تاریخ و تحقیق

معاشرے میں مساجد کا کردار: عبادت گاہ سے آگے

مدینہ میں مسجد نبوی بیک وقت نماز، خطبہ ،تعلیم و تربیت، مشاورت، تنظیم اور سماجی نگہداشت کی جگہ تھ

کالم کا حصہ
زاویہ
تاریخ و تحقیق October 15, 2026 11 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

یہ ہندوستان کی ایک کثیر مسلم آبادی مگر انتہائی پسماندہ خطہ کے ایک سینئر سیکنڈری اسکول ٹیچرہیں، علم و ادب کا اعلیٰ ذوق اور سماج کی گہری فکر رکھتے ہیں۔ نام ہے صارم۔ پچھلی ملاقات میں صارم  نے اپنی یہ سرگزشت شیئر کی تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ صارم اور اس کے چند ساتھیوں کو گاؤں کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی فکر تھی۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مقامی مسجد میں اس کا بندوبست کرتے ہیں کیونکہ اس غریب آبادی میں اس کے لیے کوئی اور جگہ دستیاب نہ تھی مگر یہ درسگاہ وہاں بمشکل چند ماہ چلی، پھر ایک دن گاؤں کے لوگوں نے وہ ہنگامہ کیا کہ اس کو بند کرنا پڑا۔ لوگوں کے لئےمسجد میں یہ کام مسجد کی طہارت و تقدس کے منافی تھا۔

اب ایک دوسری تصویر دیکھیے۔ یہ برطانیہ میں مانچسٹر کے مضافات کا ایک خوشحال علاقہ ہے چیڈل۔ یہاں ہیلڈگرین کے پرفضا مقام پرایک مسجد ہےجس کی انتظامیہ ‘چیڈل مسجد ایسوسی ایشن(سی ایم اے)‘ نے اس کو ایسابنایا ہے کہ  عوام و خواص سب اس کی مثال دیتے ہیں۔  زبان حال سے یہ خود بھی بہت کچھ بیان کرتی ہےجواسلام میں مسجد کا چار وسیع مقاصد پر مبنی تصور ہے۔(۱ٍ) اسلامی تعلیم کی تکمیل (۲)کمیونٹی کی  ضروریات کیتکمیل، (۳)کمیونٹی میں ہم آہنگی کا قیام اور (۴) معاشرے میں مفید تبدیلیوں کا محرک ۔ اس کی سرگرمیاں عبادت اور اسلامی تعلیم سے  نوجوانوں کے پروگرام، اسکول کی مصروفیت، فلاح و بہبود، کھیل کود، خاندانی سرگرمیاں اور ضرورتمندلوگوں کی امداد تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب یہ مسجد کسی وقت ان مصروفیات سے خالی ہو۔ حال ہی میں مشہور براڈکاسٹراورفنکار و ادیب نور الحسن نے لندن سے اس مسجد پرمبنی اپنی ایکاسٹوری پوسٹ کی جس میں وہ مسجد کی انتظامیہ کے ایک ذمہ دار سے بات کر رہے ہیں تو صارم صاحب اور اس کے ساتھیوں کی سرگزشت اور اس کے گاؤں کی مسجد میری آنکھوں میں گھوم گئی۔

مسجد بلاشبہ مسلم معاشرے میں ایک مرکزی اور محترم مقام ہے۔یہ بنیادی طور پر نماز، خطبۂ جمعہ، قرآن کی تلاوت اور وعظ کی جگہ ہے۔ یہ بے شک اس کے بنیادی کام ہیں لیکن اسلام کی تاریخ  بتاتی ہے کہ مسجد کبھی بھی صرف ایک ایسی جگہ نہیں رہی جہاں لوگ نماز ادا کرنے آتے اور پھر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی مسجد تعلیم و تربیت، مشاورت، سماجی میل جول، تنظیم اور انسانیت کی خدمت کا مرکز بھی رہی ہے لیکنبرصغیر میں مساجد کو کب تلاوت، نماز اوروعظ یا زیادہ سے زیادہ حفظ قرآن تک محدود کردیا گیا اور کیوں ایسا کیاگیا سمجھ سے باہر ہے۔

آج کی دنیا میں جب مسلم کمیونٹیز کو پیچیدہ تعلیمی، معاشی، سماجی اور عائلی مسائل کا سامنا ہے، مسجد کے کردار کو وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مسجد کو اس عہد جدید میں عبادت و روحانیت سے مضبوطیکے ساتھ جڑے رہنا چاہیے لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کے اس جامع کردار کا احیا ضروری ہے جس کا نمونہ مدینہمنورہ میں رسول اکرمﷺ کی مسجد اور اس کا چبوترہ (صفہ) تھا یعنی مساجد کا سیکھنے سکھانے، رہنمائی،کونسلنگ، فلاح و بہبود، نوجوانوں کی تربیت و ترقی، سماجی خدمت اور سماجی ہم آہنگی کے مرکز کا کردار۔

مسجد ایک ایسا ادارہ ہے جہاں ایک بچہ دینی تعلیم حاصل کرتا ہے، ایک نوجوان کو تعمیری صحبت ملتی ہے،والدینکو رہنمائی ملتی ہے، ایک غریب خاندان کو امداد ملتی ہے، ایک طالب علم کو تعلیمی مواقع کے بارے میں معلومات ملتیہیں اور ایک بے روزگار نوجوان کو روزگار اور خود روزگار کی راہیں معلوم ہوتی ہیں۔ چیڈل مسجد کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس وسیع تر وژن کو کس طرح عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ اس کے موجودہ پروگرام میں بچوں اور بڑوں کیاسلامی تعلیم، خواتین کے حلقے، نوجوانوں کی سرگرمیاں، اجتماعی تقریبات، رشتے کی تلاش سے شادی تک کی خدمات ،فلاح و بہبود کے اقدامات، اسکول کے دورے اور بین المذاہب مصروفیات شامل ہیں۔

۱۔تعلیم و تربیت:

تعلیم  مسجد کے بنیادی کاموں میں سے ایک ہے۔عہدنبوی میں مدینہ منورہ کی ۹مساجدمیں ایسا ہی تھا۔ دینی تعلیمضروری ہے لیکن اسے جدید علوم، اخلاقی ترقی اور شہری ذمہ داری سے آگاہی کے ساتھ جوڑا جانا آج حددرجہ ضروری ہے۔ مساجد سائنس، قانون، صحت، معاشیات،  حقوق، ڈیجیٹل خواندگی اور عصری سماجی مسائل پر باقاعدہ لیکچرز اور ورکشاپس کا اہتمام کر سکتی ہیں۔ لائبریریاں اور ریڈنگ رومز قائم کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر ان طلباء کے لیے یہ ایک بہت بڑی مدد ہوگی جن کے گھروں میں پڑھنے لکھنے کی سہولیات  نہیں ہیں۔

ایک اہم لیکن ہماری توجہ سےمحرم مسئلہ تعلیمی مواقع کے بارے میں معلومات کی فراہمی ہے۔ معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے ہونہار طلباء وظائف، فیلو شپ، داخلہ امتحانات اور سرکاری اسکیموں سے صرف اس وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ ان کے بارے میں نہیں جانتے۔ ایک مسجد تعلیمی انفارمیشن ڈیسک یاڈیجیٹل نوٹس بورڈ رکھ سکتی ہے جو اسکالرشپ، مسابقتی امتحانات، پروفیشنل کورسز، یونیورسٹیوں اور سرکاریپروگراموں کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔ اس سے نہ صرف مذہبی طور پر باخبر مسلمان بلکہ تعلیم یافتہ، ہنر مند، ذمہ دار اور سماجی طور پر باشعور شہری پیدا ہوں گے۔

چیڈل مسجد کا اسکول رابطہ پروگرام اس سلسلے میں سبق آموز ہے۔ یہ مقامی اسکولوں کے ساتھ کام کرتا  اور تعلیمی مشغولیت،  آگاہی اور تربیت  مہیا کراتاہے۔ یہ طلباء کو اسلام، اسلامی زندگی اور اسلام کے فلسفہ حیات کو سمجھنے میں مدد کے لیے ڈیزائن کیے گئے اسکول کے دوروں کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ اسکولوں کے بچے اور اساتذہ یہاں آکر اسلام اور مسلمانوں  کی بہت سی باتوں کو قریب سے دیکھتے سمجھتے ہیں جن کے تعلق سے لوگوں کو تجسس لاحق رہتا ہے۔   

۲۔مشاورت و رہنمائی :

معاصر زندگی نے ایسے مسائل پیدا کیے ہیں جن کا سامنا پچھلی نسلوں کو نہیں کرنا پڑا تھا۔ نوجوانوں کو تعلیم،کیریئر، شناخت، تعلقات اور سوشل میڈیا کے بارے میں سوالات کا سامنا ہے۔ وہ آئے دن خاندان، ازدواجی زندگی،نسلی اختلافات، مالی دباؤ اور مواصلات کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ عام لوگوں کو تعلیم، ملازمت، قانونیمعاملات، سماجی بہبود یا ذاتی مشکلات سے متعلق رہنمائی کی ضرورت پڑ تی ہے۔مسجد صلاح و مشورہ کا ایکقابل اعتماد مرکز بن سکتی ہے۔ اس کے لیے معاشرے کے اہل افراد کا ایک نیٹ ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے، اساتذہ، مشیران، وکلاء، معالجین، سماجی کارکنان، ماہرین نفسیات، کیریئر کونسلرز اور علمائے دین جو رہنمائیپیش کر سکیں۔ مناسب وقت پر رازداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نوجوانوں کی رہنمائی اہم ہے۔دینی رہنمائیکو عصری حقائق کی تفہیم سے الگ نہیں کیا جانا چاہیے۔ امام یا عالم دین کے لیے ہر شعبے کا ماہر ہونا ضرورینہیں ہے بلکہ مسجد کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کو مناسب ماہرین سے جوڑ سکے اور اس بات کو یقینیبنائے کہ اخلاقی اور روحانی پہلوؤں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

۳۔ نوجوانوں کی مثبت سرگرمیاں :

مسلم کمیونٹیز کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ نوجوانوں کو مسجد سے بامعنی طور پر کیسےجوڑا جائے۔ صرف نوجوانوں کو نماز میں شرکت یا وعظ سننے کو کہنا کافی نہیں ہے۔ انہیں معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے، رہنمائی کرنے، سیکھنے، سکھانے اور تعاون کرنے کے مواقع دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے مطالعاتی حلقے، لیڈرشپ پروگرام، مباحثے، بک کلب، کیریئر ورکشاپس، کھیل، بیرونی سرگرمیاں، رضاکارانہ خدماتاور ہنر مندی بڑھانےکے پروگرام مسجد کے اطراف ایک مثبت سماجی ماحول بنا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو جب لگتا ہے کہ مسجد ان پر بھروسہ کرتی ہے، ان کی بات سنتی ہے اور انہیں ذمہ داری دیتی ہے، تو مسجد ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے بجائے اس کے کہ وہ کبھی کبھار مسجد آتے ہوں۔

۴۔ سماجی خدمت:

مساجد سماجی بہبود کا مقامی مرکز بننے کی بہت زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ اور خیرات پہلے سے ہیمسلمانوں کی مذہبی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وسائل کو شفاف اور مؤثر طریقے سے منظم کیا جائے اور اس کا مرکز مقامی مسجد ہو۔ مساجد ضرورت مند خاندانوں، تنہا بزرگوں، بیواؤں، یتیموں، پناہ گزینوں، معذور افراد اور اچانک مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے خاندانوں کی شناخت کے لیے فلاحی کمیٹیاں قائم کر یں۔ ان میں فوڈ بینک، تعلیمی امداد، طبی امداد اور ہنگامی مالی امداد کا مناسب نظام قائم کیا جا ئے۔

۵۔ ہنگامی حالات میں امداد:

قدرتی آفات اور ہنگامی حالات امیر غریب یامسلم غیرمسلم کے درمیان امتیاز نہیں کرتے۔ سیلاب، زلزلے، وبائی امراض، آگ اور دیگر بحرانوں کے موقع پر مقامی وسائل کو تیزی سے متحرک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مساجد منفرد طور پر اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ ان مواقع پرلوگوں کے کام آئیں کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی عمارتیں، رضاکار، مواصلاتی نیٹ ورک اور عوامی اعتماد ہے۔ ہنگامی حالات کے دوران وہ عطیات، خوراک اور ضروری اشیا کے جمع کرنے کے پوائنٹ کے طور پر کام کر سکتی ہیں اور بارہاان کا ایسا استعمال ہوتا بھی ہے لیکن شعوری طور پر منصوبہ بند طریقے سےابھی تک ان کو اس کام کے لیےمنظم نہیں کیا گیا۔ مناسب طریقے سے منظم ‘مسجد نیٹ ورک‘ ہنگامیرضاکاروں کے رجسٹر، ابتدائی طبی امداد کی بنیادی تربیت، کمزور خاندانوں کی فہرستیں؛ اور مقامی حکام اور رضاکار تنظیموں کے ساتھ تعاون کو مضبوط شکل دے سکتا ہے۔

یہ کام وہ ہیں جو مساجد کو ایک غیر فعال ادارے سے کمیونٹی کے ایک اہم فعال جز میں تبدیل کر دے گا۔

آخری بات: مسجد کا کردار مسلم کمیونٹی سےآگے بھی ہونا چاہیے۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں، مقامی حکام اور دیگر عقائد کے لوگوں کے ساتھ مل کر غلط فہمیوں کو دور کرنے اور باہمی افہام و تفہیم میں مساجد مدد کر سکتیہیں۔ ہندوستان میں ہزاروں مساجد ہیں جن میں کافی انفراسٹرکچر، مالی وسائل، رضاکار اور خیر سگالی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان  کو زیادہ مؤثر طریقے سے کیسے منظم کیا جا سکتا ہے۔ ہر مسجد کو سارے کام کرنے کی ضرورت نہیںہے۔ محلے کی چھوٹی مسجد کام کا آغاز لائبریری، اسکالرشپ انفارمیشن ڈیسک، یوتھ اسٹڈی سرکل اور ویلفیئرکمیٹی سے کر سکتی ہے۔ ایک بڑی مسجد صلاح و مشورہ مرکز ، کمپیوٹر لیبارٹری، کیریئر گائیڈنس یونٹ، خواتین کے مرکز، فوڈ بینک یا پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام قائم کر سکتی ہے۔

جو چیز ضروری ہے، وہ نقطہ نظر میں تبدیلی ہے۔ ایک ایسی مسجد سے جو صرف نمازیوں کی خدمت تک محدودہے، ایک ایسی مسجد میں تبدیل کرنے کے لیے جو کمیونٹی کی خدمت کرتی ہے، بہت زیادہ اخراجات کی ضرورت نہیںہے،صرف نیت چاہیے۔رضاکاروں کے ذریعے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اساتذہ پڑھا سکتے ہیں، ڈاکٹر وقتاً فوقتاً مشاورت پیش کر سکتے ہیں، وکلاء قانونی آگاہی کے سیشن دے سکتے ہیں، پروفیشنلز کیرئیر ورکشاپس کا انعقاد کر سکتے ہیں اور نوجوان ڈیجیٹل مواصلات کا انتظام کر سکتے ہیں۔

مسجد کے مستقبل کو عبادت اور سماجی خدمت کے درمیان انتخاب کے تصورسے نکالنا ہوگا۔ دونوں آپس میں ایکدوسرے کی تکمیل ہیں۔ دعا روحانی شعور کو فروغ دیتی ہے۔ تعلیم فہم و فراست کو بڑھاتی ہے۔ خدمت سے ہمدردیپیدا ہوتی ہے۔ مشاورت سے حکمت پیدا ہوتی ہے۔ نوجوانوں کے پروگرام قیادت کو فروغ دیتے ہیں؛ اور سماجی مشغولیتسے ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ عبادت کے قرآنی تصور کو صرف رسم تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ عبادت کو انسانکےطرز عمل پر اثر انداز ہونا چاہیے اور خدا کی مخلوق کی خدمت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ یہ فراموش نہ کریں کہ مدینہ میں مسجد نبوی بیک وقت نماز، خطبہ ،تعلیم و تربیت، مشاورت، تنظیم اور سماجی نگہداشت کی جگہ تھی۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے