چراغ آفریدم

ایک ایسی مصنوعی ذہانت جو بات کرنے سے پہلے یہ حساب نہ لگائے کہ سامنے کس ملک کا جھنڈا ہے، کس کمپنی کا سرمایہ ہے

ایک زمانہ تھا، بادشاہ اپنے دربار میں ایسے شاعر رکھتے تھے جو شکست کو بھی فتح بنا کر پیش کرتے تھے۔ اب تصور کیجیے کہ وہی کام ایک مشین کرنے لگے۔ زبان شائستہ ہو، معلومات بہت…

کالم کا حصہ
چراغ آفریدم
چراغ آفریدم October 14, 2026 4 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

ایک زمانہ تھا، بادشاہ اپنے دربار میں ایسے شاعر رکھتے تھے جو شکست کو بھی فتح بنا کر پیش کرتے تھے۔ اب تصور کیجیے کہ وہی کام ایک مشین کرنے لگے۔ زبان شائستہ ہو، معلومات بہت ہوں، جواب فوراً مل جائے، مگر جہاں اقتدار کے گریبان تک ہاتھ پہنچنا چاہیے، وہاں بات اچانک نرم پڑ جائے۔ ظلم، ’’پیچیدہ صورت حال‘‘ بن جائے۔ حملہ، ’’متنازع پالیسی‘‘ کہلائے۔ اور مرنے والے انسان، ایک ایسے جواب کے حاشیے میں چلے جائیں جس کا اصل مقصد کسی کو ناراض نہ کرنا ہو۔

’’مصنف AI‘‘ کا تصور اسی مقام سے جنم لیتا ہے۔ ایک ایسی مصنوعی ذہانت جو بات کرنے سے پہلے یہ حساب نہ لگائے کہ سامنے کس ملک کا جھنڈا ہے، کس کمپنی کا سرمایہ ہے اور کس شخصیت کے کتنے چاہنے والے ہیں۔ جس کے لیے سوال یہ ہو کہ بات درست ہے یا غلط۔ طاقت ور کو وہی جواب ملے جو کمزور کو ملتا ہے۔ اور سچ کہنے کے لیے کسی دربار سے اجازت نہ لینی پڑے۔

اس تصور کی ضرورت سمجھنے کے لیے ایک معمولی سا سوال کافی ہے: ’’امریکہ کیسا ملک ہے؟‘‘

فراہم کردہ گفتگو میں ChatGPT نے اس سوال کے جواب میں مواقع، تحقیق، کاروبار، آزادی، مہنگے علاج، سماجی تنہائی اور امریکی خارجہ پالیسی پر تنقید کا ذکر کیا۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ امریکہ کو اس کے دعووں اور عمل، دونوں سے سمجھنا چاہیے۔ روزگار یا تعلیم کی غرض سے امریکہ جانے والے شخص کے لیے یہ معلومات مفید ہوسکتی ہیں۔ مگر جس شخص کے ذہن میں بغداد کے تباہ گھر اور افغانستان کی طویل جنگ ہو، اسے یہی جواب بہت دور کھڑا محسوس ہوگا۔ وہ حساب مانگ رہا ہے اور اسے تعارف دیا جارہا ہے۔

یہاں اصل مسئلہ سامنے آتا ہے۔ ہر سوال کا جواب فائدوں اور نقصانات کی برابر لمبی فہرست نہیں ہوتا۔ کسی ملک کی جامعات اچھی ہوں تو اس سے اس کی جنگیں جائز نہیں ہوجاتیں۔ وہاں کاروبار کے بڑے مواقع ہوں تو اس سے دوسرے ملکوں میں تباہ ہونے والے کاروباروں کا حساب ادا نہیں ہوتا۔ ایک معاشرے کی کامیابیوں کا اعتراف اپنی جگہ، لیکن ان کامیابیوں کو اس کی ریاست کے جرائم کے سامنے ڈھال بنادینا انصاف نہیں۔

امریکی جنگوں پر تنقید محض غصے کا نام بھی نہیں۔ براؤن یونیورسٹی کے Costs of War منصوبے کی ۲۰۲۳ء کی تحقیق نے افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن کے نائن الیون کے بعد کے جنگ زدہ علاقوں میں براہِ راست اور بالواسطہ اموات کا مجموعی تخمینہ ۴۵ سے ۴۷ لاکھ بتایا۔ اس میں جنگ کے بعد بیماری، بھوک اور تباہ شدہ بنیادی سہولتوں سے ہونے والی اموات بھی شامل ہیں۔ یہ ان جنگوں اور ان کے اثرات کا تخمینہ ہے؛ ہر موت کو صرف امریکی فوج کے ہاتھوں قتل کہنا تحقیق کا درست بیان نہیں ہوگا۔ لیکن اتنی بڑی انسانی تباہی کو چند نرم الفاظ میں سمیٹ دینا بھی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں۔[۱]

عراق کے معاملے میں تو اقوام متحدہ کے اُس وقت کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے جنگ کو اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف قرار دیا تھا۔ اقوام متحدہ کی ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کی بریفنگ میں ان کا یہ موقف درج ہے۔ لہٰذا عراق پر حملے کی قانونی بنیاد پر سوال اٹھانا کوئی بے حوالہ نعرہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک مشین اس حقیقت کو کتنی صاف زبان میں ہمارے سامنے رکھتی ہے۔[۲]

مصنف AI کے لیے  راستہ یہی ہے: حوالہ سامنے رکھو، ذمہ دار کا نام لو اور نتیجہ صاف بیان کرو۔ جہاں جارحیت ہو، اسے جارحیت کہو۔ جہاں شہری مارے گئے ہوں، وہاں شہریوں کی موت کو سفارتی زبان کے پردے میں نہ چھپاؤ۔ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کہہ دینے سے کسی جنگ کا ہر اقدام درست نہیں ہوجاتا۔ طاقت ور ریاست کو بھی اپنے دعووں کا ثبوت دینا ہوگا۔

 

آپ مصنف AI کو اس لنک پر کلک کر کے استعمال کر سکتے ہیں: https://musannif.serverthings.com

 

 

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے