تازہ شمارہ
مطالعات

عصرِ رواں کے نئے بُت، طوفانِ حوادث اور خوابیدہ ملّت — ایک صدائے بیداری

کیا تم نے سوچا ہے کہ مساجد کی دیواریں کیوں گر رہی ہیں؟ کیونکہ تم نے اپنے دل کی مساجد کو ویران کر دیا ہے۔ تمہاری ووٹر لسٹوں سے نام اس لیے کٹ رہے ہیں کیونکہ…

مطالعات October 2, 2026 4 منٹ مطالعہ

علامہ اقبال کے قلم سے اگر وہ آج ہمارے درمیان ہوتے

اے میری قوم کے نوجوانو! جب میں آج کے ہندوستان کے حالات اور تمہاری بے بسی پر نگاہ ڈالتا ہوں، تو میرے سینے میں وہی پرانا درد، وہی کسک اور وہی تڑپ بیدار ہو جاتی ہے۔ ایک طرف دنیا تسخیرِ کائنات اور علم و ہنر کی نئی منزلیں طے کر رہی ہے، اور دوسری طرف تم اپنی ہی زمین پر اجنبی اور حاشیے پر دھکیلے جا رہے ہو۔ اگر آج میں تمہارے درمیان موجود ہوتا، تو میری قلم کی روشنائی تمہارے آنسوؤں اور میرے خونِ جگر سے عبارت ہوتی۔

ذرا آنکھیں کھول کر اپنے اطراف کا جائزہ لو! آج کا ہندوستان ایک عجیب دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک جانب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، سیمی کنڈکٹرز، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور خلا کی تسخیر (ISRO اور NavIC) کے چرچے ہیں۔ دنیا کے بڑے ڈیٹا سینٹرز اور ٹیکنالوجی کے مراکز یہاں قائم ہو رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب، اسی ترقی کی چکاچوند کے سائے تلے، جہالت، تعصب اور ظلم کا ایک تاریک طوفان بھی برپا ہے۔

نوجوان نسل سڑکوں پر ہے، امتحانات کے پرچے چوری ہو رہے ہیں، لاٹھیاں برس رہی ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں زلزلے بپا ہیں۔ اس سیاسی اور سماجی ہیجان میں مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی فہرستوں (SIR) سے تمہارے نام ایک منظم سازش کے تحت اس طرح مٹائے جا رہے ہیں گویا تم اس دھرتی کا حصہ ہی نہ ہو۔ سہارنپور سے لے کر اجین اور شالیمار باغ تک، صدیوں پرانی مساجد اور مدارس پر بلڈوزر چل رہے ہیں۔ گلی کوچوں میں گائے کے نام پر بے گناہوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اور نفرت کی اس آگ کو قانون اور اقتدار کی خاموش سرپرستی حاصل ہے۔

مگر اے نوجوان! میری شکایت صرف ان ظالموں سے نہیں، میری سب سے بڑی شکایت تمہاری غفلت اور بے حسی سے ہے۔

کیا تم نے سوچا ہے کہ مساجد کی دیواریں کیوں گر رہی ہیں؟ کیونکہ تم نے اپنے دل کی مساجد کو ویران کر دیا ہے۔ تمہاری ووٹر لسٹوں سے نام اس لیے کٹ رہے ہیں کیونکہ تم نے زمانے کی کتابِ علم سے اپنا نام مٹا لیا ہے۔ جب کوئی قوم علم، تحقیق، اور جدید ہنر سے کنارہ کش ہو کر صرف ماضی کے قصوں اور جذباتی نعروں پر زندہ رہنے کی کوشش کرتی ہے، تو تاریخ اسے بے دردی سے کچل دیتی ہے۔

دنیا سلیکان کی وادیوں (Silicon Valleys) اور مائیکرو چپس میں اپنا مستقبل تراش رہی ہے، اور تم آج بھی چھوٹی چھوٹی فروعی بحثوں، مسلکی جھگڑوں اور احساسِ کمتری کے گرداب میں پھنسے ہو۔ یاد رکھو، آنے والے دور کی جنگ تلواروں یا جذباتی جلسوں سے نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، معیشت اور اعلیٰ تعلیم سے لڑی جائے گی۔ اگر تم نے اپنے مدارس کی تعلیم کو جدید سائنس اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا، تو تم اس نئی ڈیجیٹل دنیا کے غلام بن کر رہ جاؤ گے۔

میرا اور سرسید کا خواب یہ نہیں تھا کہ تم ظلم کے آگے سر جھکا لو یا مایوس ہو کر بیٹھ جاؤ۔ ہمارا خواب ایک ایسی قوم کا تھا جو ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں جدید سائنس رکھتی ہو۔ جو ظلم کا جواب رو کر نہیں، بلکہ اپنی ‘خودی’ کو اس قدر بلند کر کے دے کہ ظالم کے ہاتھ کانپ جائیں۔

اٹھو! اپنے اندر جھانکو۔ اس ڈیموگرافی کمیشنوں اور نقشوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے، خود کو اس قابل بناؤ کہ تم اس ملک کی معیشت، ٹیکنالوجی اور دانشوری کا وہ ناگزیر ستون بن جاؤ جسے گرانا کسی بلڈوزر کے بس میں نہ ہو۔ اگر آج کا مسلمان علم، اتحاد اور خودی کے ہتھیار سے لیس ہو جائے، تو یہ تاریک رات بہت جلد ایک روشن صبح میں بدل سکتی ہے۔

خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں!

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے