
دوپہر کا وقت تھا۔ زین اور عائشہ دادی کے باغ میں بیٹھے آم کھا رہے تھے۔ چھوٹو ان کے پاس سو رہا تھا۔
مٹھو اڑتا ہوا آیا اور زین کے کندھے پر بیٹھ گیا۔
”میرا آم کہاں ہے؟“ اس نے پوچھا۔
دادی نے ٹوکری کی طرف اشارہ کیا۔ ”وہ رہا تمہارا آم۔“
ٹوکری میں ایک چھوٹا سا آم بچا تھا۔
مٹھو نے منہ بنایا۔ ”اتنا چھوٹا آم! مجھے بڑا آم چاہیے!“
وہ اڑ کر درخت پر جا بیٹھا۔ ایک شاخ سے بہت بڑا آم لٹک رہا تھا۔
”یہ ہوا نا آم!“ مٹھو خوش ہو کر بولا۔
اس نے آم کی ڈنڈی چونچ سے پکڑی اور کھینچی۔ ڈنڈی ٹوٹ گئی، مگر آم اتنا بھاری تھا کہ مٹھو اسے سنبھال نہ سکا۔
دھپ!
آم نیچے کیچڑ میں جا گرا۔ چھوٹو گھبرا کر اٹھا اور بھاگتے ہوئے زین کی چپل پر پاؤں رکھ دیا۔
”ارے! میری چپل!“ زین چلّایا۔
عائشہ ہنس پڑی۔ ”مٹھو، تم آم توڑ رہے ہو یا سب کو ڈرا رہے ہو؟“
مٹھو آہستہ سے نیچے آیا۔ اس نے کیچڑ میں پڑے آم کو دیکھا، پھر ٹوکری والے چھوٹے آم کو۔
”پہلے اسے چکھ تو لو،“ دادی نے کہا۔
دادی نے چھوٹا آم دھو کر کاٹا۔ مٹھو نے ایک نوالہ کھایا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
”واہ! یہ تو بہت میٹھا ہے!“
زین نے پوچھا، ”اب بھی بڑا آم چاہیے؟“
مٹھو نے جلدی سے دوسرا نوالہ اٹھایا۔
”پہلے یہ والا ختم تو کرنے دو!“
سب ہنس پڑے۔
دادی نے بڑے آم کو اٹھا کر الگ رکھ دیا تاکہ اسے بھی اچھی طرح دھو سکیں۔
مٹھو بولا، ”دادی، کل میرا آم میں خود چنوں گا… مگر پہلے آپ سے پوچھوں گا!“
سبق: کسی چیز کی قدر صرف اس کے سائز یا شکل سے نہیں کرنی چاہیے۔







