

تمام کالم ← موضوع
چراغ آفریدم
اقبال کی نظم میں انسان خدا سے کہتا ہے:
تو شب آفریدی چراغ آفریدم
یعنی تو نے رات بنائی، میں نے چراغ بنایا۔
انسان اپنے علم اور ہنر سے مسائل کا حل پیدا کرتا ہے۔ اس میں ایمان بھی ہے، ایجاد بھی، اور عمل کی ذمہ داری بھی۔
Columns
طاعون یا افواہ؟ سائبیریا کی ایک موت نے دنیا کو کیوں چونکایا
ایک تحقیق گاہ کی کارکن کی موت، تقریباً دو سو افراد کی نگرانی اور کئی ادھورے جواب۔ اصل واقعہ کیا ہے، اور خطرہ کتنا؟


Columns
عصرِ رواں کے نئے بُت، طوفانِ حوادث اور خوابیدہ ملّت — ایک صدائے بیداری
کیا تم نے سوچا ہے کہ مساجد کی دیواریں کیوں گر رہی ہیں؟ کیونکہ تم نے اپنے دل کی مساجد کو ویران کر دیا…

Columns
اے آئی: اردو کمیونٹی کے لیے ایک تاریخی تناظر اور فوری ضرورت
تکنیکی ترقی کے ابھرتے ہوئے منظر نامے میں ذہنوں میں خدشات جنم لے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) انسانی دنیا پر مکمّل قبضہ…



