اخبارعالم

جب میری باری آئے گی تو مجھے بچانے کون آئے گا؟

ستمبر ۲۰۲۶ء میں کم از کم سات مسجدیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہوئیں۔ اسی مہینے ملک کے مختلف شہروں میں مسجدیں گرانے، مسلمانوں کو تشدد کی دھمکیاں دینے اور تاریخی عبادت گاہوں کو مندر…

کالم کا حصہ
چراغ آفریدم
اخبارعالم October 13, 2026 10 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

ستمبر ۲۰۲۶ء میں کم از کم سات مسجدیں مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہوئیں۔ اسی مہینے ملک کے مختلف شہروں میں مسجدیں گرانے، مسلمانوں کو تشدد کی دھمکیاں دینے اور تاریخی عبادت گاہوں کو مندر میں بدلنے کے مطالبے بھی سامنے آئے۔ یہ واقعات اب محض چند مقامی تنازعات نہیں رہے؛ یہ برابر کے شہری حق اور قانون کی ساکھ کا امتحان ہیں۔

مسجد کے مینار پر بلڈوزر کا سایہ پڑے اور اس کے باہر کسی رہنما کی زبان سے اسے گرانے کی دھمکی نکلے تو دونوں واقعات کو الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایک طرف کارروائی کو سرکاری حکم، ترقیاتی کام یا غیر قانونی تعمیر کا نام دیا جاتا ہے؛ دوسری طرف مذہبی مقام پر قبضے اور اسے مندر میں بدلنے کی کھلی باتیں ہوتی ہیں۔ پھر حکومت کی خاموشی اور پولیس کی کارروائی بھی اسی تصویر کا حصہ بن جاتی ہے۔

ستمبر ۲۰۲۶ نے ثابت کر دیا کہ ہندوستان اب صرف “سب سے بڑی جمہوریت” کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جہاں ریاست، انتظامیہ اور ہندوتوا قوتیں مل کر مسلم ورثے اور شناخت کو مٹا رہی ہیں۔ صرف ایک مہینے میں کم از کم سات مساجد مکمل یا جزوی طور پر مسمار کر دی گئیں — دو مکمل طور پر ختم، پانچ جزوی طور پر توڑ دی گئیں۔ ان میں پانچ صدیوں پرانی تاریخی مساجد شامل تھیں۔ اجین کی چھ سو سال پرانی شاہی مسجد کا مینار “سڑک کشادگی” کے نام پر گرا کر اندرونی حصہ بھی تباہ کر دیا گیا۔ دہلی کے شالیمار باغ میں مدینہ مسجد آدھی رات کو بلڈوزر کے نیچے آئی۔ فریدآباد میں زیر تعمیر مسجد جے سی بی سے گرا دی گئی۔ سہارنپور کلیکٹریٹ کمپلیکس میں ڈیڑھ سو سال پرانی مسجد تین دن میں مسمار کر دی گئی جبکہ عدالت نے صرف اخراجی حکم برقرار رکھا تھا، تباہی کا حکم نہیں۔ یہ الگ الگ “انتظامی کارروائیاں” نہیں۔ یہ ایک منظم مہم ہے۔

اسلاموفوبیا مانیٹر کی تازہ رپورٹ “India’s Mosques Under Attack” نے ان تمام واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے اور ستمبر ۲۰۲۶ کے دوران ہونے والی تباہی، نوٹسز، نفرت انگیز تقریروں اور دھمکیوں کو ایک واضح نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ رپورٹ نے نہ صرف سات بڑی مساجد کی مکمل یا جزوی مسماری کی تفصیل بیان کی بلکہ اترا پردیش اور مہاراشٹر میں جاری نوٹسز، جرمانوں اور زمین کی جانچ پڑتال کو بھی سامنے لایا ہے، اور اس سب کو وسیع تر اسلاموفوبیا کے تناظر میں دیکھا ہے۔ یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ یہ الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک منظم مہم کا حصہ ہیں۔

کسی بھی مذہبی مقام کو قانون سے بالاتر نہیں کہا جا سکتا۔ مگر قانون صرف انہدام کا اختیار نہیں دیتا؛ وہ نوٹس، سماعت، عدالتی نظرثانی اور یکساں سلوک کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ جب حکومت کسی مسجد کو گرانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے صاف بتانا ہوگا کہ کس قانون کے تحت، کس ثبوت کی بنیاد پر اور متاثرہ لوگوں کو سنے بغیر کیوں۔ اگر کم نقصان والا متبادل ممکن ہو تو اسے اختیار کرنا ہوگا۔ تاریخی عبادت گاہ کے معاملے میں توڑ پھوڑ سے پہلے اس کی وراثتی اہمیت کا آزادانہ جائزہ بھی ضروری ہے۔

مرادآباد کی مصطفیٰ مسجد کے معاملے میں انتظامیہ نے الہ آباد ہائی کورٹ کو یقین دلایا کہ باقاعدہ حکم کے بغیر مسجد نہیں گرائی جائے گی۔ ممبئی میں ہوائی اڈے کے قریب ایک مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر ہٹانے کی کارروائی کی بات ہوئی۔ بی جے پی رہنما کریٹ سومیا کے دورے اور شکایت کے بعد معاملہ انتظامیہ تک پہنچا۔ پھر ممبئی میونسپل کارپوریشن نے مسجد کے مبینہ غیر قانونی پانی کے کنکشن پر نوٹس جاری کیا اور سات دن میں جواب طلب کیا۔

ان معاملات کے قانونی پہلو اپنی جگہ ہیں۔ لیکن کیا ہر شہری کو اسی طرح سنا جاتا ہے؟ کیا دوسری مذہبی برادریوں کی عبادت گاہوں پر بھی اسی رفتار سے کارروائی ہوتی ہے؟ یا مسلمانوں کی مسجدیں ہی اچانک سرکاری توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں؟ ان سوالوں کا جواب حکومت کو دینا چاہیے، کیونکہ قانون کی غیر جانب داری کا اعلان کافی نہیں؛ اس کا ثبوت بھی دکھانا پڑتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہندوتوا قوتوں کی نفرت انگیز تقریروں کا طوفان چلا۔ مغربی بنگال میں لیڈرز نے “جہادی” بریانی کی دکانوں اور ٹوپی والوں کو کاٹ ڈالنے کی دھمکی دی۔ سمبھل میں بی جے پی لیڈر نے کہا کہ یہاں صرف مندر بنیں گے، کوئی مسجد نہیں۔ بھوپال میں ایم ایل اے نے متھرا کی شاہی عیدگاہ کو گرانے کا اعلان کیا۔ الہ آباد میں بابری مسجد کی تباہی کی تعریف کی گئی اور مسلمانوں پر پانچ لاکھ مندر تباہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ گنیش جلوسوں کے دوران مساجد پر پتھراؤ، ہنومان چالیسا کی تلاوت، “جے شری رام” کے نعرے اور مساجد کو چادروں سے ڈھانپنے کے واقعات — یہ سب کچھ ایک منظم بیانیہ کا حصہ ہے جو مسلمانوں کو “دشمن”، “جہادی” اور “غاصب” قرار دیتا ہے۔

یہ محض “مقامی تنازعات” نہیں۔ یہ ہندوتوا آئیڈیالوجی کا عملی نفاذ ہے جو سیکولر آئین کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ریاست، پولیس اور انتظامیہ اکثر ان شکایات پر فوری عمل کرتی نظر آتی ہیں جو آر ایس ایس، بجرنگ دل یا ہندو راکشا دل جیسے گروپوں سے آتی ہیں۔ عدالتی عمل کو نظرانداز کیا جاتا ہے، نوٹسز کے بعد فوری کارروائی ہوتی ہے، اور متاثرہ کمیونٹی کو مناسب موقع نہیں دیا جاتا۔ یہ قانون کی حکمرانی نہیں، یہ اکثریتی دباؤ کی حکمرانی ہے۔

یہ کسی بند کمرے کی سرگوشیاں نہیں تھیں۔ یہ عوامی اجتماعوں اور سیاسی پلیٹ فارموں سے کہی گئیں باتیں تھیں۔ جب منتخب نمائندے یا تنظیموں کے رہنما کسی عبادت گاہ کو گرانے کی دھمکی دیں تو انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے۔ اگر یہی بات کسی عام شہری سے منسوب ہوتی تو کیا پولیس اسی طرح خاموش رہتی؟ نفرت کی سیاست کو کھلی چھوٹ دینا، پھر امن و امان کا نام لے کر متاثرہ برادری کو ہی خاموش کرانا، انصاف نہیں۔

بھٹکل میں گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد اور مدرسے پر پتھراؤ کی خبر آئی۔ علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ حیدرآباد میں گنیش جلوس سے پہلے مسجدوں کو بڑی چادروں سے ڈھانپ دیا گیا۔ انتظامیہ نے کہا کہ یہ قدم امن برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا۔ مگر امن کا مطلب یہ نہیں کہ مسجد کو چھپا دیا جائے تاکہ کسی کو اشتعال نہ ہو۔ امن کا مطلب ہے کہ اشتعال پھیلانے والے کو روکا جائے، عبادت گاہ پر پتھر پھینکنے والے کو گرفتار کیا جائے اور ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی آزادی دی جائے۔

مختلف شہروں سے جلوسوں کے دوران مسجدوں کے سامنے نعرے بازی، مذہبی مقام پر جانے کی کوشش اور مسجد کو مندر میں بدلنے کے مطالبے بھی رپورٹ ہوئے۔ کہیں سابق رکنِ پارلیمان نوینت رانا کی موجودگی میں مسجد کے باہر مذہبی نعرے لگائے گئے؛ کہیں آگرہ کی شاہی جامع مسجد کی طرف بڑھنے والے گروہ کو پولیس نے روک دیا۔ ان واقعات کو معمول کی مذہبی سرگرمی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب کسی مخصوص برادری کی عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کے لیے جلوس، نعرے اور دھمکیاں اکٹھی ہوں تو یہ محض اتفاق نہیں رہتا؛ یہ ایک خوفناک سیاسی فضا بناتا ہے۔

۲۹ ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں کے خلاف کارروائیوں کے احتجاج میں مظاہرہ ہوا۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لیا۔ ان میں اراکینِ پارلیمان ضیا الرحمٰن برق، محب اللہ ندوی اور اقرا منور حسن بھی شامل تھے۔ مظاہرین کو حراست میں لینے کی وجہ اور پولیس کے طریقۂ کار کی وضاحت ہونی چاہیے۔ لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ مسجدیں گرانے کی دھمکیاں دینے والے کتنے رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا؟ کتنے مقدمے درج ہوئے؟ کتنے بیانات کی تفتیش ہوئی؟ قانون کی طاقت احتجاج روکنے میں تیز اور نفرت روکنے میں کمزور کیوں دکھائی دیتی ہے؟

مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ محلے کی تاریخ، لوگوں کی یادوں اور ان کی اجتماعی زندگی سے جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی مسجد کو گرانے کا فیصلہ محض زمین کے نقشے پر ایک لکیر مٹانے جیسا نہیں۔ یہ ایک برادری کو بتاتا ہے کہ اس کے مذہبی اور تاریخی وجود کی حفاظت حکومت کی ترجیح نہیں۔ ملک کے دو سو ملین سے زیادہ مسلمان یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے سوال صرف ایک عمارت کا نہیں، یہ یقین کا سوال ہے کہ اس ملک میں ان کے حقوق بھی اتنے ہی محفوظ ہیں جتنے دوسروں کے۔

رپورٹ نے ستمبر کے واقعات کو ملک بھر کا مکمل ریکارڈ قرار نہیں دیا۔ اس کے باوجود اس میں درج واقعات ایک نمایاں سلسلہ دکھاتے ہیں: مسجدوں کے خلاف انتظامی کارروائیاں، تاریخی عبادت گاہوں کو گرانے یا بدلنے کی دھمکیاں، جلوسوں کے دوران اشتعال اور احتجاج پر پولیس کی کارروائی۔ اسے چند بے تعلق مقامی تنازعات کہہ کر ٹالا نہیں جا سکتا۔ جب یہ سب ایک ہی مہینے میں بار بار ہو تو حکومت کو جواب دینا پڑتا ہے کہ ملک میں مذہبی آزادی سب کے لیے ہے یا صرف ان کے لیے جن کی عبادت گاہ خطرے میں نہیں۔

یہاں سوال قانون کی بالادستی کا ہے۔ حکومت ہر شکایت کو ثبوت کے ساتھ پرکھے، مسجدوں اور دوسری عبادت گاہوں کے خلاف کارروائی میں پہلے نوٹس، سماعت اور آزادانہ عدالتی جائزہ یقینی بنائے۔ کسی تاریخی مقام کو گرانے سے پہلے اس کی اہمیت کا جائزہ لے اور جہاں ممکن ہو متبادل راستہ اختیار کرے۔ دھمکی دینے والے چاہے کسی جماعت، تنظیم یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، ان کے خلاف وقت پر کارروائی ہو۔ ملک بھر میں مذہبی مقامات کے خلاف انہدام اور تنازعات کا عوامی ریکارڈ بنایا جائے تاکہ ریاستی کارروائیوں پر آزادانہ نظر رکھی جا سکے۔

بلڈوزر کے سامنے کھڑی مسجد آج صرف مسلمانوں کے حقِ عبادت کا سوال نہیں۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ بھارت اپنے آئین، اپنے قانون اور اپنی جمہوریت کے ساتھ کتنا وفادار ہے۔ اگر قانون طاقتور کے نعروں سے دب جائے اور شہریوں کی عبادت گاہیں ان کی بے بسی کے ساتھ مٹائی جائیں تو نقصان صرف ایک برادری کا نہیں ہوگا۔ پھر ملک کا ہر کمزور شہری یہی پوچھے گا: جب میری باری آئے گی تو مجھے بچانے کون آئے گا؟

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے