زاویہ

اچھا مسلمان اور ذمہ دار شہری: ایمان کا تقاضا اور ملک کا آئین

کیا دین و ایمان صرف نماز روزے، مذہبی رسوم اور دینی فرائض کی ادائیگی تک محدود ہے یا اس کا اظہار ہمارے سماجی کردار، تعلقات اورخدمات میں بھی ہونا چاہیے؟ آج یہ سوال غور و فکر…

کالم کا حصہ
زاویہ
زاویہ November 1, 2026 7 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

کیا دین و ایمان صرف نماز روزے، مذہبی رسوم اور دینی فرائض کی ادائیگی تک محدود ہے یا اس کا اظہار ہمارے سماجی کردار، تعلقات اورخدمات میں بھی ہونا چاہیے؟ آج یہ سوال غور و فکر کے سب سے سلگتے سوالات میں شامل ہے۔ ہندوستان جیسے متنوع اور جمہوری ملک میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں، زبانوں اور سماجی پس منظر کے لوگوں کا مستقبل مشترک ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے دین محض فرد اور خدا کے مابین تعلق تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک اخلاقی عہد بھی ہے، جو انسان کے کردار کی تشکیل کرتا ہے، دوسروں کے ساتھ اس کے معاملات کو منضبط کرتا ہے اور اسے خدمتِ خلق کی ترغیب دیتا ہے۔ اس لیے ایک اچھے مسلمان کو دیانت دار انسان، ہمدرد پڑوسی، اپنے پیشےمیں سنجیدہ و راست باز، قانون کا پابند شہری اور معاشرے کی ترقی میں سرگرم شریک ہونا چاہیے۔ دینی وابستگی اور شہری ذمہ داری ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں بلکہ صحیح مفہوم میں یہ دونوں ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔
قرآن مجید انسان کو اپنے اعمال کا جواب دہ بناتا اور بار بار عدل و انصاف قائم کرنے، ذمہ داریاں ادا کرنے اور دیانت داری کے ساتھ زندگی گزارنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشادہے:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔(4:58)
مزید ارشاد ہوا:
’’بے شک اللہ عدل ،احسان اور رشتے داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔( 16:90)
یہ جامع ہدایت انفرادی کردار اور اجتماعی زندگی، دونوں کی اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان اصولوں کو اپنے عمل کے ذریعے واضح کیا۔ آپ ﷺ کی زندگی تجارت میں دیانت داری، کمزوروں کے ساتھ ہمدردی، معاہدوں کی پاس داری، پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور عدل و انصاف پرغیرمتزلزل استقامت کی روشن مثال ہے۔ آپ ﷺ نے یہ تعلیم دی کہ ایمان کا اظہار انسان کے کردار اور عملی زندگی سے ہونا چاہیے۔
دیانت داری، راست گوئی اور حقوق شناسی :
ایک اچھے مسلمان اور ذمہ دار شہری کے کردار کی بنیاد دیانت داری پر قائم ہوتی ہے۔ سچ بولنا، امانت داری، ایفائے وعدہ، معاہدوں کی پاس داری اور دوسروں کے حقوق کا احترام اسلام میں محض اختیاری خوبیاں نہیں بلکہ اس کا اس کا ضابطہ اخلاق اور بنیادی تعلیم ہیں۔قرآن مجید اہلِ ایمان کو حکم دیتا ہے: اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، خواہ یہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور رشتے داروں کے خلاف(4:135)۔
یہ ہدایت اس رجحان کی نفی کرتی ہے جس میں ذاتی مفادات، خاندانی وفاداریاں، گروہی وابستگیاں یا سیاسی ترجیحات کو سچائی پر فوقیت دی جاتی ہے۔ ایک انصاف پسند انسان کسی غلط کار کی حمایت محض اس لیے نہیں کرتا کہ وہ اس کی اپنی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ایک ذمہ دار شہری کسی سیاسی جماعت یا سماجی گروہ کے ساتھ ہونے کی وجہ سےاس کے جھوٹ کوقبول نہیں کرتا۔
انسانی حقوق کا احترام اسلامی اصول و اخلاق کا ایک اور بنیادی پہلو ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی(17:70)۔
انسانی وقار کسی مخصوص نسل، قومیت یا سماجی طبقے تک محدود نہیں ہے۔ یہ انسانی زندگی کے احترام، کمزوروں کے تحفظ اور تذلیل، استحصال اور امتیازی سلوک کی مخالفت کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ایک اچھا مسلمان اس وقت لاتعلق اور خاموش نہیں رہ سکتا جب غریبوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جائے، مزدوروں کا استحصال ہو، خواتین کے ساتھ ناانصافی کی جائے، بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا جائے یا کسی کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے۔ ضرورت مندوں کے تئیں ہمدردی محض کبھی کبھار صدقہ و خیرات کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ ان کے حالات بہتر بنانے اور ان کے جائز حقوق کی فراہمی کے لیے اس کومسلسل کوششوں کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔
انفرادی نیکی سے سماجی خدمت تک:
مذہبی وابستگی اس وقت وسیع تر سماجی معنویت اختیار کرتی ہے جب وہ انسان کو دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کی تحریک دیتی ہے۔ نماز، روزہ، صدقہ و خیرات اور عبادات کی دیگر شکلیں انسان میں نظم و ضبط، انکسار، ضبطِ نفس اور ہمدردی پیدا کرتی ہیں۔ ان صفات کا اثر کام کی جگہ، کاروبار، سرکاری اداروں اور محلے میں انسان کے طرزِ عمل پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اگر نہیں ہوتا توکچھ کمی ضرورہے۔ قرآن مجید میں ارشادہوا : اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو( 5:2)۔
یہ اصول ان افراد اور تنظیموں کے ساتھ تعاون کی ترغیب دیتا ہے جو تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے، ماحول کے تحفظ، آفات کے متاثرین کی امداد اور سماجی انصاف کے لیے کام کر رہے ہوں۔
آئین اور قانون کی حکمرانی :
ایک آئینی جمہوریت میں ذمہ دار شہری ہونے کے لیے ملک کے آئینی ڈھانچے، قوانین، اداروں اور شہری ذمہ داریوں سے واقفیت ضروری ہے۔ شہریوں کو اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے، سرکاری اختیارات کی حدود کو سمجھنا چاہیے اور اپنے مفادات کے تحفظ اور شکایات کے ازالے کے لیے قانونی اور جمہوری طریقے اختیار کرنے چاہییں۔ ہندوستان کا آئین ایک ایسا مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت مختلف مذہبی اور ثقافتی شناختوں کے حامل افراد مساوی شہریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انصاف، آزادی، مساوات اور اخوت سے متعلق آئینی اقدار ایک ایسے معاشرے کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں جو غیر معمولی تنوع کا حامل ہے۔
مذہبی شناخت اور مشترکہ شہریت:
عصرِ حاضر کے عوامی مباحث میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ مضبوط مذہبی شناخت لازماً قومی وفاداری سے متصادم ہوتی ہے۔ یہ تصور ایمان اور شہریت کے درمیان ایک مصنوعی انتخاب پیدا کرتا ہے، گویا کسی شخص کو اپنی قومی وابستگی ثابت کرنے کے لیے اپنی مذہبی شناخت کمزور کرنا ضروری ہو۔ایسا انتخاب نہ ضروری ہے اور نہ ہی تعمیری۔ ایک مسلمان اپنے اسلامی عقائد اور دینی معمولات پر قائم رہتے ہوئے ایک مکمل طور پر محب وطن شہری ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہری بھی اپنی مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے ملک کی شہری اور قومی زندگی میں مساوی طور پر حصہ لے سکتے ہیں۔
ہندوستان کا آئینی تصور مذہبی تنوع کو تسلیم کرتے ہوئے شہریت کے مشترکہ اصول قائم کرتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجیدسماجی زندگی کا یہ اصول دیتا ہے: لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے( 49:13)۔
یہ آیت انسانی تنوع کو نظامِ الٰہی کا حصہ قرار دیتے ہوئے دشمنی کے بجائے باہمی تعارف اور جان پہچان کی چیز بتاتی ہے۔ یہ انسانی اختلافات کو مٹاتی نہیں، بلکہ انہیں ایک وسیع تر دائرے میں رکھتی ہے۔حاصل کلام یہ کہ جب ایمان سالمیت کاسرچشمہ بن جاتا ہے، شہریت خدمت خلق کی بنیاد بن جاتی ہے، اور حب الوطنی یا قوم پروری ہر اہل وطن کی فکروخیرخواہی ہو جاتی ہے،تب ایک زیادہ منصفانہ، ہم آہنگ اور فلاحی ہندوستان کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں۔ آئیڈیل سادہ لیکن گہراہے:مسلم ہونے کے معنی ہیں’ خدا کے لیے وفادار، خلق خداکے لیے منصف، قانون کا پابند، کمزوروں کا ہمدرد اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے پرعزم’۔
[email protected]

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے

بچوں کا ہفتہ

مٹھو کا آم

دوپہر کا وقت تھا۔ زین اور عائشہ دادی کے باغ میں بیٹھے آم کھا رہے تھے۔ چھوٹو ان کے پاس سو رہا تھا۔ مٹھو…

بچوں کا ہفتہ October 31, 2026 2 منٹ مطالعہ