افق سے آگے

زمین بچانے کی سیاست

ترکیہ کی موسمیاتی قیادت کا امتحان وعدوں کو عمل میں بدلنا ہے

کالم کا حصہ
افق سے آگے
افق سے آگے November 2, 2026 10 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

۲۷ اکتوبر کو انقرہ میں ترکیہ کے صدارتی شعبۂ مواصلات کے کھچا کھچ بھرے آڈیٹوریم میں کھڑے ہوئے مجھے ایک نشست کا انتظار تھا۔ اسٹیج پر برہان الدین دوران خطاب کر رہے تھے۔ چند منٹ بعد ایک صاحب اٹھ کر باہر گئے تو میں ان کی جگہ بیٹھ گیا۔ بیٹھنے کی جگہ مل گئی، مگر دوران کی گفتگو غزہ تک پہنچی تو ذہن ایک ایسی دنیا میں جا پہنچا جہاں لوگوں کے پاس بیٹھنے کے لیے گھر کی دہلیز بھی باقی نہیں رہی۔

گفتگو ماحولیات کی تھی۔ غزہ کا ذکر بظاہر اس سے الگ موضوع محسوس ہو سکتا تھا، لیکن اسی ذکر نے پوری بحث کو اس کے اصل سوال سے جوڑ دیا۔ جس دنیا کو ہم موسمیاتی تباہی سے بچانا چاہتے ہیں، اسے جنگوں میں برباد کرنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ ایک طرف آلودگی گھٹانے کے مذاکرات ہوں اور دوسری طرف بستیاں ملبے میں بدلتی رہیں تو زمین بچانے کے ہمارے دعووں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

استنبول میں موسمیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل سے متعلق کانفرنس کے بعد ترکیہ میں یہ میرا دوسرا پروگرام تھا۔ عنوان تھا: ’’زیرو ویسٹ سے کاپ۳۱ تک: ترکیہ کی ماحولیاتی سفارت کاری‘‘۔ ترکیہ نومبر میں اقوام متحدہ کی اس عالمی موسمیاتی کانفرنس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ اس لیے انقرہ کی یہ نشست میرے لیے اس بات کو سمجھنے کا موقع بھی تھی کہ میزبان ملک دنیا کے سامنے کیا ترجیحات رکھنا چاہتا ہے۔

دوران نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے جنگ سے پیدا ہونے والی آلودگی کی طرف توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے ماحولیاتی اثرات بھی دنیا کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے زیادہ ذمہ داری رکھنے والے ملکوں سے موسمیاتی منصوبوں کے لیے مالی مدد اور ٹیکنالوجی کی فراہمی بڑھانے پر بھی زور دیا۔ یوں ان کی گفتگو میں ماحول کا تحفظ، جنگ اور عالمی انصاف ایک ہی بحث کے مختلف پہلو بن کر سامنے آئے۔

غزہ کے بارے میں سوچتے ہوئے یہ تعلق سمجھنا مشکل نہیں۔ گھر تباہ ہوتا ہے تو ایک خاندان چھت سے محروم ہوتا ہے۔ پانی کی لائن ٹوٹتی ہے تو پوری آبادی کی صحت خطرے میں پڑتی ہے۔ صفائی کا نظام برباد ہوتا ہے تو زندہ بچ جانے والوں کے لیے بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پھر اسی ملبے کو ہٹانے، گھر بنانے اور زندگی بحال کرنے کے لیے نئے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ جنگ کا نقصان حملہ رکنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔ وہ زمین، پانی اور انسانی جسموں میں باقی رہتا ہے۔

اسی لیے غزہ کے انسانوں اور غزہ کے ماحول کی فکر کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں زندگی بچانے کا مطلب لوگوں کو قتل سے بچانا بھی ہے اور ان کے لیے ایسی زمین باقی رکھنا بھی جہاں وہ دوبارہ آباد ہو سکیں۔ موسمیاتی انصاف کی کوئی بھی گفتگو اس ذمہ داری سے منہ موڑ کر معتبر نہیں بن سکتی۔

تاہم دوسروں کو ان کی ذمہ داری یاد دلانے کے ساتھ اپنی کارکردگی پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ ترکیہ کے لیے کاپ۳۱ کی میزبانی کی اصل اہمیت یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ وہ دنیا کو ایک میز پر جمع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، مگر اس میز پر اس کے اپنے وعدے اور پالیسیاں بھی زیر بحث آئیں گی۔

وزیر ماحولیات، شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی تبدیلی مراد کوروم کی گفتگو سنتے ہوئے میری توجہ اسی طرف تھی۔ میں انہیں دوسری بار سن رہا تھا۔ انہوں نے ۲۰۳۵ تک دنیا میں بلدیاتی کچرے کی پیداوار میں متوقع اضافے کو نصف کرنے کی کوشش کا ذکر کیا۔ یہ ایسا ہدف ہے جسے سرسری طور پر سن کر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کچرا آدھا ہو جائے گا۔ حالاں کہ موجودہ کچرا کم کرنا اور آئندہ ہونے والے اضافے کو کم کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ دونوں کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر ان کی کامیابی کا حساب بھی الگ ہوگا۔

