مطالعات

پاکستان میں نئے صوبے: عوام کو اختیار ملے گا یا جرنیل کو؟

چھوٹے صوبے انتظام بہتر بنا سکتے ہیں۔ مگر عوام کی مرضی، مالی اختیار اور آزاد سیاست کے بغیر نئی سرحدیں پرانی بے اختیاری کو مزید گہرا بھی کر سکتی ہیں۔

مطالعات October 10, 2026 13 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو صرف نقشے کا مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا۔ اس بحث میں عوام کی سہولت بھی شامل ہے، صوبوں کی شناخت بھی اور اقتدار کی کشمکش بھی۔ کسی شہری کے لیے اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے علاج، تعلیم اور انصاف کہاں ملے گا۔ حکمران کے لیے یہ تبدیلی اس سوال سے بھی جڑی ہو سکتی ہے کہ آئندہ اس کے اختیار کو چیلنج کون کر سکے گا۔

دی اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ پر مبنی خبروں میں کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے چار صوبوں کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کرنے کے حامی ہیں۔ اس تجویز پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اس سے صوبائی سیاسی قوتیں کمزور اور فوج کا اثر بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک رپورٹ شدہ دعویٰ اور اس کی سیاسی تشریح ہے؛ اسے کسی منظور شدہ منصوبے یا ثابت شدہ نیت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ البتہ اس نے ایک ضروری سوال اٹھا دیا ہے: کیا حکومت عوام کے قریب لائی جا رہی ہے، یا عوام کے منتخب نمائندوں کی طاقت گھٹائی جا رہی ہے؟ [1]

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے اعداد کی ایک الجھن دور کرنا ضروری ہے۔ وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے ستمبر ۲۰۲۶ میں دو راستے پیش کیے تھے۔ ایک، ۱۲ سے ۱۵ صوبوں کی تشکیل پر سیاسی اتفاق پیدا کیا جائے۔ دوسرا، تقریباً ۱۶۰ اضلاع میں بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ ضلعی حکومت اور آئینی صوبہ ایک چیز نہیں۔ دونوں کو ملا کر پاکستان کے ’’۱۶۰ صوبے‘‘ بننے کی خبر دینا اصل بحث کو دھندلا دیتا ہے۔ [2]

یہ معاملہ محض اخباری قیاس بھی نہیں رہا۔ ۱۰ ستمبر کو وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اکتوبر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس پر بحث کرانے کا اعلان کیا۔ اسی بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی بات نہیں ہو رہی۔ بحث کا اعلان اپنی جگہ، مگر اس سے نئی صوبائی حدود، اختیارات اور مالی بندوبست کی منظوری ثابت نہیں ہوتی۔ [3]

نئے صوبوں کے حامیوں کی ہر دلیل کو فوجی سازش کہہ کر رد کرنا بھی انصاف نہیں ہوگا۔ پاکستان کے صوبوں میں آبادی کا فرق بہت بڑا ہے۔ سرکاری مردم شماری کے مطابق ۲۰۲۳ میں پنجاب کی آبادی تقریباً ۱۲ کروڑ ۷۷ لاکھ تھی۔ سندھ میں تقریباً ۵ کروڑ ۵۷ لاکھ، خیبر پختونخوا میں ۴ کروڑ ۹ لاکھ اور بلوچستان میں ایک کروڑ ۴۹ لاکھ لوگ تھے۔ پنجاب میں ان چار صوبوں اور اسلام آباد کی مجموعی آبادی کے نصف سے زیادہ لوگ رہتے تھے۔ اتنی بڑی آبادی کی ضروریات پر سنجیدہ انتظامی بحث ہونی چاہیے۔ [4]

علاقائی مطالبات کو بھی محض سیاسی شور نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہزارہ، جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے لیے الگ صوبوں کی آوازیں موجود ہیں۔ اگست ۲۰۲۶ میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے ان مطالبات کی حمایت کی۔ ان کی تائید یا مخالفت سے پہلے وہاں کے لوگوں کی بات سننا ضروری ہے۔ کسی علاقے کا شہری اگر سمجھتا ہے کہ اس کا حصہ ترقیاتی خرچ، ملازمتوں یا سرکاری توجہ میں کم ہے تو اسے جواب درکار ہے۔ اسے خاموش کرانا مسئلے کا حل نہیں۔ [5]

لیکن صوبے کا رقبہ یا آبادی کم کر دینا اچھی حکومت کی ضمانت نہیں۔ نیا دارالحکومت بن سکتا ہے اور اختیارات پھر بھی چند خاندانوں، افسروں اور بااثر لوگوں کے پاس رہ سکتے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ کا دفتر نزدیک آ جائے، مگر شہری اپنے اسکول کی خراب حالت بھی نہ بدلوا سکے تو اس قربت سے کتنا فائدہ ہوگا؟ انتظام کی کامیابی دفتر کے فاصلے کے ساتھ اس کے جواب دہ ہونے پر بھی منحصر ہے۔

پاکستان کے آئین میں عوام تک اختیار پہنچانے کا راستہ پہلے سے موجود ہے۔ آرٹیکل ۱۴۰ اے ہر صوبے کو مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرنے کا پابند بناتا ہے۔ سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار ان حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل ہونا چاہیے۔ اس لیے جو رہنما نئے صوبوں کو عوام کی واحد نجات بتاتے ہیں، انہیں پہلے یہ بتانا چاہیے کہ موجودہ آئینی ذمہ داری پوری کیوں نہیں ہو رہی۔ [6]

یہاں صوبائی جماعتوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ عرب نیوز کی رپورٹنگ میں مقامی اداروں کے کمزور مالی وسائل اور انتخابات میں تاخیر کی نشان دہی ہوئی ہے۔ صوبائی خودمختاری کا دفاع تب زیادہ معتبر ہوگا جب صوبہ اپنے شہروں اور اضلاع کو بھی اختیار دے۔ اگر اسلام آباد سے اختیار لینا حق ہے تو ضلعی نمائندوں کا صوبائی دارالحکومت سے اختیار مانگنا بھی حق ہونا چاہیے۔ [7]

اسی طرح ’’عوام کے قریب حکومت‘‘ کا دعویٰ فوجی قیادت کو سیاسی فیصلوں کا حق نہیں دے دیتا۔ پاکستان کے آئین کے تحت مسلح افواج کے ارکان کا حلف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کا پابند کرتا ہے۔ صوبوں کی تشکیل لوگوں کی نمائندگی، وسائل اور آئندہ حکومتوں کا معاملہ ہے۔ فوج کے لیے اس میں اپنی پسند کی سیاسی ترتیب بنوانے کی گنجائش نکالنا آئینی حدود کو بے معنی کر دے گا۔ [8]

یہ فیصلہ منتخب اداروں میں ہونا چاہیے، اور انہیں دباؤ کے بغیر فیصلہ کرنے دینا چاہیے۔ محض اسمبلی سے ووٹ لے لینا کافی نہیں، اگر اختلاف کرنے والے کے لیے اپنی رائے کا اظہار مشکل بنا دیا جائے۔ آئینی طریقے کی اہمیت اس وقت برقرار رہتی ہے جب اس کے ساتھ آزاد بحث، معلومات تک رسائی اور حقیقی رضامندی بھی موجود ہو۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ممکنہ سیاسی اثر صرف عمران خان کی جماعت تک محدود نہیں۔ مسلم لیگ ن کی بڑی انتخابی قوت پنجاب میں ہے اور پیپلز پارٹی کی سندھ میں۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت ہے۔ اس لیے صوبائی حدود کی تبدیلی حکومت میں شامل جماعتوں اور حزبِ اختلاف، دونوں کے مستقبل پر اثر ڈال سکتی ہے۔ آج کی اتحادی جماعت بھی کل کسی فوجی فیصلے کے سامنے رکاوٹ بن سکتی ہے۔ [7، 9]

میری رائے میں اصل تشویش یہی ہے۔ اگر تقسیم کا مقصد مضبوط صوبائی حکومتوں کو کئی ایسی حکومتوں میں بدلنا ہو جو وسائل اور سیاسی بقا کے لیے اوپر دیکھتی رہیں تو عوام کی بے اختیاری بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں علاقائی قیادت کے لیے مشترکہ مطالبات اٹھانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ صوبوں کی تعداد بڑھے گی، مگر اہم فیصلے کرنے والوں کی تعداد شاید نہ بڑھے۔

تاہم یہ نتیجہ ہر نئے صوبے کے ساتھ لازماً نہیں نکلتا۔ مضبوط مالی اختیار، آزاد انتخابات اور آئینی تحفظ رکھنے والا چھوٹا صوبہ بھی اپنے لوگوں کی مؤثر نمائندگی کر سکتا ہے۔ بڑی جماعت نئی حدود میں بھی جیت سکتی ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کی ہر تجویز کو مخالفت توڑنے کی یقینی چال کہنا اتنا ہی کمزور مؤقف ہوگا جتنا اسے خوش حالی کا یقینی نسخہ قرار دینا۔

نقشے کی تبدیلی کا ایک اور پہلو عام بحث میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ پاکستان کی سینیٹ میں صوبوں کی مساوی نمائندگی کا مقصد چھوٹے صوبوں کو آبادی میں بڑے صوبے کے غلبے سے بچانا ہے۔ اگر کسی موجودہ صوبے سے زیادہ نئے صوبے بنیں اور کسی سے کم، تو نئے آئینی بندوبست کے لحاظ سے وفاق میں نمائندگی کا توازن بدل سکتا ہے۔ لہٰذا نئی لکیروں کے ساتھ یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ سینیٹ میں کس خطے کی آواز کتنی ہوگی۔ [10]

وسائل کی تقسیم بھی پہلے طے ہونی چاہیے۔ پانی، ٹیکس آمدنی، قدرتی وسائل، ملازمین، قرض اور سرکاری اثاثے کس اصول سے بانٹے جائیں گے؟ نئے انتظام پر کتنا خرچ آئے گا؟ تعلیم اور علاج کے لیے رقم بڑھے گی یا نئی حکومتوں کے دفاتر پر خرچ ہوگی؟ ان سوالوں کے جواب کے بغیر صوبوں کی تعداد تجویز کرنا سیاسی اعلان تو ہے، مکمل اصلاحی منصوبہ نہیں۔

سندھ میں اعتراضات کی شدت کو اسی پس منظر میں سمجھنا چاہیے۔ ۳ ستمبر ۲۰۲۶ کو صوبائی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے سندھ کی تقسیم یا اس کی حدود بدلنے کی تجویز مسترد کی۔ پیپلز پارٹی اپنی سیاسی قوت بچانا چاہتی ہو سکتی ہے، مگر صوبائی شناخت کا تحفظ چاہنے والے ہر شہری کو اس جماعت کے مفاد کا نمائندہ قرار دینا غلط ہوگا۔ دونوں باتوں میں فرق رکھنا ضروری ہے۔ [11]

اس کے ساتھ کراچی کے شہریوں کی انتظامی شکایات، مقامی اختیار کی خواہش اور برابر مواقع کے مطالبے کو بھی اہمیت ملنی چاہیے۔ سندھ کی وحدت کے نام پر شہری مسائل نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ اسی طرح شہری مسائل کے نام پر سندھی شناخت اور صوبے کی اجتماعی رضامندی کو بے معنی نہیں بنایا جا سکتا۔ منصفانہ حل کو دونوں طرف کے لوگوں کے حقوق محفوظ کرنے ہوں گے۔

آئین نے صوبائی رضامندی کی شرط اسی لیے رکھی ہے۔ آرٹیکل ۲۳۹ کے تحت آئینی ترمیم کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں میں کل ارکان کی کم از کم دو تہائی حمایت درکار ہے۔ اگر ترمیم کسی صوبے کی حدود بدلتی ہو تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی دو تہائی منظوری بھی ضروری ہے۔ صرف وفاقی حکومت کا فیصلہ یا عوامی حمایت کا دعویٰ اس شرط کی جگہ نہیں لے سکتا۔ [12]

پاکستان کی اپنی تاریخ بھی احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔ ون یونٹ کے تحت ۱۹۵۵ میں مغربی پاکستان کے صوبوں کو ایک بڑے صوبے میں ضم کیا گیا۔ سندھ کی اسمبلی ختم ہوئی۔ ۱۹۷۰ میں ون یونٹ ختم ہوا اور سندھ کی صوبائی اسمبلی بحال ہوئی۔ آج کی تقسیم اس انضمام سے مختلف ہے، مگر ہماری نظر میں تاریخ کا بنیادی سبق وہی ہے: لوگوں کی شناخت اور نمائندگی کو انتظامی سہولت کا نام دے کر کمزور کرنا دیرپا اعتماد پیدا نہیں کرتا۔ [13]

اس لیے پہلی ترجیح مقامی حکومتوں کے باقاعدہ انتخابات، واضح ذمہ داریاں اور ان کے لیے یقینی مالی وسائل ہونے چاہییں۔ اس کے ساتھ نئے صوبوں کے مطالبات پر آزاد کمیشن کام کرے۔ مجوزہ حدود، اخراجات اور وسائل کی تقسیم عوام کے سامنے رکھی جائے۔ متاثرہ علاقوں میں کھلی سماعتیں ہوں۔ عورتوں، مذہبی اقلیتوں، مزدوروں اور چھوٹے علاقوں کے نمائندوں کو بھی گفتگو میں حصہ ملے۔ اصلاح پر اتفاق صرف بڑے سیاسی رہنماؤں کی نشست سے مکمل نہیں ہوتا۔

ایسا طریقہ نئے صوبوں کی بحث کو روکنے کے لیے نہیں، اسے معتبر بنانے کے لیے ضروری ہے۔ جہاں الگ صوبہ واقعی عوام کی ضرورت ہو، وہاں دلیل، رضامندی اور آئین کے ذریعے راستہ نکلنا چاہیے۔ جہاں مقامی حکومت بہتر حل ہو، وہاں نئے صوبے کا وعدہ ضروری کام کو مؤخر کرنے کا بہانہ نہ بنے۔

عاصم منیر یا کسی اور طاقت ور شخصیت کی نیت کے بارے میں قطعی فیصلہ ایک رپورٹ سے نہیں ہو سکتا۔ مگر اختیار کس کے ہاتھ میں جائے گا، یہ منصوبے کی شرائط سے معلوم ہو سکتا ہے۔ عوام اپنے نمائندے آزادانہ چن سکیں، وہ اپنے وسائل پر فیصلہ کر سکیں اور ان سے جواب مانگا جا سکے تو تبدیلی کا دفاع ممکن ہے۔ اگر منتخب ادارے کمزور ہوں اور فوجی اثر بڑھ جائے تو عوام کو اس اصلاح کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

پاکستان کے لیے اصل امتحان صوبوں کی گنتی نہیں۔ امتحان یہ ہے کہ نئے بندوبست میں عام شہری کی مرضی کتنی مؤثر ہوگی۔ حکومت اس وقت عوام کے قریب آئے گی جب شہری اس سے اپنا حق لے سکے، اس کی غلطی پر سوال اٹھا سکے اور ضرورت پڑنے پر اسے بدل سکے۔ یہی اختیار منتقل ہونا چاہیے۔ اس کے بغیر نیا نقشہ بھی پرانے اقتدار کی خدمت کرے گا۔


حوالہ جات اور تحقیقی وضاحت

تحقیق کی تاریخ: ۹ اکتوبر ۲۰۲۶۔ یہ رائے پر مبنی اصل مضمون فراہم کردہ اقتباس، پاکستانی صحافتی رپورٹوں، سرکاری مردم شماری اور آئینی متن کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔ فوجی قیادت کی مبینہ حکمتِ عملی کو ثابت شدہ منصوبہ نہیں کہا گیا۔ ممکنہ سیاسی اور مالی نتائج مصنف کا مشروط تجزیہ ہیں۔

[1] Mint، ۹ اکتوبر ۲۰۲۶: دی اکانومسٹ سے منسوب رپورٹ میں عاصم منیر اور نئے صوبوں کی تجویز۔ اصل مکمل مضمون تک رسائی نہیں ملی؛ فوجی محرک کے بارے میں دعویٰ اسی نسبت سے استعمال کیا گیا ہے۔
Link

[2] Mettis Global، ۶ ستمبر ۲۰۲۶: احسن اقبال کی دو الگ تجاویز، ۱۲ تا ۱۵ صوبے یا ۱۶۰ بااختیار ضلعی حکومتیں۔
Link

[3] Geo News، ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶: پارلیمانی بحث کا اعلان اور اسلام آباد کے صوبائی درجے کی تردید۔
link

[4] پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس: مردم شماری ۲۰۲۳، جدول ۱؛ صوبوں اور اسلام آباد کی آبادی۔ پنجاب کا ۵۲٫۸۷ فیصد حصہ قومی مردم شماری رپورٹ سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Pakistan.pdf

[5] Pakistan Today، ۱۵ اگست ۲۰۲۶: ہزارہ، جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے لیے صوبوں کے مطالبات کی حمایت۔
Link

[6] آئینِ پاکستان، آرٹیکل ۱۴۰ اے: مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار۔ پاکستانی ڈاٹ آرگ پر اصل آئینی متن کی نقل۔
https://www.pakistani.org/pakistan/constitution/part4.ch3.html

[7] Arab News، ۳ اگست ۲۰۲۶: صوبائی جماعتوں کی سیاسی قوت، مقامی حکومتوں کی کمزوری اور نئے صوبوں پر مختلف مؤقف۔
Link

[8] سندھ جوڈیشل اکیڈمی: آئین کا تیسرا شیڈول، آرٹیکل ۲۴۴ کے تحت مسلح افواج کے ارکان کا حلف؛ سیاسی سرگرمیوں سے اجتناب۔
link

[9] Associated Press، ۴ اکتوبر ۲۰۲۶: خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کی حکومت کا تازہ حوالہ۔
link

[10] سینیٹ آف پاکستان: صوبوں کی مساوی نمائندگی کا مقصد۔ نئے صوبوں سے نمائندگی میں ممکنہ تبدیلی مضمون کا مشروط تجزیہ ہے۔
https://www.senate.gov.pk/en/essence.php?id=1101

[11] The Express Tribune، ۱۱ ستمبر ۲۰۲۶: سندھ اسمبلی کی ۳ ستمبر کی متفقہ قرارداد اور صوبائی حدود پر بحث۔
link

[12] آئینِ پاکستان، آرٹیکل ۲۳۹: دونوں وفاقی ایوانوں کی دو تہائی اکثریت اور حدود بدلنے پر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری۔
https://www.pakistani.org/pakistan/constitution/part11.html

[13] صوبائی اسمبلی سندھ: ون یونٹ میں ۱۹۵۵ کا انضمام، اسمبلی کا خاتمہ اور ۱۹۷۰ میں بحالی۔
https://pas.gov.pk/about-sindh-assembly

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے