دہلی کی ایک صبح یوں بھی آئی کہ اپنے ہی نوجوانوں کے لیے شہر کے راستے تنگ کر دیے گئے۔ ابھیجیت دپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کا طیارہ اترا تو پولیس موجود تھی۔ انہیں طیارے کے اندر ہی حراست میں لے لیا گیا۔ وہ کاکروچ جنتا پارٹی، یعنی سی جے پی، کے احتجاج کی قیادت کرنے آئے تھے۔ جنتَر منتر تک پہنچنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ چند ماہ پہلے اسی تحریک کے دباؤ پر وزیرِ تعلیم کو استعفا دینا پڑا تھا۔ اب یہ نوجوان چیف الیکشن کمشنر سے جواب مانگنے دہلی آئے تھے۔
طیارے کے اندر قیادت روکی گئی تو باہر مظاہرین کے راستے بھی بند تھے۔ جنتَر منتر کی ناکہ بندی ہو چکی تھی۔ میٹرو کے کئی اسٹیشنوں پر آمدورفت محدود تھی۔ وسطی دہلی کے بعض حصوں میں موبائل انٹرنیٹ بند ہوا اور ۲۵۰ سے زیادہ ٹرین خدمات منسوخ یا متاثر ہوئیں۔ دس اکتوبر کو احتجاج روکنے کا یہ بندوبست ان مسافروں کی زندگی میں بھی داخل ہو گیا جو اپنے معمول کے کام سے نکلے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہریوں کی سہولت بچانے کے لیے شہریوں ہی کی آمدورفت اتنے بڑے پیمانے پر کیوں متاثر کی گئی؟
اس سوال کا تعلق انتظامیہ کی صلاحیت سے بھی ہے اور حکومت کے جمہوری اعتماد سے بھی۔ احتجاج کے لیے محفوظ راستہ نکالنا، لوگوں کی بات سننا اور ان کے اعتراضات کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہاں اختلاف ظاہر کرنے کا راستہ ہی تنگ کر دیا گیا۔ آخر ان نوجوانوں کی بات میں ایسا کیا ہے کہ انہیں روکنے کے لیے یہ سب کرنا پڑا؟ اس کا جواب سی جے پی کے چند ماہ کے سفر میں ملتا ہے۔ ایک طنزیہ نام کے گرد جمع ہونے والے لوگوں نے حکومت سے ایک ذمہ دار وزیر کی رخصتی کا مطالبہ منوا لیا تھا۔
اس سفر کی ابتدا مئی میں چیف جسٹس سوریہ کانت کے ’کاکروچ‘ والے متنازع تبصرے سے ہوئی۔ ابھیجیت دپکے نے اسی لفظ سے ایک مہم شروع کی جو جلد نوجوانوں کی اجتماعی آواز بن گئی۔ چیف جسٹس نے بعد میں کہا کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریوں سے پیشوں میں داخل ہونے والوں کی طرف تھا۔ مگر اس دوران بہت سے نوجوان اس نام میں اپنی ناراضی کا اظہار ڈھونڈ چکے تھے۔ نام میں طنز تھا، اس کے گرد جمع ہونے والوں کی پریشانیاں سنجیدہ تھیں۔ تعلیم، روزگار اور مستقبل کی فکر نے انہیں قریب کیا اور نیٹ کے بحران نے ان کی شکایت کو ایک واضح مطالبہ دے دیا۔
نیٹ میں بے ضابطگیوں کی شکایت کا وزن کسی ایسے گھر میں جا کر سمجھیے جہاں بچے کی تیاری پر برسوں کی بچت لگ گئی ہو۔ ایک امتحان میں والدین کی امید، طالب علم کی محنت اور پورے خاندان کا مستقبل شامل ہوتا ہے۔ اس امتحان کی ساکھ ٹوٹے تو گھر والوں کے لیے دوبارہ پرچہ لے لینا ہر سوال کا جواب نہیں بن سکتا۔ وہ پوچھیں گے کہ ان کی محنت کے ساتھ یہ کیوں ہوا اور اس کا ذمہ دار کون ہے۔ سی جے پی نے اسی سوال کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے سے جوڑا۔
یہ مطالبہ ۲۵ جولائی ۲۰۲۶ کو پورا ہوا۔ پردھان نے استعفا دیا اور سی جے پی نے اس مرحلے کا احتجاج ختم کر دیا۔ نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے ادارۂ جنوبی ایشیائی مطالعات نے اسے شدید عوامی دباؤ کا اہم نتیجہ قرار دیا۔ نوجوانوں کے لیے اس واقعے کا مطلب بہت سادہ تھا: ان کی بات سنی جا سکتی ہے۔ کوئی شکایت مشترک ہو، لوگ اس پر منظم ہوں اور اپنی آواز قائم رکھیں تو اقتدار کو جواب دینا پڑتا ہے۔ جولائی کا استعفا اسی احساس کی ایک عملی مثال بن گیا۔
اس مثال سے ایک بڑا دروازہ کھلا تھا۔ ۲۷ جولائی کو حکومت نے عوامی امتحانات کے قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا۔ مگر امتحانات پر اعتماد کی بحالی کا کام آگے بھی جاری رہنا تھا۔ طلبہ کو دیانت دار امتحان چاہیے، والدین کو اپنی بچت اور بچوں کی محنت کا تحفظ چاہیے۔ حکومت کو یہ دکھانا ہے کہ احتجاج کے بعد اعلان ہونے والی اصلاح روزمرہ عمل میں بھی نظر آتی ہے۔ اسی لیے جولائی کی کامیابی کا اصل حاصل عوامی جواب دہی کا وہ احساس ہے جو نوجوان اپنے ساتھ اکتوبر کی مہم میں لے آئے۔
اکتوبر میں معاملہ ووٹ تک پہنچ گیا ہے۔ امتحان نوجوان کو اپنی زندگی بنانے کا موقع دیتا ہے۔ ووٹ اسے ان فیصلوں میں حصہ دیتا ہے جن سے اس زندگی کے امکانات بنتے یا بگڑتے ہیں۔ دونوں جگہ منصفانہ طریقہ ضروری ہے۔ ایک طالب علم کی محنت بے ضابطگی کی نذر ہو یا کسی اہل شہری کا نام ووٹر فہرست سے غلط طور پر نکل جائے، ہر صورت میں اسے اپنے نقصان کا حساب مانگنے کا حق ہے۔ سی جے پی کی موجودہ مہم اسی حق کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یہ مطالبہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، ایس آئی آر، کے تنازع سے اٹھا ہے۔ اس عمل میں تقریباً ۱۳ کروڑ اندراجات حذف ہونے کا عدد سامنے آیا۔ مردہ افراد، دہرے اندراجات اور نااہل نام نکالنا ضروری ہے، اس لیے اس عدد کو اتنے ہی جائز ووٹروں کا چھینا گیا حق سمجھ لینا غلط ہوگا۔ حساب اہل شہری کا مانگا جا رہا ہے۔ اس کا نام کیوں نکلا، اسے خبر کیسے ملی اور غلطی کتنی آسانی سے درست ہوئی؟ کمیشن کا کہنا ہے کہ غلط طور پر خارج ہونے والے اہل ووٹر دوبارہ نام درج کرا سکتے ہیں۔ اب اس دعوے کو عملی سہولت اور بروقت بحالی میں نظر آنا چاہیے۔
بحالی اور طریقۂ کار کے یہی سوال انڈین ایکسپریس کی تحقیق میں مزید نمایاں ہوئے۔ اخبار کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے دس ماہ میں کم از کم چودہ مرتبہ فیصلوں اور ہدایات پر تحریری اعتراضات درج کیے۔ ان میں ووٹر رجسٹریشن کے فارم، ناموں کے اخراج و بحالی اور انتخابی سافٹ ویئر پر اختیار جیسے معاملات شامل تھے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ فیصلے متفقہ اور قانونی تھے۔ ایسے میں اعتماد کی بحالی کے لیے ریکارڈ سامنے آنا اور اعتراضات کا جواب ملنا ضروری ہے۔ ادارے کی ساکھ اسی جانچ سے مضبوط ہوگی۔ indianexpress.com
اس جانچ کی ضرورت گوا کے ۹۷ ووٹروں کے معاملے سے سمجھ میں آتی ہے۔ اسی تحقیق کے مطابق مقامی انتخابی افسروں نے انہیں اہل پایا، مگر سافٹ ویئر میں اخراج واپس لینے کی سہولت بروقت دستیاب نہیں ہوئی۔ ان کے نام حتمی فہرست میں شامل نہ ہو سکے۔ فیصلہ ان کے حق میں تھا، نظام اسے نافذ نہیں کر پا رہا تھا۔ کسی بڑے عدد میں ۹۷ نام کم دکھائی دے سکتے ہیں۔ مگر ہر نام کے پیچھے ایک شہری ہے جس کا حق اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی اور کا۔ انتخابی نظام کا کام اسی ایک ایک شہری کو اس کا حق دینا ہے۔ indianexpress.com
ایک ایک شہری کی یہ اہمیت سامنے رہے تو اقلیتوں اور محروم طبقات کی شکایت کو بھی پوری توجہ سے سننا ہوگا۔ ناقدین کا الزام ہے کہ نظرثانی سے ان طبقات کو غیر متناسب نقصان پہنچا، جبکہ کمیشن سیاسی جانب داری کے الزامات مسترد کرتا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کے لیے برابر شہریت کا سوال اسی جگہ عملی معنی اختیار کرتا ہے۔ دستاویز حاصل کرنے کی مشکل یا سرکاری دفتر تک رسائی میں دشواری کسی خاندان کو اپنے حق سے دور کر سکتی ہے۔ یہی مشکلات دوسرے محروم طبقات کو بھی پیش آتی ہیں۔ انہیں ساتھ اٹھانے والی شہری آواز ہندوستان کی مشترک جمہوری ضرورت ہے۔ www.afp.com
ایسی آواز کو جگہ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پولیس نے آج کے احتجاج کی اجازت نہ دینے کے لیے امن و امان، ٹریفک، درخواست دیر سے آنے اور پچھلے احتجاج کی شرائط کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے مظاہرین کو انتشار پسند قرار دیا۔ لیکن شہری کے اعتراض کو سننے کا کام پھر بھی باقی رہتا ہے۔ آئین کی دفعہ ۱۹ اظہارِ رائے اور بغیر ہتھیار پُرامن اجتماع کے حقوق دیتی ہے۔ معقول پابندیوں کی گنجائش استعمال کی جائے تو شہری کو اپنی بات کہنے کا مؤثر موقع بھی ملنا چاہیے۔ timesofindia.indiatimes.com
اس موقع کی حفاظت کے ساتھ احتجاج کے نظم کی ذمہ داری بھی جڑی ہے۔ تشدد، توڑ پھوڑ یا کسی اہل کار پر حملے کی تحقیق ہونی چاہیے۔ پولیس کی زیادتی کا الزام ہو تو اس کی بھی آزاد جانچ ہونی چاہیے۔ ایک فرد کی غلطی کی ذمہ داری اسی پر طے ہو۔ یہ اصول مظاہرین کی حفاظت بھی کرتا ہے اور پولیس کے کام کو بھی اعتماد دیتا ہے۔ آج کی کارروائی کا پیمانہ یہی ہونا چاہیے۔ این ڈی ٹی وی کی رات ۱۰ بج کر ۱۳ منٹ کی رپورٹ کے مطابق کم از کم تین ہزار افراد حراست میں لیے گئے۔ بیشتر رہا ہو چکے تھے، مگر مرکزی قیادت اور دھرو راٹھی زیرِ حراست رہے۔ ndtv.com
قیادت کی حراست کے باوجود شہر میں مختلف جگہ احتجاج ہوا۔ انڈین ایکسپریس نے دلی ہاٹ، صفدرجنگ فلائی اوور اور کناٹ پلیس سمیت کئی مقامات پر مختصر مظاہروں کی خبر دی۔ پھر اجنکیا شندے نے ۱۱ اکتوبر کی صبح دوبارہ جنتَر منتر کی طرف احتجاج کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا: ’پولیس جہاں روکے، وہیں اپنا جنتَر منتر بنا دو۔‘ پولیس نے بھی انتظامات برقرار رکھنے کا مؤقف ظاہر کیا۔ اس طرح آج کی کارروائی کے بعد تحریک کا اگلا مرحلہ سامنے آ گیا۔ اب اس کی قوت لوگوں کو ساتھ رکھنے اور پُرامن رہنے میں ظاہر ہوگی۔ indianexpress.com
لوگ ساتھ رہیں تو کسی ایک رہنما کی حراست پوری تحریک کا انجام نہیں بن جاتی۔ یہی سی جے پی کی بقا کو اہم بناتا ہے۔ ایک طالب علم اپنے امتحان کے ساتھ دوسرے شہری کے ووٹ کے لیے کھڑا ہو۔ اکثریتی شہری اقلیت کے حق کو بھی اپنی جمہوری ضرورت سمجھے۔ خواتین، دلتوں، مسلمانوں اور کم وسائل رکھنے والوں کو اپنی بات اور اپنے فیصلے کی جگہ ملے۔ ایسی شرکت لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے حقوق کی ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔ اس سے حکومت پر جواب دہی کا دباؤ بڑھتا ہے اور جمہوریت کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
اس بنیاد کو مضبوط رکھنے کے لیے سی جے پی کو بھی اپنے اندر جواب دہی پیدا کرنا ہوگی۔ اس کے فیصلے مشورے سے ہوں، مالی معاملات واضح ہوں اور غلط دعویٰ سامنے آئے تو اسے درست کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کی حمایت سے مدد مل سکتی ہے، مگر تحریک اپنے مطالبات اور فیصلوں پر اختیار برقرار رکھے۔ حکومت سے مانگا گیا معیار اپنے رہنماؤں پر بھی لاگو ہو۔ عوام اسی تحریک پر دیر تک اعتماد کرتے ہیں جس میں انہیں اپنے لیے جگہ ملے۔ اس اعتماد کے ساتھ پُرامن دباؤ برقرار رہے تو شہری شکایت عملی اصلاح تک پہنچ سکتی ہے۔
شکایت سے اصلاح تک پہنچنے میں عدالت اور دوسرے اداروں کا کردار بھی ضروری ہے۔ ۷ جولائی کو دہلی ہائی کورٹ نے سی جے پی کے ایکس اکاؤنٹ کی بحالی کا حکم دیا تھا۔ انتظامی پابندی عدالتی جانچ کے سامنے آئی اور اظہار کا راستہ بحال ہوا۔ آج بھی جمہوریت کو اسی طرح کام کرنا ہے۔ اہل ووٹر کا نام واپس آئے، غلطی کی اصلاح آسان ہو، فیصلوں کا ریکارڈ جانچا جا سکے اور طاقت استعمال کرنے والا اس کا جواب دے۔ ان نتائج سے لوگوں کو یقین ملے گا کہ آئینی راستے اختیار کرکے اپنے حقوق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ www.reuters.com
آج رات میٹرو کے دروازے دوبارہ کھل گئے اور جنتَر منتر کے گرد انٹرنیٹ خدمات بحال ہونے کی خبر بھی آئی۔ روزمرہ زندگی کو اپنی رفتار واپس مل رہی ہے۔ اب شہری اور حکومت کے درمیان اعتماد کا راستہ بھی کھلنا چاہیے۔ جولائی میں وزیر کا استعفا نوجوانوں کی آواز کا اثر دکھا گیا تھا۔ اکتوبر میں اسی آواز کی بقا اور اس سے پیدا ہونے والی اصلاح جمہوریت کی قوت دکھائے گی۔ اس لیے آج کی کارروائی کے بعد سی جے پی کا آزاد، پُرامن اور عوامی تحریک رہنا ہندوستان کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ndtv.com
دہلی کے بند دروازوں پر جو دستک سنائی دی ہے، اس میں اپنے ووٹ اور اپنی محنت کی قدر منوانے کا مطالبہ ہے۔ یہ نوجوان اپنے ملک کے فیصلوں میں حصہ چاہتے ہیں۔ سی جے پی اس محاصرے سے اپنی آواز، اپنے اصول اور لوگوں کا ساتھ بچا لے گئی تو ہندوستان میں جمہوریت کو نئی زندگی ملے گی۔ پھر یہ دستک ہر شہری کو یاد دلائے گی کہ حکومت اس کی بات سننے اور اپنے کام کا جواب دینے کی پابند ہے۔ اسی اعتماد میں ہندوستان کی جیت ہے۔









