نقطہ نظر

جمہوریت  کی  جدوجہد اور سنگینوں کے زیر سایہ جامعہ کا 106 واں یوم تاسیس

طلبہ یونین کی بحالی کا دیر سے اٹھایا گیا درست قدم کئی جائز اور باوزن سوال اٹھاتا ہے ہندوستان کے جدید تعلیم اور قومی شعور کے سب سے نمایاں اورممتاز مراکز میں سے ایک جامعہ ملیہ…

نقطہ نظر October 30, 2026 7 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X
  • طلبہ یونین کی بحالی کا دیر سے اٹھایا گیا درست قدم کئی جائز اور باوزن سوال اٹھاتا ہے

ہندوستان کے جدید تعلیم اور قومی شعور کے سب سے نمایاں اورممتاز مراکز میں سے ایک جامعہ ملیہ اسلامیہ  کا 106 واں یوم تاسیس،  جامعہ اسٹوڈنٹس یونین (JMISU) کی بحالی کے لیے طلبہ  کی تحریک اور سنگینوں کے سائے میں گزرا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ روایتی تقریبات اور سالانہ تعلیمی میلہ، کیمپس میں احتجاج، بھوک ہڑتال، سیکورٹی میں اضافہ اور نمائندگی  کی کشمکش کی  نذرہوگیا۔

انتظامیہ نے مسلسل بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے 29 اکتوبر سے یکم نومبر تک منعقد ہونے والے تعلیمی میلے اوریوم تاسیس کی تقریبات کو منسوخ کر دیا تھا۔ لیکن  اس منسوخی نے طلباء کے اس تاریخی تقریب کو منانے کے عزم کو ختم نہیں کیا۔ انہوں نے اپنا ایک پروگرام ترتیب دیا، جسے ‘انقلابی میلہ’ کہا ۔ گلستان غالب  اور گیٹ نمبر۷کے سامنے شاہراہ مولانا محمدعلی جوہر کوانہوں نےجامع جمہوریت، اظہار رائے کی آزادی اور اختلاف رائے کے حق کے دفاع کے  پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔

اس کے برعکس حیران کن تھاکہ تعلیمی اصلاحات، قومی بیداری اور عوامی خدمت کے نظریات پر قائم ہونے والی یونیورسٹی نے خود کو اپنےایک منتخب نمائندہ ادارے کی بحالی کے لیے اپنے ہی طلبہ کی جدوجہدکے سامنے کھڑاکیا،کیمپس کو سیکورٹی فورسز کی چھاؤنی بنائی ، حکومت اور پولیس انتظامیہ سےحکم امتناعی لگواکر اجتماعات پر پابندی  عائد کی اور دیگر حفاظتی اقدامات اٹھائےجس نے کشیدگی کی فضا کو مزید بڑھا دیا ۔

 طلبہ کی اٹھارہ روزہ جدوجہد:

یہ احتجاج  12 اکتوبر کو شروع ہوا، جب طلبہ نے منتخب طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کے لیے واضح ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔یہ حوصلہ ان کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کی تحریک کی کامیابی سے ملی جہاں ۸سال سے طلبہ یونین معطل تھی۔ ابتدائی طور پر پانچ طالب علموں نے خود کو فاقہ پررکھا، جبکہ ان کی مہم کو ساتھی طلباء اور یونیورسٹی کمیونٹی کے مختلف طبقوں کی حمایت حاصل تھی۔ مطالبہ بالکل راست اورسادہ تھا۔

تحریک بتدریج شدت اختیار کرتی گئی اور اس وقت یہ اور بھی شدیدہوگئی  جب یونیورسٹی کے نمائندوں کی ملاقاتوں اور کمیٹیوں کی تشکیل نے یونین کی بحالی کے واضح ٹائم کی عدم موجود گی کے باعث مظاہرین کو مطمئن نہیں کیا۔تنازعہ تادیبی کارروائی، کیمپس میں داخلے پرپابندیوں اور بدامنی کی بناپر کلاسز اور امتحانات کو آن لائن منتقل کرنے کے یونیورسٹی کے فیصلے سےمزید الجھ گیا۔29اکتوبر تک بھوک ہڑتال اٹھارہویں دن میں داخل ہو چکی تھی۔ بھوک سے طلباء پر جسمانی نقصان، معمول کی تعلیمی زندگی میں خلل اور یوم تاسیس کی آمد نے صورتحال کو مشکل بنا دیا تھا۔

یوم تاسیس اختلاف کی علامت :

جامعہ کا یوم تاسیس روایتی طور پر ادارے کے تعلیمی ورثے، ثقافتی تنوع اور سماجی ا شتراک کی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ سالانہ تعلیمی میلہ  تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے طلباء، اساتذہ، سابق طلباء اور دوسرے لوگوں کو اکٹھا کرنے کا موقع دیتا ہے۔تاہم ،اس سال تقریبات کی منسوخی اس کی ایک منفردخصوصیت بن گئی۔ اس موقع کو مظاہرین نے جامعہ کے بانیوں کےنظریات  سےجوڑکر انقلابی میلے کے طور پر منایا جو ظاہر کرتا ہے کہ ہماری نئی نسل بیدار،باشعور اور سنجیدہ ہے۔

اس طرح اس سالگرہ نے ایک تنظیم کی بحالی سے آگے ایک وسیع معنی حاصل کرلیا۔ یہ اس بات کا امتحان بن گیا کہ جب کوئی  ادارہ  آئینی انتظامات کو چیلنج کرتا ہے تو تعلیمی ادارہ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

وائس چانسلر کی مداخلت اور پیش رفت:

29 اکتوبر کو وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی سربراہی میں طلبہ کے نمائندوں اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان نئی بات چیت کے بعد ایک پیش رفت سامنے آئی۔ مذاکرات کے بعد باضابطہ حکم نامہ جاری کیاگیا جس میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے ٹائم لائن موجود ہے۔رجسٹرار کے دفتر کے جاری کردہ حکم کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ طلبہ یونین (JMISU)کی منظوری اور نفاذ کی ڈیڈ لائن15 مئی 2027ہے ۔ یونیورسٹی نے یہ بھی کہا ہےکہ اگلے تعلیمی سیشن کے آغاز کے چھ ہفتوں کے اندر  لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات اور رہنما خطوط کے مطابق انتخابات کرائے جائیں گے۔احتجاج  میں شرکت سے متعلق زیر التواء شوکاز نوٹس، تادیبی کارروائی،  مقدمات ،معطلی اور کیمپس پر پابندی کے احکامات کو منسوخ کیا جائے گا۔اسی کے ساتھ طلبہ نے اپنی  اٹھارہ روزہ بھوک ہڑتال ختم کردی۔

پروفیسر مظہر آصف کی مداخلت نے  تصادم کو ختم کرنے میں مدد کی۔ یہ دیر سے اٹھایا گیاایک درست قدم ہے لیکن اس  تصفیہ کی اہمیت محض بھوک ہڑتال ختم کرنے میں نہیں ہے بلکہ  انتظامیہ کا اصل امتحان  اس بات کو قبول کرنے میں ہے کہ بحالی کا عمل ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

خود مختاری اور جوابدہی کے سوالات:

یہ ایپی سوڈ یونیورسٹی انتظامیہ، طلبہ کی جمہوریت اور بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کے تحت سیاسی ماحول کے درمیان تعلقات کا وسیع پیمانے پر امتحان کی دعوت بھی دیتا ہے۔ جامعہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے، اور اس کی ادارہ جاتی قیادت مرکزی حکومت کی اعلیٰ تعلیم کی حکمرانی کے فریم ورک کے اندر کام کرتی ہے۔ یہ سیاق و سباق خود مختاری، اختلاف رائے اور انتظامی جوابدہی کے سوالات کو خاصا اہم بناتا ہے۔

یہ واقعہ انتظامیہ کی طرف سے اختیار کیے گئے نقطہ نظر کے بارے میں جائز اور باوزن سوالات اٹھاتا ہے۔ ایک منتخب طلبہ تنظیم کی بحالی کا مطالبہ اتنے عرصے تک حل طلب کیوں رہا؟ ایک ایسا عمل جس کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، اس کے لیے تاریخ کے اعلان سے پہلے اٹھارہ روزہ بھوک ہڑتال کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور کیا یوم تاسیس کی تقریبات کو  منسوخ کرنے کے بجائے گفت و شنیدسے محفوظ نہیں کیا جا سکتا تھا؟

جامعہ کے اساسی نظریات کا سوال:

جامعہ ملیہ اسلامیہ قومی تحریک سے ایک ایسے ادارے کے طور پر ابھری جو تعلیم، خود انحصاری اور نئی نسل کی فکری نشوونما کے لیے پرعزم ہے۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران، اس نے ہندوستان کی تعلیمی اور عوامی زندگی میں ایک ممتازمقام حاصل کیا ہے۔29 اکتوبر کے واقعات یونیورسٹی کمیونٹی کو اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں کہ آج ان نظریات کو کس طرح سمجھنا چاہیے۔ طلبہ یونینیں یونیورسٹی انتظامیہ کا متبادل نہیں ہیں اور نہ ہی جمہوری شراکت نظم و ضبط اور تعلیمی ذمہ داری کی ضرورت کو ختم کرتی ہے لیکن ایک منتخب طلبہ یونین جامع نمائندگی، تعمیری تنقید اور شکایات کے پرامن حل کے لیے ایک تسلیم شدہ فورم فراہم کر سکتی ہے۔ ایک ایسا کیمپس جس میں طلباء بغیر کسی خوف کے فیصلوں پر سوال کر سکتے ہیں، نمائندہ اداروں میں حصہ لے سکتے ہیں اور قائم شدہ طریقہ کار کے ذریعے انتظامیہ میں  شمولیت کر سکتے ہیں، تعلیمی آزادی اور ادارہ جاتی ساکھ کو برقرار رکھنے کابہترین وسیلہ ہے۔اس لیے یوم تاسیس کی سرکاری تقریبات کی منسوخی یونیورسٹی کیلنڈر میں خلل سے زیادہ تھی۔ جامعہ کے لیے چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کا اگلا یوم تاسیس تصادم کے سائے میں نہیں بلکہ ایک ایسے ماحول میں منایا جائے جہاں تعلیمی کامیابی، ادارہ جاتی خود مختاری اور جمہوریت ایک دوسرے کو تقویت بخشیں۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے