کتاب: کلامِ الٰہی کی بشری ترجمانی (120 مکمل انگریزی تراجم قرآم مجید کا تنقیدی جائزہ)
مصنف: پروفیسرعبدالرحیم قدوائی * ترجمہ و ترتیب: زریاب احمد فلاحی * ناشر: خلیق احمد نظامی مرکزعلوم القرآن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
مبصر: پروفیسراخترالواسع
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور قرآن کے تراجم کا مطالعہ محض زبان و بیان کا مسئلہ نہیں؛ اس میں تفسیر، عقیدہ، تاریخ، تہذیب، لسانیات، مترجم کے فکری پس منظر اور مخاطب کی ذہنی سطح سب شریک ہوجاتے ہیں۔ پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی کتاب ’’کلامِ الٰہی کی بشری ترجمانی‘‘ اسی نہایت اہم اور پیچیدہ موضوع کوزیر بحث لاتی ہے۔ کتاب کی اساس قرآنِ مجید کے ۱۲۰ مکمل انگریزی تراجم کے جائزے اور محاکمے پر ہے اور یہ کتاب ۱۴۴۹ء کے پہلے مکمل انگریزی ترجمہ ساے ۲۰۲۴ء تک کے تراجم کا احاطہ کرتی ہے۔ یوں یہ تصنیف ایک طرف تراجمِ قرآن کی تاریخ اور روایت کا مطالعہ ہے اور دوسری طرف ترجمۂ قرآن کے امکانات، حدود اور مسائل پر ایک سنجیدہ علمی گفتگو بھی۔
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی علمی شخصیت اس موضوع سے خاص مناسبت رکھتی ہے۔ وہ انگریزی ادب کے استاد ہونے کے ساتھ قرآن اور اسلامیات کے محقق بھی ہیں اور ان کی علمی زندگی میں قرآن فہمی اور انگریزی زبان و ادب کا امتزاج نمایاں ہے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی سے وابستہ رہے اور مرکزعلوم قرآن، اے ایم یو، علی گڑھ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی متعدد تصانیف اور تقریباً ڈھائی سو علمی و تحقیقی مقالات قرآن، اسلامیات، انگریزی اور اردو ادب سے متعلق کام پر مبنی ہیں۔
پروفیسرقدوائی کی دلچسپی تراجمِ قرآن کے موضوع سے کسی وقتی علمی سرگرمی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تحقیقی سفر کا ثمر ہے۔ ان کی معروف علمی کتاب A Survey of English Translations of the Quran نے انگریزی تراجمِ قرآن کے مطالعے کو ایک منظم تحقیقی جہت فراہم کی۔ ان کے علمی کام میں انگریزی تراجمِ قرآن کی تاریخ، مترجمین کے فکری پس منظر اور ترجمے کے مختلف اسالیب کا جائزہ مسلسل موضوعِ بحث رہا ہے۔ ان کی Bibliography of the Translations of the Meanings of the Glorious Qur’an into English, 1649–2007: A Critical Study بھی اسی تحقیقی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ “کلام الٰہی کی بشری ترجمانی” بنیادی طور پر اس انگریزی تصینف کی تلخیص و ترجمہ ہے جس میں ۲۰۰۷ء کے بعد ۲۰۲۴ ء تک کے اہم تراجم کا جائزہ و محاکمہ شامل کیا گیا ہے۔
’’کلامِ الٰہی کی بشری ترجمانی‘‘ کی بنیادی اہمیت یہ ہے کہ مصنف نے ترجمۂ قرآن کو محض الفاظ کے ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل نہیں سمجھا۔ قرآن کے ترجمے میں اصل چیلنج یہ ہے کہ عربی کے ایک لفظ، ترکیب، اسلوب، ایجاز، صوتی آہنگ، بلاغی اشارے اور معنوی تہہ کو دوسری زبان میں کس حد تک منتقل کیا جاسکتا ہے۔ جدید ترجمہ شناسی میں بھی قرآن کی ترجمانیت کے ساتھ ساتھ اس کی ساختی اور صوتی خصوصیات کی منتقلی کو ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
یہاں قدوائی صاحب کا امتیاز یہ ہے کہ وہ مترجم کو محض مترجم کی حیثیت سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کے پیچھے موجود مفسر، ادیب، مستشرق، مبلغ، محقق اور صاحبِ فکر انسان کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف تراجم کا تقابل کرتے ہوئے قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر ترجمہ دراصل قرآن کے ساتھ مترجم کے فکری اور علمی تعامل کی ایک دستاویز بھی ہے۔
ایک ہی کتاب میں ۱۲۰ مکمل انگریزی تراجمِ قرآن کا جائزہ لینا معمولی تحقیقی کام نہیں۔ انگریزی دنیا کی علمی اور عالمی زبان بننے کے ساتھ قرآن کے مفاہیم تک غیر مسلم اور غیر عرب مسلم قارئین کی رسائی کا ایک اہم وسیلہ بھی بنی ہے۔ اس لیے انگریزی تراجم کی تاریخ دراصل جدید دنیا میں قرآن کے تعارف کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ قدوائی صاحب کی تحقیق اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ انگریزی میں قرآن کے ترجمے کی روایت یکساں نوعیت کی نہیں۔ اس میں مسلم مترجمین بھی ہیں، غیر مسلم مترجمین بھی؛ علمی اور ادبی مقاصد بھی ہیں اور بعض اوقات مذہبی یا تبلیغی محرکات بھی۔ انگریزی تراجم کی ابتدائی تاریخ میں عیسائی مستشرقین اور مشنریوں کا کردار اہم رہا، جب کہ بعد میں مسلم اہلِ علم نے بھی انگریزی میں قرآن کے تراجم پیش کیے۔ خود قدوائی صاحب کی سابقہ تحقیق میں ہندوستانی مسلمانوں کے ابتدائی انگریزی تراجم کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ اس اعتبار سے ’’کلامِ الٰہی کی بشری ترجمانی‘‘ صرف تراجم کا محاکمہ نہیں بلکہ ایک ایسی علمی روایت کی بازیافت بھی ہے جس کے ذریعے قرآن نے جدید عالمی زبان میں نئے قارئین سے مکالمہ کیا۔
قدوائی صاحب کی علمی خدمات کا ایک نمایاں پہلو مستشرقین اور ان کے تراجمِ قرآن کا مطالعہ ہے۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’’مستشرقین اور انگریزی تراجمِ قرآن‘‘ بھی اسی موضوع سے متعلق ہے، جسے راقم نے مرتب کیا تھا۔ اس مجموعے میں مستشرقین کے انگریزی تراجم اور اسلام کے بارے میں ان کے علمی رویوں کا تنقیدی مطالعہ شامل ہے۔
یہاں قدوائی صاحب کا طریقِ کار محض ردّ و قدح کا نہیں بلکہ تحقیق، تقابل اور تنقید کا ہے۔ وہ ترجمے کے متن کو اس کے تاریخی اور فکری سیاق میں دیکھتے ہیں۔ یہی وہ رویہ ہے جو دینی موضوعات کے مطالعے کو جذباتی ردعمل سے نکال کر علمی تحقیق کے دائرے میں لے آتا ہے۔ اس اعتبار سے ان کا کام اردو اور اسلامی علمی روایت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اردو میں مستشرقین کے تراجمِ قرآن پر گفتگو تو ہوئی ہے مگر انگریزی زبان میں موجود وسیع ذخیرے کا اس قدر منظم اور جامع مطالعہ کم نظر آتا ہے۔
کتاب کا ایک بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ قرآن کا مترجم کن اوصاف کا حامل ہونا چاہیے۔ محض عربی جاننا کافی نہیں اور محض انگریزی پر عبور بھی کافی نہیں۔ مترجم کو عربی زبان کے اسلوب، قرآن کے سیاق و سباق، اسلامی عقائد، علومِ قرآن، حدیث و تفسیر اور زبان کے مزاج، محاورے اور ادبی روایت سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی آیت کے متعدد تراجم کبھی ایک دوسرے سے حیرت انگیز طور پر مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ اختلاف صرف الفاظ کا نہیں ہوتا؛ بعض اوقات ایک مترجم کسی لفظ کے لغوی مفہوم کو ترجیح دیتا ہے، دوسرا تفسیری مفہوم کو، تیسرا ادبی حسن کو اور چوتھا اپنے فکری تصور کو۔ نتیجتاً ترجمہ، ترجمہ ہونے کے باوجود ایک خاص موقف ترجمانی اختیار کرلیتا ہے۔ قدوائی صاحب کی یہ کتاب اسی نکتے کو سمجھنے میں قاری کی مدد کرتی ہے۔ وہ قاری کو یہ شعور دیتی ہے کہ ترجمہ پڑھتے وقت اسے اصل قرآن اور مترجم کی تعبیر کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کے کام کی ایک بڑی قوت یہ ہے کہ ان کے پاس انگریزی زبان و ادب کے مطالعے کا ایک گہرا اور وسیع پس منظر ہے۔ قرآن کے انگریزی تراجم کا جائزہ لیتے ہوئے وہ محض عربی اور اسلامیات کے محقق نہیں رہتے بلکہ ایک ادبی نقاد کی حیثیت سے بھی سامنے آتے ہیں۔ چنانچہ ان کی توجہ لفظی صحت کے ساتھ ساتھ اسلوب، روانی، آہنگ، ادبی تاثیر، جملے کی ساخت اور قاری پر پڑنے والے اثر کی طرف بھی رہتی ہے۔ یہ امتزاج ان کے تحقیقی کام کو منفرد بناتا ہے۔ ایک طرف علومِ قرآن سے شناسائی اور دوسری طرف انگریزی ادب کا ذوق، یہ دونوں عناصر مل کر انہیں تراجمِ قرآن کے محاکمے کے لیے ایک موزوں نقاد بناتے ہیں۔
’’کلامِ الٰہی کی بشری ترجمانی‘‘ کو پروفیسر قدوائی کے مجموعی علمی کارنامے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کی تصانیف میں قرآن کے انگریزی تراجم، تراجم کی کتابیات، مستشرقین کے مطالعات اور قرآن فہمی سے متعلق مختلف پہلوؤں پر مسلسل کام موجود ہے۔ ان کی علمی سرگرمیوں کا دائرہ صرف تصنیف تک محدود نہیں بلکہ تدریس، تحقیق، خطابات اور ادارہ جاتی علمی سرگرمیوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی ایک اہم علمی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ قرآن کو جدید علمی دنیا سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ ان کے یہاں قرآن کا مطالعہ زبان، ادب، تاریخ، ترجمہ، تہذیب اور جدید علمی منہج کے ساتھ مربوط ہے۔ یہی بین العلومی زاویہ ان کی قرآنی خدمات کو عصرِ حاضر میں معنویت عطا کرتا ہے۔
یہاں یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ قدوائی صاحب نے اردو کے قارئین اور محققین کے لیے انگریزی زبان میں موجود قرآنی علمی سرمائے تک رسائی کا ایک راستہ ہموار کیا ہے۔ ان کا کام محض انگریزی تراجم کا تعارف نہیں کراتا بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جدید علمی دنیا میں قرآن کے بارے میں کون سے تصورات تشکیل پاتے رہے ہیں اور ان تصورات کے پیچھے کون سے علمی و فکری عوامل کارفرما رہے ہیں۔
کتاب کا عنوان خود اپنے اندر ایک پورا علمی مقدمہ رکھتا ہے: کلامِ الٰہی اور بشری ترجمانی۔ قرآن الٰہی کلام ہے، جب کہ ترجمہ انسانی کاوش۔ اصل اور ترجمے کے درمیان یہی فرق کتاب کی فکری بنیاد بنتا ہے۔ مترجم خواہ کتنا ہی صاحبِ علم اور صاحبِ بصیرت کیوں نہ ہو، وہ اپنے انسانی فہم کے ذریعے کلامِ الٰہی کے مفاہیم کو دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے۔ اس لیے کسی بھی ترجمے کو قرآن کا مکمل اور آخری متبادل قرار دینا علمی طور پر درست نہیں۔
یہ نقطۂ نظر قاری کو دو انتہاؤں سے محفوظ کرتا ہے: ایک طرف یہ خیال کہ قرآن کا ترجمہ سرے سے ممکن ہی نہیں، اور دوسری طرف یہ گمان کہ ترجمہ اصلِ قرآن کے برابر ہے۔ قدوائی صاحب کا علمی رویہ ان دونوں کے درمیان ایک متوازن راستہ دکھاتا ہے: ترجمہ ضروری بھی ہے اور محدود بھی؛ مفید بھی ہے اور انسانی بھی۔
اردو میں قرآن کے تراجم اور تفاسیر کی ایک عظیم روایت موجود ہے۔ شاہ عبدالقادرمحدث دہلوی سے لے کر جدید دور تک بے شمار اہلِ علم نے قرآن کے مفاہیم کو اردو میں منتقل کیا۔ مگر انگریزی تراجم کی دنیا اپنی وسعت، تنوع اور عالمی اثرات کے اعتبار سے ایک الگ علمی توجہ چاہتی تھی۔ قدوائی صاحب نے اس ضرورت کو محسوس کیا اور اسے اپنی علمی زندگی کا ایک اہم میدان بنایا۔ جس سے اردو کے طالب علم کو یہ فائدہ حاصل ہوا کہ وہ انگریزی تراجم کے وسیع ذخیرے کو ایک منظم تنقیدی نگاہ سے دیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح انگریزی داں دنیا کو بھی ان کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ قرآن کے ترجمے کی روایت کو محض لسانی کام تصور کرنا اس کی اصل پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہے۔
قدوائی صاحب کے علمی اسلوب کی ایک قابلِ قدر خصوصیت تحقیقی دیانت ہے۔ کسی مترجم کے نظریاتی پس منظر سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن اس کے علمی کام کو اس کے تاریخی اور ادبی سیاق میں سمجھنا ایک الگ چیز ہے۔ اسی طرح کسی ترجمے کی خوبی تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تمام تعبیرات سے اتفاق کیا جائے۔ یہی علمی توازن کسی بھی سنجیدہ محقق کی پہچان ہوتا ہے۔ قرآن جیسے مقدس اور حساس موضوع پر یہ توازن اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں معمولی علمی لغزش بھی بڑے فکری نتائج پیدا کرسکتی ہے۔
پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے قرآنیات کو انگریزی زبان و ادب کے جدید علمی منہج سے جوڑنے کی جو کوشش کی ہے، وہ ہندوستانی مسلم علمی روایت میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ نہ صرف قرآن کے طالب علم ہیں بلکہ انگریزی زبان کے ماہر، ادبی ذوق رکھنے والے نقاد اور تراجم کے باقاعدہ محقق بھی ہیں۔ اسی امتزاج نے انہیں تراجمِ قرآن کے مطالعے میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ ان کی کتابیں اور تحقیقی مقالات اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن فہمی آج صرف درس گاہ، مدرسہ یا روایتی تفسیر کے دائرے تک محدود نہیں رہ سکتی؛ اسے جدید زبانوں، جدید علوم، ترجمہ شناسی، ادبی تنقید اور عالمی فکری مکالمے کے ساتھ بھی مربوط ہونا ہوگا۔ پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی قرآنی خدمات اسی وسیع تر علمی ضرورت کا جواب ہیں۔








