توانائی کا تحفظ

  1. مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے جنوبی ایشیا پر اثرات

مغربی ایشیا میں جاری تنازع  نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے ممالک کے لیے درآمدی توانائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں اور قیمتوں میں اچانک اضافے کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں اسلام آباد کو خطے میں اپنے کردار کو وسعت دینے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش: سیاسی اور صحتِ عامہ کے مسائل کا سامنا

  1. حکمرانی اور سماجی استحکام

بنگلہ دیش بدستور علاقائی سطح پر توجہ کا اہم مرکز ہے، جہاں سیاسی کشیدگی کے ساتھ خسرہ کی سنگین وبا پھیلنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ خبروں میں اس وبا اور صحتِ عامہ پر اس کے وسیع تر اثرات کے بارے میں تشویش کو نمایاں ہے۔ تاہم دستیاب ذرائع کے جائزے سے 26 اکتوبر تک ملک بھر میں خسرہ کے مصدقہ نئے مریضوں کی مجموعی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

نیپال: موسمیاتی عدم تحفظ کی صورتِ حال علاقائی تشویش کا باعث

  1. موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور قدرتی آفات کے خطرات

نیپال نے موسمیاتی تبدیلی کے انسانی اور معاشی نقصانات کو نمایاں کیا ہے، جن میں تباہ کن سیلاب بھی شامل ہیں۔ اس خطے کو لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیر خطرات اور پہاڑی علاقوں میں واقع آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کی غیر محفوظ صورتِ حال جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

مشرقِ اوسط |  مشترکہ سفارت کاری، تیل کے جھٹکے ،علاقائی استحکام کو درپیش خطرات اور انسانی بحران

  1. سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ ایران کے ساتھ سفارتی کوششوں میں شریک

پیر کے روز سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے وفود نے تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی۔ اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی راستہ تلاش کرنے اور دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات کو روکنے کی کوششیں جاری رہیں۔ قطر نے بھی ثالثی کے لیے اپنے نمائندے بھیجے۔ ایران نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے اب بھی آمادہ ہے لیکن اس نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا جنہیں اس نے امریکہ کی جانب سے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کے مطالبات قرار دیا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب خطے کو سلامتی کے مسلسل خطرات اور کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات لاحق ہیں۔

  1. خلیجی بحری راستوں کی سلامتی کے خدشات سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

توانائی کی منڈیاں اور تزویراتی بحری گزرگاہیں ایران، یمن اور خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق پیش رفت پر بدستور حساس ہیں۔ پیر کی رپورٹ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت چھ ماہ کی بلند ترین سطح سے نیچے آئی، تاہم صبح کی کاروباری سرگرمیوں کے دوران یہ110  ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔ حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے اور ریاض کے ہوائی اڈے پر حملوں کے دعووں نے بھی رسد سے متعلق خدشات بڑھائے، اگرچہ رپورٹ میں ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

  1. سعودی عرب کی سلامتی، یمن کا تنازع اورعلاقائی استحکام کو درپیش خطرات

یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ اور سعودی عرب خطے کی سلامتی سے متعلق تزویراتی حساب کتاب میں بدستور مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ تہران میں جاری سفارتی کوششوں سے متعلق ایسوسی ایٹڈ پریس کی پیر کی رپورٹ میں یمن کے وسیع تر تنازع اور ایسے حملوں اور جوابی کارروائیوں کو روکنے کی کوششوں کا بھی ذکر ہے جو مزید ممالک کو براہِ راست تصادم میں گھسیٹ سکتے ہیں۔

  1. غزہ کا انسانی بحران بدستور مسلسل توجہ کا متقاضی

خطے میں وسیع تر تنازع سفارتی کوششوں اور انسانی امداد کی کارروائیوں کو مسلسل پیچیدہ بنا رہا ہے۔ آج کی اشاعت کے لیے غزہ کی تازہ صورتِ حال کی تصدیق ضروری ہے، جس میں جنگ بندی کی نازک صورت حال، شہری ہلاکتیں، امدادی سامان کی رسائی، آبادی کی بے دخلی اور طبی سہولتوں و ادویات کی فراہمی شامل ہیں۔

عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیاں

  1. مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج کے پیشِ نظر عالمی مالیاتی منڈیاں محتاط

پیر کے روز عالمی حصص بازاروں میں محتاط کاروبار دیکھا گیا، کیونکہ سرمایہ کار تیل کی بلند قیمتوں، مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور کمپنیوں کے مالی نتائج کا جائزہ لے رہے تھے۔ بالخصوص ان ٹیکنالوجی کمپنیوں پر توجہ رہی جو مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے پھیلتی صنعت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

رائٹرز کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت گزشتہ ہفتے6.2  فیصد اضافے کے بعد پیر کی صبح کاروبار کے دوران 1.9  فیصد گر کر 114.48  ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت بھی 2.2  فیصد کم ہو کر 101.01  ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

  1. امریکی فیڈرل ریزرو کا فیصلہ کرنسیوں اور قرض لینے کی لاگت پر اثر انداز ہو سکتا ہے

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے بدھ کے روز مالیاتی پالیسی کے اعلان کو اس ہفتے عالمی منڈیوں کا ایک اہم واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار کینیڈا، یورو زون، جاپان، نیوزی لینڈ اور تھائی لینڈ کے مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ میں شرحِ سود کے امکانات ڈالر کی قدر، ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سرمایہ کی آمد و رفت، بانڈز پر منافع کی شرح اور غیر ملکی کرنسیوں میں لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کی لاگت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

  1. توانائی اور تجارت کے دباؤ کے باعث عالمی معاشی ترقی سست ہونے کا خدشہ

9 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق ایک رپورٹ نے بتایا تھا کہ 2026 میں عالمی معاشی ترقی کی شرح 2.6  فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جبکہ 2025 میں یہ شرح 2.9  فیصد تھی۔

رپورٹ میں ترقی کی رفتار سست ہونے کی ایک وجہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے پیدا ہونے والے توانائی کے جھٹکے کو قرار دیا گیا۔ اشیا اور خدمات کی عالمی تجارت میں مستقل قیمتوں کی بنیاد پر4  فیصد اضافے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا۔ لیکن یہ تخمینے ہیں، سال کے حتمی نتائج نہیں۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے