تازہ شمارہ
Columns

طاعون یا افواہ؟ سائبیریا کی ایک موت نے دنیا کو کیوں چونکایا

ایک تحقیق گاہ کی کارکن کی موت، تقریباً دو سو افراد کی نگرانی اور کئی ادھورے جواب۔ اصل واقعہ کیا ہے، اور خطرہ کتنا؟

کالم کا حصہ
چراغ آفریدم
Columns October 8, 2026 8 منٹ مطالعہ

۸ اکتوبر ۲۰۲۶ تک دستیاب معلومات پر مبنی

طاعون پر تحقیق کرنے والے ادارے میں ایک نوجوان کارکن کی موت ہوئی۔ چند دن میں خبر سائبیریا سے نکل کر دنیا بھر میں پہنچ گئی۔ مگر جس سوال کا جواب سب چاہتے ہیں، وہ اب تک ادھورا ہے: کیا یہ واقعی طاعون تھا؟

روس کے شہر ارکتسک کے انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے میں کام کرنے والی ۲۸ سالہ داریا شیپیلووا ۲ اکتوبر کو انتقال کرگئیں۔ انہیں شدید نمونیا ہوا تھا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ نمونیا کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق خاتون کے ٹیسٹوں میں وہ خطرناک جراثیم نہیں ملے جن پر وہ کام کرتی تھیں۔ apnews.com

ابتدائی خبروں میں ایک اور کہانی سامنے آئی۔ کہا گیا کہ تحقیق گاہ میں ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹی اور خاتون طاعون کے جراثیم کی زد میں آگئیں۔ یہ دعویٰ تیزی سے پھیلا، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی اپنی اطلاع میں لیب کے اندر حادثاتی طور پر جراثیم سے متاثر ہونے کو ابتدائی میڈیا رپورٹس کا دعویٰ بتایا، ثابت شدہ واقعہ نہیں۔ 7 October 2026

یہ فرق پوری خبر کو سمجھنے کی بنیاد ہے۔ تحقیق گاہ میں کام کرنے والے کسی شخص کی موت، اس موت کا کام سے تعلق اور وہاں سے بیماری کا باہر پھیلنا، تین الگ باتیں ہیں۔ ہر ایک کے لیے الگ ثبوت چاہیے۔ ایک بات ثابت ہو بھی جائے تو باقی دو خودبخود ثابت نہیں ہوجاتیں۔

روس نے احتیاطی کارروائی ضرور کی۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، اس نے تقریباً دو سو ایسے افراد کو قرنطینہ میں رکھا جو خاتون سے رابطے میں آئے تھے۔ یعنی انہیں دوسروں سے الگ کرکے طبی نگرانی میں رکھا گیا۔ 7 October 2026 مگر ایسی کارروائی کا مقصد مشتبہ خطرے کو روکنا ہوتا ہے۔ اسے بیماری کی حتمی تصدیق سمجھنا غلط ہوگا۔

اس دوران ایک اہم پیش رفت بھی ہوئی۔ ۸ اکتوبر کو روسی حکام نے بتایا کہ رابطے میں آنے والوں کی طبی نگرانی مکمل ہوگئی ہے۔ تقریباً پانچ ہزار نمونوں میں خطرناک جراثیم نہیں ملے۔ reuters.com یہ اطمینان بخش اطلاع ہے۔ یہاں پانچ ہزار نمونوں کا ذکر ہے، پانچ ہزار مختلف لوگوں کا نہیں۔ ایک شخص کے کئی نمونے بھی لیے جاسکتے ہیں۔

ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیف نے یہ بھی کہا کہ ادارے میں جراثیم کے ساتھ کام کے دوران کسی حادثے کا ثبوت نہیں ملا۔ ان کے مطابق، کارکن کو متعلقہ خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے بھی لگے ہوئے تھے۔ vedomosti.ru یہ روسی حکام کا مؤقف ہے۔ تاہم کارکن کی بیماری کی اصل وجہ اب بھی واضح نہیں ہوئی۔

تو پھر دنیا کے سوال ختم کیوں نہیں ہوئے؟

اس لیے کہ بیماری کا دوسروں میں نہ پھیلنا اور پہلی مریضہ کی موت کی وجہ معلوم ہونا، دو الگ باتیں ہیں۔ رابطے میں آنے والوں کے نتائج سے پھیلاؤ کے بارے میں اہم معلومات ملتی ہیں۔ لیکن ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کارکن کو کس جراثیم نے بیمار کیا، یا بیماری کہاں سے لگی۔

۷ اکتوبر کو عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا کہ مکمل معلومات نہ ملنے کی وجہ سے خطرے کا پورا اندازہ ممکن نہیں۔ ادارے نے روس سے پوچھا کہ متوفیہ اور ان کے رابطوں کے کون سے ٹیسٹ ہوئے، احتیاطی اقدامات کی بنیاد کیا تھی اور زیرِ نگرانی افراد کی صحت کیسی ہے۔ اس نے ایک دوسرے ملازم کے نمونیا میں مبتلا ہونے کی خبروں کی تصدیق بھی مانگی۔ 7 October 2026 دوسرے مریض کی خبر کو بھی ثابت شدہ واقعہ سمجھنا درست نہیں۔

یہاں ایک اور بات یاد رکھنی چاہیے۔ نمونیا کی وجہ معلوم نہ ہونا، اپنے آپ میں کسی سازش کا ثبوت نہیں۔ نمونیا کے انفرادی مریضوں میں اصل وجہ کبھی معلوم نہیں ہوپاتی۔ reuters.com لیکن ایسے ادارے میں کام کرنے والی کارکن کی اچانک موت پر مفصل تحقیق اور صاف جواب مانگنا بالکل جائز ہے۔

طاعون کا نام اس لیے بھی خوف پیدا کرتا ہے کہ اس کے ساتھ پرانی تباہ کن وباؤں کی یاد جڑی ہے۔ مگر یہ مرض صرف تاریخ کی کتابوں میں نہیں رہ گیا۔ امریکی مراکز برائے امراض کی روک تھام، یعنی سی ڈی سی، کے مطابق یہ آج بھی افریقہ، ایشیا اور مغربی امریکہ کے بعض علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اسے یرسینیا پیسٹس نام کا بیکٹیریا پیدا کرتا ہے۔ انسان عموماً متاثرہ جانوروں کے پسو کے کاٹنے یا متاثرہ جانور سے رابطے کے ذریعے بیمار ہوتے ہیں۔ CDC

اس کا مطلب یہ ہے کہ طاعون کا کوئی مریض ملنے پر بھی تحقیق گاہ سے جراثیم نکلنے کا نتیجہ فوراً نہیں نکالا جاسکتا۔ بیماری کے قدرتی ذرائع کو بھی جانچنا پڑتا ہے۔ ارکتسک کے معاملے میں تو پہلے یہ طے ہونا باقی ہے کہ کارکن کو طاعون تھا بھی یا نہیں۔

جس قسم کے طاعون کا شبہ ظاہر کیا گیا، وہ پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اسے پھیپھڑوں کا طاعون، یا نیومونک پلیگ، کہتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یہ متاثرہ مریض سے سانس کے ذریعے نکلنے والے متعدی ذرات کے راستے دوسرے انسان تک پہنچ سکتا ہے۔ بروقت علاج نہ ہو تو تیزی سے جان لیوا ہوسکتا ہے۔ اسی لیے محض شبہے پر بھی فوری طبی نگرانی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ who.int

اس کے باوجود طاعون کا نام سن کر اسے کورونا جیسی نئی عالمی وبا سمجھ لینا درست نہیں۔ سی ڈی سی کے مطابق، طاعون کا علاج اینٹی بایوٹک دواؤں سے ہوسکتا ہے، بشرطیکہ علاج جلد شروع ہو۔ CDC خطرے کو سمجھنے کے لیے مرض کی تصدیق، متاثرہ افراد کی تعداد اور پھیلاؤ کے شواہد دیکھنا ضروری ہے۔ خوف ناک نام اکیلا خطرے کی سطح نہیں بتاتا۔

البتہ روسی معلومات پر شکوک کا ایک تاریخی پس منظر ضرور ہے۔ ۱۹۷۹ میں سابق سوویت یونین کے شہر سویردلوفسک میں اینتھریکس کی وبا آئی تھی۔ حکام نے اسے آلودہ گوشت سے جوڑا۔ لیکن میتھیو میسلسن اور ساتھیوں کی تحقیق، جو ۱۹۹۴ میں سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی، نے نتیجہ نکالا کہ ایک فوجی ادارے سے ہوا میں جراثیم نکلنے کے سبب وبا پھیلی تھی۔ PubMed

یہ تاریخ آج مکمل معلومات کے مطالبے کو وزن دیتی ہے۔ تاہم پرانا واقعہ موجودہ الزام کا ثبوت نہیں بن سکتا۔ ارکتسک میں کیا ہوا، یہ اسی واقعے کے طبی اور تحقیقی ریکارڈ سے طے ہوگا۔ ماضی ہمیں سوال کرنے کی وجہ دیتا ہے، جواب پہلے سے طے کرنے کا حق نہیں۔

بھارت کے لیے بھی یہ بحث اجنبی نہیں۔ ۱۹۹۴ میں سورت اور دوسرے علاقوں سے طاعون کی خبروں نے بین الاقوامی تشویش پیدا کی تھی۔ اس وقت سی ڈی سی کی ایک رپورٹ نے اعدادوشمار کی قابلِ اعتماد حیثیت اور بیماری کی تصدیق کے معیار پر سوال اٹھائے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ پہنچنے والے جن بیمار مسافروں کا معائنہ ہوا، ان میں طاعون کی تشخیص نہیں ہوئی۔ cdc.gov اس تجربے کا سبق یہی ہے کہ شبہ، تشخیص اور پھیلاؤ کو الگ الگ بیان کرنا چاہیے۔

آج ارکتسک کے معاملے میں بھی عوام کو ایسے ہی واضح جواب درکار ہیں۔ کارکن کے کون سے ٹیسٹ ہوئے؟ کون سے جراثیم تلاش کیے گئے؟ علاج کب شروع ہوا؟ کام کے دوران ممکنہ حادثے کی جانچ کیسے ہوئی؟ اگر کوئی خطرناک جراثیم نہیں ملا تو موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید کیا کیا گیا؟ جہاں جواب ابھی معلوم نہیں، وہاں یہی بات صاف کہی جائے۔

خطرناک بیماریوں پر تحقیق کرنے والے اداروں کو محض ان کے کام کی وجہ سے مجرم سمجھنا بھی غلط ہے۔ ایسی تحقیق بیماریوں کی شناخت، علاج اور روک تھام کے لیے ضروری ہے۔ لیکن عوام کے اعتماد کے لیے مؤثر حفاظتی انتظام، حادثات کی قابلِ اعتماد جانچ اور بروقت اطلاع بھی ضروری ہیں۔ سائنسی تحقیق کی حمایت اور ادارے سے جواب طلب کرنا ایک ساتھ ممکن ہے۔

یہ اصول ہر حکومت پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ صحت کا سوال سیاسی پسند اور ناپسند کے تابع نہیں ہوسکتا۔ روسی دعوے ہوں یا کسی اور ملک کے الزامات، فیصلہ قابلِ جانچ ثبوت پر ہونا چاہیے۔ کارکن اور ان کے خاندان پر بغیر ثبوت ذمہ داری ڈالنا بھی انصاف نہیں۔

۸ اکتوبر تک دستیاب معلومات طاعون سے اس موت یا تحقیق گاہ سے بیماری کے باہر پھیلنے کو ثابت نہیں کرتیں۔ روس کے بتائے ہوئے منفی نتائج اطمینان کی وجہ ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی مانگی ہوئی مزید تفصیل پھر بھی ضروری ہے۔ کسی خطرے کا ثابت نہ ہونا، تحقیقات کے ہر سوال کا جواب مل جانا نہیں ہوتا۔ reuters.com

سائبیریا کی اس خبر میں ایک نوجوان عورت کی جان گئی ہے۔ ان کی موت کی وجہ جاننے کا حق ان کے خاندان کو بھی ہے اور عوام کو بھی۔ دنیا کو خوف ناک قیاس سے زیادہ اس جواب کی ضرورت ہے: داریا کے ساتھ کیا ہوا، اور اسے جاننے کے لیے اب تک کیا کیا گیا؟

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے

اخبارعالم

قذافی،لیبیا،مغرب اوراسلام

یہ ایک انتہائی بہیمانہ قتل تھاجس کے دردناک مناظرمجھے برسوں بے چین رکھیںگے لیکن اس لیے نہیں کہ ہمیں مقتول سے بڑی محبت یا…

اخبارعالم June 18, 2025 9 منٹ مطالعہ