یہ فرق محض لفظوں کا نہیں۔ اسی سے پتا چلتا ہے کہ کسی بڑے اعلان کے بعد زمین پر کتنی تبدیلی متوقع ہے۔ اگر کچرے کے پہاڑ بلند ہوتے رہیں تو ان کے سائے میں آباد لوگوں کے لیے یہ تسلی کافی نہیں کہ ان کی اونچائی پہلے کے اندازے سے کچھ کم بڑھی ہے۔

کوروم کی بات مجھے ہندوستان لے آئی۔ ہمارے ہاں کچرا شہر کی بدصورتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے کوشش اکثر اسے نظروں سے دور کرنے تک محدود رہتی ہے۔ لیکن جہاں وہ پہنچایا جاتا ہے، وہاں بھی لوگ رہتے ہیں۔ کسی صاف ستھری سڑک کا کچرا جب دوسری بستی کے قریب جمع ہوتا ہے تو شہر کی صفائی کا بوجھ اس بستی کی ہوا، پانی اور صحت پر منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک علاقے کے لیے جو چیز صفائی ہے، دوسرے کے لیے وہ روزمرہ کی مصیبت بن سکتی ہے۔

اس لیے کچرے کی گاڑیوں اور صفائی مہموں کے ساتھ ہمیں اپنی پیداوار اور کھپت کو بھی دیکھنا ہوگا۔ جو چیز چند لمحے استعمال ہونے کے بعد برسوں کا بوجھ بن جاتی ہے، اس کے بارے میں فیصلہ صرف کوڑے دان کے پاس نہیں ہو سکتا۔ وہ فیصلہ اسے بنانے والی صنعت، فروخت کرنے والے کاروبار، خریدنے والے صارف اور ضابطے بنانے والی حکومت، سب کو کرنا ہے۔

ترکیہ کی زیرو ویسٹ تحریک کا بنیادی تصور اسی ضرورت سے جڑا ہے۔ ایمینہ ایردوان کی قیادت میں شروع ہونے والی اس کوشش میں وسائل کے ضیاع کو روکنے، کچرا کم کرنے اور اشیا کے دوبارہ استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔ اس تصور کی قوت یہ ہے کہ وہ ماحولیات کو عام زندگی کے قریب لاتا ہے۔ لیکن اسے صرف شہریوں کی اچھی عادتوں تک محدود کر دیا جائے تو اس کا دائرہ سکڑ جائے گا۔ گھر میں کچرا الگ کرنے کی محنت اسی وقت پوری طرح کارآمد ہوگی جب اسے جمع کرنے، چھانٹنے اور دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کا نظام بھی موجود ہو۔

یہیں ماحولیات کا تعلق حکمرانی سے قائم ہوتا ہے۔ شہری کو اس کا حصہ ادا کرنا چاہیے، مگر وہ ناقص نظام کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اگر حکومت ماحول دوست طرزِ زندگی چاہتی ہے تو اسے اس کے قابلِ عمل راستے بھی فراہم کرنے ہوں گے۔ ورنہ ذمہ داری کا سارا وعظ عام آدمی کے حصے میں آئے گا اور اصل فیصلے کرنے والے اپنے معمول پر قائم رہیں گے۔

چائے کے وقفے میں ہال سے باہر نکلا تو ایک نئی کتاب لینے کے لیے لوگوں کا ہجوم تھا۔ موضوع ماحولیاتی سفارت کاری تھا۔ میں اس ہجوم میں شامل نہیں ہوا؛ ترکی زبان سے ناواقفیت آڑے آ گئی۔ اس چھوٹے سے تجربے نے ایک دوسری رکاوٹ کی طرف متوجہ کیا۔ ماحولیات پر ہونے والی گفتگو بھی اکثر عام لوگوں کے لیے ایک اجنبی زبان بن جاتی ہے۔ اصطلاحیں، اہداف اور دور کی تاریخیں اتنی نمایاں ہو جاتی ہیں کہ آدمی اپنی زندگی سے ان کا تعلق تلاش کرتا رہ جاتا ہے۔

حالاں کہ اس تعلق کو سمجھانے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ صاف پانی کی دستیابی، سانس لینے کے قابل ہوا، کھیتی کے لیے موزوں حالات اور آلودگی سے محفوظ محلہ اسی بحث کے موضوع ہیں۔ جس شخص کی زندگی ان چیزوں پر منحصر ہے، اسے موسمیاتی پالیسی کا محض سامع نہیں رہنا چاہیے۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے نام پر کیا طے ہو رہا ہے، اس کا فائدہ اسے کب ملے گا اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا۔

وقفے کے بعد ماہرین کی گفتگو میں ان پالیسیوں کی تفصیل سامنے آئی۔ حلیل حصار نے کاپ کو ایک تقریب کے بجائے مسلسل عمل کے طور پر دیکھنے پر زور دیا۔ پروفیسر عبدالمنّاف توران نے ترکیہ کے ۲۰۵۳ تک خالص صفر اخراج کے ہدف اور ۲۰۲۵ کے موسمیاتی قانون کا ذکر کیا۔ مہمت علی کہرامان نے غذائی تحفظ، زراعت، صاف توانائی اور ماحول دوست صنعت کو عملی لائحۂ عمل کا حصہ بتایا، جبکہ مصطفیٰ ارداغی نے زیرو ویسٹ کی کوششوں کو طویل مدت تک جاری رکھنے کی ضرورت بیان کی۔

ان باتوں کو ایک ساتھ رکھا جائے تو معاملہ کسی ایک وزارت یا صفائی مہم سے کہیں آگے نکل جاتا ہے۔ توانائی کا فیصلہ صنعت کو متاثر کرے گا، صنعت کا طریقہ وسائل کے استعمال کو بدلے گا، پانی اور زمین کی حالت زراعت پر اثر ڈالے گی، اور اس سب کا نتیجہ روزگار، خوراک اور صحت کی صورت میں لوگوں تک پہنچے گا۔ ماحولیاتی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اسی ربط کو سمجھنے پر ہے۔ ایک شعبے کی کامیابی اگر دوسرے شعبے یا کسی کمزور آبادی کے نقصان سے حاصل ہو تو مجموعی مسئلہ اپنی جگہ رہ جاتا ہے۔

اسی لیے ۲۰۵۳ جیسے طویل مدتی ہدف کے ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اگلے سال کیا بدلے گا۔ کون سا کام پہلے ہوگا، اس کے لیے رقم کہاں سے آئے گی اور پیش رفت عوام کے سامنے کیسے رکھی جائے گی؟ دور کی تاریخ حکومت کو سمت دے سکتی ہے، مگر قریب کی ذمہ داریوں سے آزاد نہیں کر سکتی۔ آج کیے جانے والے فیصلے ہی طے کریں گے کہ اس تاریخ تک پہنچ کر ہمارے پاس کامیابی کا ثبوت ہوگا یا ایک نئی مہلت کا مطالبہ۔

انقرہ کی نشست میں تعاون اور عمل کی ضرورت پر اتفاق نمایاں تھا۔ یہ ایک اچھی ابتدا ہے۔ اب اس اتفاق کو ان فیصلوں تک پہنچنا ہوگا جہاں اخراجات منظور ہوتے ہیں، صنعتوں کے لیے ضابطے بنتے ہیں، شہروں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور قدرتی وسائل کے استعمال کی اجازت دی جاتی ہے۔ ماحول کی فکر اگر ان مقامات پر مؤثر نہ ہو تو کانفرنسوں میں اس کی موجودگی سے عام زندگی میں بہت کم فرق پڑے گا۔

ترکیہ کے پاس کاپ۳۱ کے ذریعے اس فرق کو کم کرنے کا موقع ہے۔ وہ اپنی زیرو ویسٹ کوششوں کو دنیا کے سامنے رکھ سکتا ہے، جنگوں کی ماحولیاتی تباہی کو بحث میں جگہ دلا سکتا ہے اور مشترکہ ذمہ داری پر زور دے سکتا ہے۔ اس کی میزبانی کی کامیابی تب زیادہ معنی رکھے گی جب یہ ترجیحات ایسے فیصلوں میں ڈھلیں جن کا اثر کانفرنس کے بعد بھی باقی رہے۔

انقرہ کے آڈیٹوریم میں مجھے چند منٹ کے انتظار کے بعد نشست مل گئی تھی۔ زمین کے معاملے میں یہ سہولت نہیں۔ ہم اسے ناقابلِ رہائش بنا کر کسی دوسرے کی خالی ہونے والی جگہ پر نہیں بیٹھ سکتے۔ اسی زمین پر ہمارے گھر ہیں، ہمارے بچوں کا مستقبل ہے اور غزہ کے ان لوگوں کی واپسی کی امید بھی، جن کے گھر ملبہ ہو چکے ہیں۔ اسے بچانے کے وعدوں کی قدر اتنی ہی ہوگی جتنی زندگی وہ محفوظ کر سکیں۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے

بچوں کا ہفتہ

مٹھو کا آم

دوپہر کا وقت تھا۔ زین اور عائشہ دادی کے باغ میں بیٹھے آم کھا رہے تھے۔ چھوٹو ان کے پاس سو رہا تھا۔ مٹھو…

بچوں کا ہفتہ October 31, 2026 2 منٹ مطالعہ