زاویہ
ابوعبداللہ احمد
امریکہ اور اس کے حلیف ممالک مشرق وسطیٰ کا ایک نیا نقشہ ترتیب دے رہے تھے اور قدرت ایک اور ہی نقشہ وضع کررہی تھی۔اب یہ خطہ جنگ، کشیدگی اور سرحدی یا سفارتی تنازعات تک محدود نہیں رہا۔ اس کے جغرافیے میں واقع آبی گزرگاہیں پوری عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے مستقبل کا مسئلہ بن گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز، باب المندب، بحیرۂ احمر اور سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کو الگ الگ دیکھنا اب ممکن نہیں ہے۔ ان سب کو ایک مربوط تزویراتی سلسلہ کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ینبع جو اسلام سے پہلے بھی اہم مقام تھا، پیغمبراسلام ﷺ کی جنگی مہمات میں بھی اسے اہمیت حاصل تھی، امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کی پسندیدہ سرزمیں ہونے کا شرف بھی رکھتاہے اوربرطانوی جاسوس کرنل لارنس کے لیے بھی یہ اہم تھا ، یہیں سے اس نےخلافت عثمانیہ کے زوال کی مہم شروع کی تھی۔اس کےگاؤوں اور باغات کی کئی تاریخی تصویریں لارنس کی یادگار ہیں۔
اکتوبر 2026 کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال انتہائی پیچیدہ ہے۔ خود مغربی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات خلیج فارس سے نکل کر بحیرۂ احمر اور یمن تک پہنچ چکے ہیں، ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی روابط کی کوششوں کے باوجود جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہے جبکہ آبنائےہرمزاور باب المندب سے توانائی کی عالمی رسد میں نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ یکم اکتوبر کوبھی آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو نقصان پہنچنے کی خبرہے۔ سعودی عرب اور اس کے حلیف ممالک مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ کو درپیش خطرات کے ڈھنڈورے پیٹ رہے ہیں،تاکہ یمن پر حملہ کر کے باب المندب اور ینبع کی بندرگاہ کو محفوظ کرسکیں۔ اسرائیل اور امریکہ اس کھیل میں خطہ کے اپنے نئے نقشے کا مستقبل دیکھ رہے ہیں لیکن اس شطرنج کی بساط ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
صورت حال نےاس بنیادی حقیقت کو سامنے لاکررکھ دیا ہے کہ عالمی سیاست میں بعض مقامات اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث معمول سے کہیں زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔ ہرمز اور باب المندب ایسے ہی مقامات ہیں۔آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیجِ عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے۔ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک—خصوصاً سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر—کی توانائی کی برآمدات کے لیے یہ گزرگاہ طویل عرصے سے بنیادی اہمیت رکھتی رہی ہے۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ہرمز سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل صرف4.9ملین بیرل یومیہ رہ گئی تھی جبکہ 2025 کی آخری سہ ماہی میں یہ مقدار تقریباً 21.6ملین بیرل یومیہ تھی یعنی جنگ کے بعد اس راستے پر تیل کی نقل و حرکت میں تقریباً 77 فیصد کمی دیکھی گئی۔
یہ محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں۔ ہرمز میں رکاوٹ کا مطلب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت، بیمہ، جہاز رانی، صنعتی پیداوار اور بالآخر اشیائے ضروریہ کی مہنگائی ہےلیکن ہرمز کی اہمیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ اگر خلیج فارس سے تیل بحری راستے سے باہر نہ نکل سکے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود ہے؟یہیں سے ینبع کا کردار سامنے آتا ہے۔ سعودی عرب نے دہائیوں پہلے اس امکان کو محسوس کرلیا تھا کہ خلیج فارس کی صورتِ حال کبھی اس کے تیل کی برآمدات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی مقصد سے مشرقی سعودی عرب سے بحیرۂ احمر کے ساحل تک ایسٹ ویسٹ پائپ لائن تعمیر کی گئی، جس کے ذریعے خام تیل کو خلیج فارس سے گزرے بغیر مغربی ساحل تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس پائپ لائن کا آخری مرکز ینبع ہے، جو بحیرۂ احمر کے ساحل پر سعودی عرب کی ایک بڑی صنعتی اور تیل بردار بندرگاہ ہے۔جب ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ اسی متبادل راستے کی طرف منتقل کردیا۔ جون 2026 میں ینبع سے تیل کی لوڈنگ تقریباً 3.5 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی جبکہ اگست 2025 میں یہ مقدار صرف دولاکھ چالیس ہزاربیرل یومیہ تھی۔اس کا مطلب صاف ہےکہ ہرمز جتنا زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے، ینبع اتنا ہی اہم ہوجاتا ہےلیکن مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کا سب سے پیچیدہ پہلو یہی ہےکہ ینبع سے تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے بحیرۂ احمر سے گزرنا پڑتا ہے اور بحیرۂ احمر کے جنوبی دروازے پر واقع ہے—باب المندب۔
باب المندب یمن اور افریقہ کے درمیان واقع وہ تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ اس کے ذریعے ایشیا اور یورپ کے درمیان بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔اگر ہرمز خلیج فارس کا دروازہ ہے تو باب المندب بحیرۂ احمر کا عالمی دروازہ ۔یہی وجہ ہے کہ یمن میں انصاراللہ کی پیش قدمی نے محض یمن کے داخلی بحران کو متاثر نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی نئی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ ستمبر میں حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور باب المندب کے قریب واقع علاقوں اور جزائر پر قبضہ مضبوط کرلیا۔ مختلف تجزیوں میں اسے خطے کے بحری راستوں کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ستمبر میں باب المندب سے سعودی تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی۔ اس کے برعکس سعودی عرب نے ہرمز کے راستے دوبارہ زیادہ تیل بھیجنا شروع کردیا۔ ستمبر میں سعودی تیل کی ہرمز سے ترسیل تقریباً 2.58 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی جبکہ باب المندب سے اس کی ترسیل تقریباً 2.56 ملین بیرل یومیہ رہ گئی۔یہ صورتِ حال ایک عجیب تزویراتی دائرہ بناتی ہے۔ہرمز خطرے میں ہو تو ینبع اہم ہوجاتا ہے؛ینبع اہم ہو تو باب المندب مزید اہم ہوجاتا ہے؛اور باب المندب غیر محفوظ ہو تو سعودی عرب دوبارہ ہرمز پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
جدید دنیا میں یہ تصور عام ہوگیا تھا کہ ٹیکنالوجی، پائپ لائنوں، متبادل توانائی اور عالمی منڈیوں نے جغرافیے کی اہمیت کم کردی ہے۔ موجودہ بحران اس تصور کی کمزوری اور محدودیت ظاہر کررہا ہے۔ایک طرف ایران ہرمز کے قریب موجود اپنی جغرافیائی پوزیشن کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، دوسری طرف یمن میں حوثیوں کا باب المندب کے قریب اثر و رسوخ بحیرۂ احمر کے راستے کو متاثر کرتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب اپنی وسیع سرزمین اورایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ان دونوں سمندری راستوں کے درمیان ایک متبادل زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے۔اس طرح خلیج فارس، سعودی عرب، ینبع، بحیرۂ احمر اور باب المندب ایک ہی تزویراتی نقشے کے مختلف حصے بن گئے ہیں۔
ستمبر کا واقعہ: موجودہ بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ستمبر میں سعودی عرب کے ایسٹ ویسٹپائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد ینبع سے تیل کی لوڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی تھی۔ پائپ لائن 22 ستمبر کو دوبارہ فعال ہوئی اور 29 ستمبر تک ینبع سے خام اور مصفاتیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع ہوئی۔ تاہم ابتدائی مرحلے میں اس کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح سے بہت کم ہے۔یہ واقعہ اپنے اندرایک اہم سبق رکھتا ہے۔ متبادل راستہ صرف اس وقت متبادل رہتا ہے جب اس کا پورا سلسلہ محفوظ ہو۔ اگر پائپ لائن، بندرگاہ یا اس سے آگے کی سمندری گزرگاہ میں سے کسی ایک پر حملہ یا رکاوٹ پیدا ہوجائے تو متبادل نظام کی افادیت بھی محدود ہوجاتی ہے۔
باب المندب کی اہمیت صرف تیل تک محدود نہیں۔ بحیرۂ احمر کا راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان کنٹینر تجارت کے لیے بھی اہم ہے۔افریکاسینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیزکے مطابق بحیرۂ احمر کا سمندری کوریڈور تاریخی طور پر عالمی کنٹینر ٹریفک کے تقریباً 30 فیصد اور عالمی تجارت کے تقریباً 12 فیصد کی راہداری رہا ہے۔جب جہاز اس راستے کو خطرناک سمجھتے ہیں تو وہ افریقہ کے گرد لمبا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ اس سے سفر کے دن بڑھتے ہیں، ایندھن اور بیمہ کی لاگت بڑھتی ہے اور سپلائی چین میں تاخیر پیدا ہوتی ہے۔اس کے اثرات صرف یورپ یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہتے۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور مشرقی ایشیا کی معیشتیں بھی اس عالمی سمندری نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔
موجودہ حالات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران اب کسی ایک دو فریقی تنازع تک محدود نہیں رہا۔ ایران، اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب، یمن کے حوثی، خلیجی ممالک، عراق اور بحیرۂ احمر سے متعلق دیگر ممالک اپنے اپنے مفادات اور سلامتی کے خطرات کے ساتھ اس پیچیدہ صورتِ حال کا حصہ بن چکے ہیں۔یمن میں حوثیوں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے درمیان لڑائی میں بھی اکتوبر کے آغاز میں اضافہ ہوا ۔ 2 اکتوبر کو یمنی حکومت نے تعز کے علاقے میں حوثی اہداف کے خلاف متعدد فضائی حملوں کی اطلاع دی ہےجبکہ تعز کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس کا کنٹرول بحیرۂ احمر کے ساحل اور باب المندب تک رسائی کو متاثر کرسکتا ہے۔چنانچہ یہ بحران صرف تیل کی قیمتوں کا بحران نہیں؛ یہ بحری سلامتی، علاقائی طاقت کے توازن، عالمی تجارت اور ریاستی خودمختاری کا بھی بحران ہے۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سا فریق کسی مخصوص محاذ پر زیادہ طاقت حاصل کررہا ہےبلکہ اہم یہ ہے کہ کیا خطے کے ممالک اور عالمی طاقتیں ایسے سیاسی انتظام کی طرف بڑھ سکتی ہیں جس میں سمندری راستوں کی آزادی، علاقائی خودمختاری اور شہری آبادی کا تحفظ بنیادی اصول ہوں۔ہرمز کو بند رکھنے یا کھولنے، باب المندب کو عسکری دباؤ کا ذریعہ بنانے، تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے یا تجارتی جہازوں کو خطرے میں ڈالنے سے کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں نکلتا۔ اس طرح کے اقدامات کا بوجھ بالآخر صرف حکومتوں یا بڑی کمپنیوں پر نہیں پڑتا؛ عام صارف، مزدور، تاجر اور ترقی پذیر ممالک بھی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہرمز اور باب المندب کو طاقت کے مظاہرے کی جگہ بین الاقوامی تعاون اور محفوظ جہاز رانی کی علامت بنایا جائے۔ خلیج فارس اور بحیرۂ احمر کے ممالک کے درمیان مستقل بحری سلامتی کا نظام، علاقائی مکالمہ، جنگ بندی کے قابلِ عمل انتظامات اور بین الاقوامی قوانین کے تحت آزادانہ جہاز رانی کا تحفظ اس بحران سے نکلنے کی بنیادی شرائط ہوسکتی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران کو اگر صرف تہران، تل ابیب، واشنگٹن یا صنعا کی سیاسی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اصل تصویر سمندر میں بنائی جارہی ہے—آبنائے ہرمز میں، باب المندب میں، بحیرۂ احمر میں اور ینبع کی بندرگاہ پر۔ہرمز بتاتا ہے کہ خلیج فارس کی طاقت عالمی توانائی کے نظام سے کتنی گہری جڑی ہوئی ہے؛ باب المندب یاد دلاتا ہے کہ یمن کا بحران عالمی تجارت کے دروازے تک پہنچ سکتا ہے؛ اور ینبع یہ دکھاتا ہے کہ متبادل راستہ اختیار کرنا ممکن تو ہے، مگر جب متبادل راستہ بھی جنگ کے دائرے میں آجائے تو کوئی بھی جغرافیہ مکمل تحفظ کی ضمانت نہیں دیتا۔
آج مشرقِ وسطیٰ کو شاید سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ مزید محاذ آرائی نہیں بلکہ محفوظ راستے، سیاسی مکالمہ اور پائیدار امن ہےکیونکہ ہرمز سے باب المندب تک سمندر میں پیدا ہونے والی ہر بڑی رکاوٹ کی لہریں بالآخر مشرقِ وسطیٰ کی حدود سے نکل کر پوری دنیا کے بازاروں، معیشتوں اور گھروں تک پہنچتی ہیں۔









