گرچہ وہ کبھی علی گڑھ کا طالب علم نہیں رہا، لیکن ایک زمانے تک علی گڑھ کی تہذیب کا شیدائی اور دلدادہ ضرور تھا۔ علی گڑھ والوں کی زبان کی شائستگی، ذوقِ مزاح اور فنِ گفتگو نے ایک عرصے تک اسے اپنا اسیر بنائے رکھا۔ دورانِ طالب علمی اس کا علی گڑھ آنا جانا کثرت سے ہوتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی مقناطیسی قوت اسے علی گڑھ کی جانب کھینچ لاتی ہو۔کیمپس کے شب و روز سے واسطہ پڑتا تو علی گڑھ کا طالب علم نہ ہونے پر اسے شدید ملال ہوتا۔ موسمِ سرما کی تعطیلات میں جب اس کا گزر علی گڑھ اسٹیشن سے ہوتا تو وہ ریل کی کھڑکی سے سیاہ شیروانیوں میں ملبوس طلبہ کے ہجوم کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی خاص مخلوق آسمان سے زمین پر اتر آئی ہو اور وہ اس کا حصہ بننے سے محروم رہ گیا ہو۔ محرومی کا یہ احساس اس کے رگ و پے میں سرایت کر جاتا اور اسے دیر تک بے چین رکھتا۔
وقت گزرا، حالات بدلے، چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز بھی تبدیل ہوا۔ ظاہری چمک دمک میں اب وہ پہلی سی کشش باقی نہ رہی۔ عقلیت پسندی اس کے لیے معیارِ نظر بن گئی۔ برسوں تک دل و دماغ پر چھایا رہنے والا طلسم ٹوٹنے لگا۔ نفاست بھرے آداب و القاب، تکلفات میں لپٹی زبان کی چاشنی اور اندازِ تکلم کی دل آویزی بھی رفتہ رفتہ محض رسم و روایت محسوس ہونے لگی۔ وہ سوچنے لگا کہ جس تہذیب نے کبھی اسے اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا تھا، اس کے پیچھے کارفرما علمی، فکری اور اخلاقی قوت آج کہاں ہے؟ کیا علی گڑھ کی ظاہری شان و شوکت اس کے اصل مقصدِ وجود کی جگہ لے چکی ہے؟
درخت کی جڑیں صحت مند نہ ہوں تو شاخوں کا سرسبز رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سرسید احمد خان کی وفات کے بعد ان کے جانشین محسن الملک نے اپنی انتظامی صلاحیتوں سے ادارے کو ترقی دی اور اسے استحکام بخشا۔ تاہم سرسید کے آخری دور ہی میں نمایاں ہونے والی بعض سیاسی کشمکشوں اور باہمی رقابتوں نے بعد کے زمانے میں بھی ادارے کی فکری سمت کو متاثر کیا۔ رفتہ رفتہ وہ عظیم مقاصد نگاہوں سے اوجھل ہونے لگے جن کے لیے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی۔نتیجہ یہ نکلا کہ علی گڑھ کی تعلیمی روایت میں جدید علم، سائنسی شعور اور دینی و اخلاقی بصیرت کے درمیان وہ توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا گیا جس کا تصور سرسید نے پیش کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان جدید علوم سے آراستہ ہوں، مغربی علمی روایت سے استفادہ کریں لیکن اس عمل میں اپنی تہذیبی شناخت، فکری خودمختاری اور اخلاقی بنیادوں سے محروم نہ ہوں۔
سرسید کا تعلیمی مشن محض مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے یا انہیں انگریزی حکومت کا تنخواہ دار ملازم بنانے تک محدود نہیں تھا۔ وہ اپنے عہد کے دوراندیش مفکر اور مصلح تھے۔ ان کی نگاہ مستقبل کے ہندوستان پر تھی اور وہ اس فکر میں مبتلا تھے کہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی علمی عظمت، سیاسی بصیرت اور تہذیبی خوداعتمادی کس طرح بحال کی جائے۔
وہ ایک ایسے ادارے کا خواب دیکھ رہے تھے جو مسلمانانِ ہند کی علمی اور فکری قیادت کر سکے؛ جو انہیں جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے اور ساتھ ہی ان کے اندر غور و فکر، تحقیق، تخلیق اور خود احتسابی کی صلاحیت پیدا کرے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان اور قوم کی ذہنی و اخلاقی تعمیر بھی تھا۔
سرسید نے اپنے عہد کے سیاسی حالات کو سمجھتے ہوئے مفاہمت اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا۔ وہ برطانوی اقتدار سے براہِ راست تصادم کے بجائے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی اور سماجی بحالی کو ترجیح دیتے تھے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت انہوں نے مذہبی مکالمے کو فروغ دیا اور اپنی تصنیف تبیین الکلام کے ذریعے قرآن اور بائبل کے تقابلی مطالعے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد مختلف مذہبی روایتوں کے درمیان مشترک پہلوؤں کو نمایاں کرنا اور باہمی فہم کی راہیں کھولنا تھا۔
لیکن جدید تعلیم کے حصول اور سرکاری ملازمت میں ترقی کو وہ قوم کی کامیابی کا آخری معیار نہیں سمجھتے تھے۔ اس کی ایک نمایاں مثال ان کے صاحب زادے سید محمود کے بارے میں ان کے خیالات میں ملتی ہے۔ سید محمود نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور عدالتی منصب پر فائز ہوئے، لیکن سرسید کی تشویش یہ تھی کہ ان کی تعلیم سے قوم کی اجتماعی تعمیر کا وہ مقصد پورا نہیں ہو رہا جس کی انہیں امید تھی۔ سید محمود سے منسوب سرسید کے اس خیال کا مفہوم یہ تھا کہ ان کی ملازمت میں مزید ترقی بھی اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتی کہ قوم کو ایسے تعلیم یافتہ افراد میسر آئیں جو اس کی فکری اور اجتماعی رہنمائی کر سکیں۔
یہاں سرسید کا بنیادی سوال سامنے آتا ہےکہ کیا تعلیم یافتہ فرد کی کامیابی صرف اس کے ذاتی عہدے، مرتبے اور معاشی ترقی میں مضمر ہے، یا اس کی اصل قدر اس خدمت میں ہے جو وہ اپنی قوم اور معاشرے کے لیے انجام دیتا ہے؟
علی گڑھ کالج کی ابتدائی ترقی اور علمی و تہذیبی اثرات غیر معمولی تھے۔ حالی، شبلی نعمانی، نذیر احمد اور ذکاء اللہ جیسے اہلِ قلم و دانش نے جس علمی فضا کو تشکیل دینے میں کردار ادا کیا، اس کے اثرات اردو زبان و ادب اور مسلم معاشرے کی فکری زندگی پر دور رس ثابت ہوئے۔ اسی وسیع تر علی گڑھ تحریک نے مولانا محمد علی جوہر، شوکت علی، حکیم اجمل خان اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی ممتاز شخصیات کی تربیت اور فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ وہ عہد تھا جب محدود وسائل اور ناموافق حالات کے باوجود علم، تصنیف، تحقیق اور قومی اصلاح کے لیے غیر معمولی جذبہ موجود تھا۔ سرسید، محسن الملک اور وقار الملک جیسے مدبرین نے انتظامی اور اجتماعی قیادت کی مثالیں قائم کیں۔ حالی نے مسدسِ حالی کے ذریعے مسلمانوں کی اجتماعی حالت کا جائزہ لیا، شبلی نے تاریخ و سیرت نگاری میں نئے علمی معیارات قائم کرنے کی کوشش کی، اور ذکاء اللہ نے تاریخ نویسی کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔
اس کے برعکس بعد کے زمانوں میں علی گڑھ کے سامنے ایک بنیادی سوال بار بار سر اٹھاتا رہاکہ کیا جدید تعلیم کے حصول کے لیے قائم کیا گیا ادارہ علمی تخلیق، فکری قیادت اور سماجی تبدیلی کا بھی مؤثر مرکز بن سکا؟
یہاں یہ واضح رہنا چاہیے کہ علی گڑھ کی پوری علمی تاریخ کو ناکامی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اس ادارے سے متعدد ممتاز اساتذہ، محققین، منتظمین اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد وابستہ رہے ہیں۔ تاہم سوال انفرادی کامیابیوں کے وجود کا نہیں، بلکہ اس وسیع تر علمی اثر کا ہے جس کی توقع سرسید کے مشن سے وابستہ تھی۔
کیا علی گڑھ نے تحقیق، تصنیف و تالیف، فلسفے، تاریخ، معاشیات، سماجیات، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایسی مسلسل اور نمایاں روایت قائم کی جو ملک کے علمی مباحث اور پالیسی سازی کی سمت متعین کرتی؟ کیا اس نے ایسی علمی شخصیات کی نسلیں تیار کیں جو اپنے اپنے شعبوں میں نئے نظریات، بنیادی تحقیقات اور دیرپا علمی کام کے ذریعے قومی اور عالمی سطح پر اثرانداز ہوتیں؟
ان سوالات کا جواب صرف ممتاز سابق طلبہ کی فہرست پیش کرکے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے تحقیقی اشاعتوں، علمی کتابوں، سائنسی دریافتوں، سماجی علوم میں نئے مباحث اور ادارے کے وسیع تر علمی اثرات کا سنجیدہ جائزہ لینا ہوگا۔
علی گڑھ کی اصل کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے فارغ التحصیل افراد کتنے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انہوں نے علم کے ذخیرے میں کتنا اضافہ کیا، اپنے معاشرے کی فکری رہنمائی کس حد تک کی اور آنے والی نسلوں کے لیے کون سی علمی روایت چھوڑی۔
جس علی گڑھ کو اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک ممتاز مقام حاصل رہا، جہاں سرسید نے تہذیب الاخلاق کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ اور فکری بیداری کی ایک نئی روایت قائم کی، اور جہاں جدید اردو نثر کی تشکیل میں علی گڑھ تحریک نے اہم کردار ادا کیا، وہاں آج اردو زبان و ادب کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔
رشید احمد صدیقی سے منسوب یہ مشہور قول کہ ’’اردو کا نام علی گڑھ بھی ہے‘‘ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی تہذیب اور زبان کے باہمی رشتے کی علامت ہے۔ لیکن کیا اس تہذیبی ورثے کی معنویت آج بھی طلبہ کی علمی زندگی میں اسی قوت کے ساتھ موجود ہے؟
طلبہ کی ایک بڑی تعداد کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ اردو رسم الخط پڑھنے، کلاسیکی ادب کو سمجھنے اور شعر و نثر کے تہذیبی پس منظر سے واقفیت حاصل کرنے میں دشواری محسوس کرتی ہے۔ اگر اس تاثر کی تصدیق ہو تو یہ صرف اردو شعبے کا مسئلہ نہیں، بلکہ علی گڑھ کی تاریخی شناخت اور اس کی تعلیمی روایت سے متعلق ایک وسیع تر سوال ہے۔
اسی طرح انگریزی زبان کے معاملے میں بھی صرف ڈگری حاصل کر لینا کافی نہیں۔ سرسید کے تعلیمی منصوبے میں انگریزی محض ملازمت کی زبان نہیں، جدید علوم اور عالمی علمی روایت تک رسائی کا وسیلہ تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبہ انگریزی میں علمی تحریر، تحقیق، تنقیدی مطالعے اور مؤثر اظہار کی صلاحیت پیدا کریں، اور ساتھ ہی اردو سمیت اپنی دوسری علمی و تہذیبی زبانوں سے بھی مضبوط رشتہ قائم رکھیں۔
جدید دور میں کسی یونیورسٹی کی قدر اس کی عمارتوں، تاریخی شہرت یا ماضی کے کارناموں سے تنہا متعین نہیں ہوتی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، نینو ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں اس کی علمی سرگرمیوں، تحقیقی معیار اور عملی شراکت داری کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ علی گڑھ کو بھی اپنے موجودہ علمی کردار کا اسی معیار پر محاسبہ کرنا چاہیے۔
کسی بھی یونیورسٹی کا زوال ایک دن میں واقع نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے عموماً متعدد ادارہ جاتی، انتظامی اور فکری عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ علمی تحقیق کی کمزوری، شعبہ جاتی سیاست، غیر شفاف تقرریوں کے الزامات، اقربا پروری، داخلوں میں غیر ضروری مداخلت اور احتساب کے فقدان جیسے مسائل کسی بھی تعلیمی ادارے کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
علی گڑھ بھی ان سوالات سے مستثنیٰ نہیں۔ اگر کسی ادارے میں تدریس اور تحقیق کے مقابلے میں عہدوں کی کشمکش، ذاتی تعلقات، گروہ بندی اور انتظامی رسہ کشی زیادہ اہم ہو جائیں تو اس کی علمی زندگی متاثر ہونا فطری ہے۔ اسی طرح اگر تقرریوں اور داخلوں میں میرٹ، شفافیت اور یکساں معیار پر سمجھوتے ہوں تو ان کے اثرات بالآخر طلبہ کی تعلیم اور ادارے کی ساکھ پر مرتب ہوتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کو ایک مشن کے بجائے محض پیشہ سمجھنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ جب استاد اپنی علمی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانے، نئی تحقیق سے واقف رہنے اور طلبہ میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کے بجائے صرف رسمی ذمہ داریاں پوری کرنے پر اکتفا کرے تو تعلیم کی روح متاثر ہوتی ہے۔
یونیورسٹی کے تاریخی ورثے، عمارتوں، نوادرات اور تہذیبی علامات کی اپنی اہمیت ہے۔ ایران کے قالین، عہدِ وسطیٰ کے فانوس یا ترکی کے فرنیچر کا ذکر اپنی جگہ، لیکن یہ چیزیں اسی وقت قابلِ فخر ہیں جب ان کے ساتھ علمی زندگی بھی توانا ہو۔ کتابوں سے خالی ہوتی ہوئی الماریاں اور تحقیق سے دور ہوتی ہوئی درس گاہیں کسی بھی ادارے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں، خواہ اس کے تاریخی ورثے کی شان کتنی ہی نمایاں کیوں نہ ہو۔
علی گڑھ کی اصل شان اس کی عمارتوں یا رسمی تقریبات میں نہیں، بلکہ اس علمی ماحول میں ہونی چاہیے جہاں سوال اٹھانے کی آزادی ہو، دلیل کو اہمیت دی جائے، اختلاف کو برداشت کیا جائے، استاد اور طالب علم دونوں علم کی جستجو میں شریک ہوں، اور تحقیق کو محض ترقی یا ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے۔
اگر علی گڑھ کے علمی معیار کا دوسرے ممتاز تعلیمی اداروں سے تقابل کیا جائے تو یہ تقابل جذبات یا عمومی تاثرات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تحقیق، تدریس، اختراعات، علمی اشاعتوں اور فارغ التحصیل افراد کی علمی خدمات جیسے واضح پیمانوں پر ہونا چاہیے۔ یہی طریقہ ادارے کی حقیقی قوت اور کمزوریوں کی نشان دہی کر سکتا ہے۔کسی ادارے سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی ہر کمزوری پر پردہ ڈال دیا جائے۔ اس کے برعکس، حقیقی وابستگی انسان کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ادارے کی خامیوں کی نشان دہی کرے اور اس کی اصلاح کے لیے آواز اٹھائے۔علی گڑھ کو نہ اندھی عقیدت کی ضرورت ہے اور نہ ایسی مایوسی کی جو اس کے تمام علمی کارناموں کو بے معنی قرار دے دے۔ اسے ایک متوازن، دیانت دار اور مسلسل خود احتسابی کی ضرورت ہے۔علی گڑھ کی تاریخ اس کی قوت ہے، مگر تاریخ کے سائے میں ہمیشہ زندہ نہیں رہا جا سکتا۔ اس کے لیے ایک نئے فکری عزم، نئی علمی قیادت اور نئے اجتماعی شعور کی ضرورت ہے۔
آج علی گڑھ کو ایک نئی تحریک درکار ہے، ایسی تحریک جو ماضی کی عظمت پر فخر کرنے کے ساتھ حال کا بے لاگ محاسبہ کرے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے عملی قدم اٹھائے۔ ایسی تحریک جو سرسید کے نام کو صرف ایک تاریخی علامت نہیں، بلکہ ایک زندہ فکری مشن بنا دے۔
ورنہ خطرہ یہی ہے کہ سرسید کی یاد باقی رہ جائے، ان کے نام کی تقریبات بھی ہوتی رہیں، ان کی تصویریں اور اقوال بھی آویزاں رہیں، مگر وہ خواب جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی تھی، تعبیر کی تلاش میں بھٹکتا رہے۔
(مضمون نگار جامعہ طلبہ یونین کے سابق نائب صدر اوربین الاقوامی تعلقات و کارپوریٹ مینجمنٹ میں پوسٹ گریجویٹ ہیں)







