مجھے آج بھی یاد ہے، اسکول کے دنوں میں پہلی بار COP کا نام سنا تھا۔ تب میری سمجھ میں اس کا مطلب بہت سادہ تھا۔ ماحول کو بچانے کی ایک عالمی کوشش، جس کا مطلب میرے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا تھا۔ یونیورسٹی پہنچا تو اسی خیال کے ساتھ دہلی میں COP8 سے متعلق کچھ پروگراموں میں NSS رضاکار کے طور پر حصہ بھی لیا، لیکن COP کے بارے میں میری سمجھ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ میرے لیے COP اب بھی درخت لگانے اور ماحول بچانے کی ایک عالمی کوشش تھی۔
پھر 2005 میں بھارت میں RTI قانون آیا۔اسی دوران مجھے ایک تضاد نظر آنے لگا۔ ایک طرف ہم ہزاروں پودے لگانے کی مہمات چلا رہے تھے، دوسری طرف ترقی کے نام پر، خاص طور پر دہلی جیسے شہروں میں، درخت کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے اس بارے میں RTI دائر کی۔اس سے سامنے آنے والی معلومات میرے لیے بھی حیران کن تھیں اور بعد میں بڑے اخبارات کی سرخیاں بھی بنیں۔ معلوم ہوا کہ محض پانچ برسوں میں دہلی شہر میں 50 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے تھے۔
شاید اسی وقت ماحولیات کو دیکھنے کا میرا انداز بدلنا شروع ہوا تھا۔ درخت لگانا یقیناً ضروری ہے، لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے پودے لگائے گئے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کتنے درخت کاٹے گئے، کہاں کاٹے گئے اور ان کے بدلے کہاں پودے لگائے گئے؟ اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں، اسے محفوظ رکھنے کے لیے حقیقت میں کیا کر رہے ہیں؟
ترکیہ آنے کے بعد، اور خاص طور پر جب COP31 کی میزبانی اسے ملی، مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ COP دراصل درخت لگانے سے کہیں بڑی کہانی ہے۔ اب مجھے سمجھ آنے لگا تھا کہ COP صرف ماحولیات کا نہیں، معیشت، توانائی، سرمایہ کاری اور قومی سلامتی کا بھی سوال ہے۔لیکن اس کے ساتھ ایک سوال مسلسل میرے ذہن میں تھا: 30 COPs کے بعد دنیا کو ملا کیا؟ ہر سال بڑے وعدے ہوتے ہیں، نئے اہداف طے ہوتے ہیں، عالمی رہنما موسمیاتی بحران کی سنگینی بیان کرتے ہیں۔ مگر ان وعدوں کا زمین پر نتیجہ کتنا نکلا؟
نیپال میں آنے والے حالیہ Flash Flood کی تصاویر نے اس سوال کو میرے لیے اور زیادہ تکلیف دہ بنا دیا۔ میں ان علاقوں کو پہلے دیکھ چکا ہوں۔ یہ میرے لیے صرف خبروں کی تصاویر نہیں تھیں۔ ادھر ہندوستان میں میرا اپنا ضلع مغربی چمپارن موسمیاتی خطرے کے الرٹ پر تھا، جو نیپال کے اسی علاقے سے لگا ہوا ہے۔ ایسے میں موسمیاتی تبدیلی اب کوئی دور کی عالمی بحث نہیں رہتی۔ یہ ہمارے گھروں، شہروں اور روزمرہ زندگی کا سوال بن جاتی ہے۔
شاید اسی لیے 4 ستمبر کو استنبول فنانس سینٹر میں ہونے والی Climate Finance Summit میرے لیے محض ایک اور کانفرنس نہیں تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ میں COP31 سے متعلق کسی بڑے پروگرام کا براہ راست حصہ بن رہا تھا۔
Halkalı سے Ümraniye کے İstanbul Finans Merkezi کی طرف جاتے ہوئے میں یہی سوچ رہا تھا کہ شاید اس پروگرام میں بھی زیادہ لوگ شریک نہیں ہوں گے، جیسا کہ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بہت سی کانفرنسوں میں ہوتا ہے۔لیکن وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ میرا اندازہ بالکل غلط تھا۔climate finance جیسے موضوع میں اتنی بڑی دلچسپی کی توقع نہیں کی تھی، مگر آڈیٹوریم میں اتنا ہجوم تھا کہ بڑی مشکل سے سب سے پیچھے کھڑے ہونے کی جگہ مل سکی۔
سامنے COP31 کے نامزد صدر اور ترکیہ کے وزیر ماحولیات، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی مرات کوروم خطاب کر رہے تھے اور ہال میں موجود لوگ پوری توجہ سے انہیں سن رہے تھے۔ بلکہ پیچھے کھڑے میرے لیے یہ منظر دلچسپ تھا کہ اتنے بھرے ہوئے ہال میں لوگ خاموشی سے نوٹس لے رہے تھے، اور ان کی اہم باتوں پر کہیں کہیں تالیاں بھی بجا رہے تھے۔
کچھ ہی دیر میں پہلا سیشن ختم ہوا۔ اس کے بعد ہم پریس کانفرنس کے لیے ایک دوسرے ہال میں تھے۔ پریس کانفرنس ختم ہونے تک مجھے محسوس ہوا کہ COP کو میں شاید اب پہلے کی طرح نہیں دیکھ سکوں گا۔
مرات کوروم نے اس پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ترکیہ چاہتا ہے کہ دنیا کی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کو اسی فوری اور سنجیدہ انداز میں لیں جس طرح وہ قومی دفاع کو اہمیت دیتی ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک بڑے ہدف کی تجویز پیش کی کہ دنیا کے تمام ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی GDP کے کم از کم 5 فیصد کے برابر وسائل موسمیاتی سلامتی کے لیے مختص کریں۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مستقبل میں یہ شرح مزید بڑھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور یہ 7 فیصد یا حتیٰ کہ 10 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
لیکن کوروم کی ایک بات ایسی تھی جس نے مجھے سب سے زیادہ روک کر سوچنے پر مجبور کیا۔ اگر دنیا کےکئی ممالک دفاع اور سلامتی پر اخراجات بڑھانے کے لیے تیار ہیں، تو پھر اس دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے اسی طرح کی سیاسی اور مالی ترجیح کیوں نہیں دی جا سکتی جس میں ہم رہتے ہیں؟
پھر انہوں نے ایک ایسا سوال اٹھایا جس پر شاید دیر تک سوچا جا سکتا ہے، ’’اگر مستقبل میں ہمارے پاس رہنے کے لیے ایک محفوظ دنیا ہی نہیں ہوگی تو اپنے ممالک کے دفاع کے لیے ہم جو اخراجات کر رہے ہیں، ان کا کیا مطلب رہ جائے گا؟‘‘ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کی بحث ماحولیات سے نکل کر سیاست اور سلامتی کی بحث بن جاتی ہے۔ سکیورٹی صرف سرحدوں، فوجوں اور ہتھیاروں کا نام نہیں۔اگر پانی محفوظ نہ ہو، شہر شدید گرمی اور سیلاب کے سامنے بے بس ہوں، خوراک کا نظام دباؤ میں ہو اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنے کے قابل ماحول ہی باقی نہ رہے، تو پھر سکیورٹی کا مطلب بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔
ان کی ایک اور بات نے اس بحث کو ایک انسانی معنی دے دیا۔ ان کے مطابق اصل سوال صرف ممالک کے دفاع کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایسی دنیا چھوڑنے کا ہے جہاں زندگی ممکن ہو اور جس کا دفاع کیا جا سکے۔
میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ یہ سوال پوچھوں کہ پہلے بھی تو COP ہوتے رہے ہیں، مگر ان سے حاصل کیا ہوا؟ لیکن یہ سوال مجھ سے پہلے ہی ایک صحافی نے پوچھ ڈالا۔ ان کا جواب مختصر، واضح اور پراعتماد تھا، ’’اب تک صرف Issues پر ہی بات ہو رہی تھی، ہم نے Issues کو Diagnose کر لیا ہے، اب Treatment پر کام کرنا پڑے گا۔ جب ہم Target کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو ضرور Result بھی آئے گا۔‘‘
میں ان کے جواب سے کافی حد تک متاثر ہوا، لیکن میرے ذہن کا سوال ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اگر مسئلے کی تشخیص ہو چکی ہے تو اب علاج کا پیمانہ کیا ہوگا؟ اصل آزمائش شاید یہی ہے کہ کیا دنیا ایک بار پھر وعدوں، اعلانات اور اہداف سے آگے بڑھ سکتی ہے؟ ترکیہ اب ایک ایسے نظام کی بات کر رہا ہے جو حکومتوں کے موسمیاتی وعدوں اور ان منصوبوں کے درمیان موجود خلا کو کم کر سکے جنہیں حقیقی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو COP31 صرف ایک اور عالمی کانفرنس نہیں رہے گی۔ یہ گزشتہ کانفرنسوں کے وعدوں کو عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری میں بدلنے کی کوشش بن سکتی ہے۔تاہم اس دعوے کی اصل آزمائش نومبر میں ہوگی، جب وعدوں کو عملی منصوبوں اور سرمایہ کاری میں بدلنے کا وقت آئے گا۔لیکن ایک سوال باقی ہے: کیا دنیا ترکیہ کی اس کوشش کو محض ایک سفارتی وعدے کے بجائے عملی climate diplomacy میں تبدیل ہوتے دیکھے گی؟یہ وعدہ سننا یقیناً امید پیدا کرتا ہے، لیکن گزشتہ تین دہائیوں کا تجربہ ہمیں ایک اور سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے: وعدے کو منصوبے، اور منصوبے کو حقیقی سرمایہ کاری میں بدلنے کی ضمانت آخر کیا ہے؟
اسکول کے اس طالب علم سے لے کر استنبول کے اس صحافی تک، COP کے بارے میں میری سمجھ بہت بدل چکی ہے۔ اب میرے لیے COP صرف درخت لگانے کا نام نہیں۔ ماحول کو بچانے کی جنگ دراصل ہماری زندگی، ہماری معیشت، ہماری سکیورٹی اور ہماری آنے والی نسلوں کی جنگ ہے۔اصل سوال اب یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسی دنیا چھوڑنے کا فیصلہ کر رہے ہیں؟ COP31 کی اصل کامیابی بھی شاید اسی دن ہوگی جب دنیا وعدوں سے آگے بڑھ کر عمل شروع کرے گی۔ کیونکہ ماحول کو بچانا صرف زمین کو بچانا نہیں، اپنی زندگی کو محفوظ رکھنا ہے۔









