چراغ آفریدم

مودی کی خارجہ پالیسی:سفر نامے پورے، کارنامے ادھورے

دنیا بھر میں تصویریں، ہر محاذ پر الجھن: مودی کی خارجہ پالیسی کا حساب ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی وزیرِ اعظم کی خارجہ پالیسی کا حساب اس کے غیرملکی دوروں سے…

کالم کا حصہ
چراغ آفریدم
چراغ آفریدم October 23, 2026 12 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

دنیا بھر میں تصویریں، ہر محاذ پر الجھن: مودی کی خارجہ پالیسی کا حساب

۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶ تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر

کسی وزیرِ اعظم کی خارجہ پالیسی کا حساب اس کے غیرملکی دوروں سے نہیں ہوتا۔ حساب اس سے ہوتا ہے کہ دوروں کے بعد ملک کو کیا ملا۔ سرحد کتنی محفوظ ہوئی، پڑوسیوں کا اعتماد کتنا بڑھا، کاروبار کے لیے کتنے دروازے کھلے اور مشکل وقت میں کتنے دوست ساتھ کھڑے ہوئے۔ نریندر مودی کی خارجہ پالیسی کو اسی کسوٹی پر رکھیے تو سرکاری تقریبات کی چمک دھیرے دھیرے اترنے لگتی ہے۔ پیچھے ایک ایسی حکومت دکھائی دیتی ہے جو دنیا بھر میں اپنی اہمیت کا اعلان کرتی ہے، مگر بار بار دوسرے ملکوں کے فیصلوں سے پیدا ہونے والے نقصان کو سنبھالنے میں الجھی رہتی ہے۔

یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہندوستان تنہا رہ گیا ہے۔ اتنا بڑا ملک، اتنی بڑی منڈی اور اتنی اہم جغرافیائی حیثیت رکھنے والی ریاست آسانی سے تنہا نہیں ہوتی۔ اصل سوال زیادہ پریشان کن ہے: ہندوستان کے پاس جو وزن پہلے سے موجود تھا، مودی حکومت اسے کتنے پائیدار فائدے میں بدل سکی؟ عالمی توجہ حاصل کرنا اور عالمی فیصلوں پر اثر ڈالنا دو الگ باتیں ہیں۔ حکومت کی تشہیر نے دونوں کو ایک بنا دیا ہے۔

امریکہ کے ساتھ تعلقات اسی فرق کا سب سے نمایاں نمونہ ہیں۔ برسوں کی گرم جوشی کے باوجود اگست ۲۰۲۵ میں بیشتر ہندوستانی اشیا پر امریکی محصولات ۵۰ فی صد تک پہنچ گئے۔ فروری ۲۰۲۶ کے تجارتی خاکے میں ۱۸ فی صد شرح طے ہوئی، مگر اکتوبر تک حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔ ۲۰ اکتوبر کو ممبئی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو پھر کہہ رہے تھے کہ معاہدہ بہت قریب ہے۔ تعلقات ختم نہیں ہوئے؛ تجارت، دفاع اور ٹیکنالوجی میں رابطے جاری ہیں۔ لیکن اتنی تشہیر شدہ قربت کے بعد بھی ہندوستانی برآمدکنندگان طویل بے یقینی سے نہیں بچ سکے۔ AP News

اس بے یقینی کی قیمت صرف حکومت نہیں دیتی۔ بیرونی خریدار کو قیمت بتانے والا کارخانے دار، اگلے موسم کے آرڈر کا منتظر تاجر اور روزگار کی امید رکھنے والا مزدور بھی دیتا ہے۔ امریکی حکومت کی من مانی کی ذمہ داری واشنگٹن پر ہے۔ لیکن ہندوستانی حکومت سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ اس نے ذاتی تعلقات سے کتنی توقعات باندھی تھیں اور دباؤ آنے کی صورت میں کتنی تیاری کی تھی۔ کسی امریکی صدر کا دوستانہ خطاب ہندوستانی صنعت کے لیے تحفظ کی ضمانت نہیں ہوتا۔

فروری کے مشترکہ بیان کو پڑھیے تو سودے کی نوعیت اور واضح ہوتی ہے۔ اس میں ہندوستان کی طرف سے تمام امریکی صنعتی اشیا اور متعدد زرعی و غذائی مصنوعات پر محصولات ختم یا کم کرنے کا ذکر ہے۔ پانچ برس میں ۵۰۰ ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدنے کا ارادہ بھی درج ہے۔ یہ مکمل ہو چکی خریداری نہیں، آئندہ کا ارادہ ہے۔ اسی لیے اصل امتحان اعلانات کا حجم نہیں، حتمی شرائط اور دونوں طرف ملنے والا فائدہ ہوگا۔ عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ کن شعبوں کو کیا رعایت ملی اور کن پر مقابلے کا دباؤ بڑھے گا۔ The White House

امریکہ کے معاملے میں مشکل صرف تجارت تک محدود نہیں۔ مئی ۲۰۲۵ کی ہندوستان پاکستان لڑائی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا سہرا اپنے سر باندھا۔ ہندوستان نے ان کی ثالثی کی تردید کی اور کہا کہ فیصلہ دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان بات چیت سے ہوا۔ پھر ۱۸ جون کو ٹرمپ نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں ظہرانہ دیا۔ ایک طرف نئی دہلی اپنے مؤقف کی وضاحت کر رہا تھا، دوسری طرف واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ تعلق بڑھا رہا تھا۔ Reuters

اس واقعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ٹرمپ کا دعویٰ درست تھا۔ اس سے ایک اور بات ثابت ہوتی ہے: امریکہ سے ہندوستان کی قربت، امریکہ کو پاکستان سے اپنے تعلقات ہندوستان کی مرضی کے مطابق چلانے پر آمادہ نہیں کر سکی۔ واشنگٹن اپنے مفادات دیکھتا ہے۔ نئی دہلی کو بھی اپنی عوامی بحث میں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے۔ پاکستان کو دنیا سے کاٹ دینے کا سیاسی تاثر پیدا کرنا آسان ہے؛ دوسرے ملکوں کو واقعی ایسا کرنے پر آمادہ کرنا کہیں زیادہ مشکل۔

چین کے سامنے یہ تضاد معاشی انحصار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ مالی سال ۲۰۲۵۔۲۶ میں ہندوستان نے چین سے تقریباً ۱۳۲ ارب ڈالر کی اشیا خریدیں۔ تجارتی خسارہ ۱۰۰ ارب ڈالر سے زیادہ رہا۔ ستمبر ۲۰۲۶ میں مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات میں خود ہندوستانی بیان نے تجارتی عدم توازن، سامان کی فراہمی اور بازار تک رسائی کے مسائل تسلیم کیے۔ دونوں حکومتیں تعلقات بہتر کر رہی ہیں، مگر تجارت کا پلڑا بدستور چین کی طرف جھکا ہوا ہے۔ Reuters

ہر درآمد کمزوری نہیں ہوتی۔ کارخانوں کو مشینیں اور پرزے بھی درکار ہوتے ہیں۔ مشکل تب پیدا ہوتی ہے جب اہم صنعتی ضروریات کے لیے اسی ملک پر بھاری انحصار ہو جس کے ساتھ سرحدی کشیدگی بھی موجود ہو۔ خودکفالت کا دعویٰ اس وقت معنی رکھتا ہے جب مشکل گھڑی میں ضروری سامان رکنے کا خطرہ کم ہو۔ صرف کسی ایپ پر پابندی لگا دینا اس معاشی طاقت کا متبادل نہیں جو اپنی صنعت، تحقیق اور پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔

سرحد پر بھی حالیہ بہتری کو مکمل مسئلے کا حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اکتوبر ۲۰۲۴ کے فوجیں پیچھے ہٹانے کے سمجھوتے نے پیش رفت ممکن بنائی۔ اس کے باوجود ستمبر ۲۰۲۶ تک دونوں طرف بڑی فوجی تعیناتیاں برقرار تھیں۔ ہندوستانی وزیرِ اعظم کے اپنے دفتر نے تازہ ملاقات میں سرحد پر امن کو تعلقات کی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیا۔ بات چیت ضروری ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی پیش رفت کو مستقل سلامتی اور باہمی اعتماد میں کب بدلا جائے گا۔ Reuters

ہندوستان کو چین یا امریکہ میں سے کسی ایک کے سامنے جھک جانے کی ضرورت نہیں۔ مختلف طاقتوں سے اپنے مفاد کے مطابق تعلق رکھنا درست حکمتِ عملی ہے۔ لیکن آزاد فیصلے کی طاقت محض اعلان سے نہیں آتی۔ اس کے لیے اپنی صنعتی بنیاد، متبادل بازار، قابلِ اعتماد توانائی کے ذرائع اور دیرپا سفارتی تعلقات چاہییں۔ ورنہ ایک طرف بازار کا دباؤ آتا ہے، دوسری طرف ضروری سامان کی فراہمی کا۔ حکومت ہر بار نئی وضاحت پیش کرتی ہے اور اسے خودمختاری کی فتح قرار دے دیتی ہے۔

یہی کمزوری پڑوس میں زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات برسوں شیخ حسینہ کی حکومت کی قربت کے سہارے مضبوط دکھائی دیتے رہے۔ اگست ۲۰۲۴ میں ان کا اقتدار ختم ہوا اور وہ ہندوستان آ گئیں تو تعلقات کا سیاسی توازن بگڑ گیا۔ اگست ۲۰۲۶ میں بھی ڈھاکا اعلیٰ سطح کے دورے سے پہلے بہتر سفارتی ماحول کا مطالبہ کر رہا تھا۔ حسینہ کی حوالگی کا سوال دونوں ملکوں کے درمیان رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ Reuters

یہاں مسئلہ کسی مشکل وقت میں پناہ دینے کے فیصلے سے بڑا ہے۔ ایک پڑوسی ملک کے ساتھ رشتہ کسی ایک حکمران کے ساتھ رشتے میں محدود ہو جائے تو اقتدار کی تبدیلی پورے تعلق کو ہلا دیتی ہے۔ مضبوط سفارت کاری حکومت کے ساتھ ساتھ معاشرے، مختلف سیاسی حلقوں، اداروں اور نئی نسل سے بھی تعلق بناتی ہے۔ بنگلہ دیش کا معاملہ پوچھتا ہے کہ نئی دہلی نے ان راستوں میں کتنی سرمایہ کاری کی تھی۔

اس دوران چین نے بنگلہ دیش میں اپنی سرمایہ کاری اور سفارتی سرگرمیاں بڑھائیں۔ فروری ۲۰۲۶ کی رائٹرز رپورٹ نے ہندوستان سے بگڑے تعلقات کے درمیان چین کے بڑھتے اثر کی نشان دہی کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش ہندوستان کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل گیا۔ دونوں ملکوں کی تجارت اور جغرافیائی ضرورتیں برقرار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی کے ساتھ اعتماد میں پڑنے والی دراڑ سے فائدہ اٹھانے کے لیے دوسری طاقت موجود ہے۔ Reuters

مالدیپ نے اسی مسئلے کا دوسرا رخ دکھایا۔ وہاں ہندوستانی فوجی اہلکاروں کی موجودگی تنازع بنی اور انہیں واپس جانا پڑا۔ پھر جولائی ۲۰۲۵ میں مودی کے دورے کے دوران تعلقات بہتر کرنے، ۵۶ کروڑ ۵۰ لاکھ ڈالر کی قرض سہولت دینے اور آزاد تجارت پر مذاکرات شروع کرنے کے اقدامات ہوئے۔ تعلقات کی مرمت قابلِ قدر ہے۔ لیکن اس تجربے کا سبق یہ ہے کہ چھوٹے پڑوسیوں کے خدشات کو ابتدا ہی سے سننا ضروری ہے۔ قومی خودمختاری ان کے لیے بھی اتنی ہی عزیز ہے جتنی ہمارے لیے۔ icwa.in

بیرونِ ملک اعتماد کا ایک اور امتحان امریکہ میں سامنے آیا۔ ۱۳ فروری ۲۰۲۶ کو نکھل گپتا نے نیویارک میں ایک امریکی شہری کے قتل کی سازش سے متعلق تین الزامات قبول کیے۔ امریکی محکمۂ انصاف اس معاملے میں وکاش یادو نامی ہندوستانی سرکاری ملازم پر بھی الزام لگا چکا تھا۔ گپتا کا اقرار اور یادو پر الزام الگ قانونی حیثیت رکھتے ہیں؛ انہیں وزیرِ اعظم کی مجرمانہ ذمہ داری کا ثابت شدہ فیصلہ بنا دینا غلط ہوگا۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ یہ معاملہ ہندوستان کے لیے سنگین سفارتی بوجھ بنا۔ United States Department of Justice

اسے محض بیرونی پروپیگنڈا کہہ کر ٹالا بھی نہیں جا سکتا۔ جنوری ۲۰۲۵ میں ہندوستان کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے ایک فرد کے خلاف قانونی کارروائی اور متعلقہ نظام و طریقوں میں اصلاح کی سفارش کی تھی۔ قومی مفاد کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے معاملات میں جواب دہی ہو۔ کسی بیرونی سرزمین پر کارروائی کی داستان سیاسی جلسے میں طاقت کا تاثر دے سکتی ہے، مگر حقیقی سفارت کاری میں مقدمے، بداعتمادی اور طویل نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ pib.gov.in

فلسطین کے معاملے میں نقصان اخلاقی ساکھ کا ہے۔ ۱۲ جون ۲۰۲۵ کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اور انسانی امداد کی رسائی سے متعلق قرارداد کے حق میں ۱۴۹ ملکوں نے ووٹ دیا۔ ہندوستان ووٹنگ میں شریک نہ ہونے والے ۱۹ ملکوں میں تھا۔ اسی موقع پر ہندوستانی نمائندے نے شہریوں کے تحفظ، امداد، جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور دو ریاستی حل کی حمایت بھی دہرائی۔ مؤقف کے الفاظ اور ووٹ کا عمل ایک دوسرے سے دور دکھائی دیے۔ Meetings Coverage and Press Releases

اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھنا ہندوستان کو فلسطینیوں کے حقوق پر خاموش رہنے کا پابند نہیں بناتا۔ غزہ میں نسل کشی کے مقابل ایک بڑی جمہوریت کی ذمہ داری محض تشویش کا اظہار نہیں ہو سکتی۔ جو ملک دنیا کے کمزور معاشروں کی آواز بننے کا دعویٰ کرے، اسے اپنے مؤقف کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔ طاقت ور دوست کو ناراض نہ کرنے کی خواہش اگر ہر اہم فیصلے پر غالب رہے تو پھر اخلاقی قیادت کا دعویٰ کھوکھلا ہونے لگتا ہے۔

اس سارے حساب میں کامیابیاں بھی موجود ہیں۔ برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ۲۴ جولائی ۲۰۲۵ کو دستخط ہونے کے بعد ۱۵ جولائی ۲۰۲۶ سے نافذ ہوا۔ یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کے لیے بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ۲۲ اکتوبر کو وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے سال کے اختتام سے پہلے دستخط اور اس کے بعد نفاذ کی امید ظاہر کی۔ نافذ شدہ معاہدے اور آئندہ کی توقع میں فرق رکھنا ضروری ہے، مگر دونوں پیش رفتیں یہ دکھاتی ہیں کہ متبادل معاشی راستے کھولنا ممکن ہے۔ GOV.UK

اسی لیے مودی کی خارجہ پالیسی پر اصل اعتراض یہ نہیں کہ اس نے کچھ حاصل نہیں کیا۔ اعتراض یہ ہے کہ کامیابیوں کو ایک مستقل، واضح اور قابلِ احتساب حکمتِ عملی میں نہیں باندھا جا سکا۔ ذاتی تعلقات کا شور ادارہ جاتی تعلقات سے بڑا ہو گیا۔ پڑوسی ملکوں کی سیاسی تبدیلیوں کے مقابل چند حکمرانوں کی قربت پر ضرورت سے زیادہ بھروسا رہا۔ معاشی انحصار کم کرنے کے دعوے ہوئے، مگر اہم کمزوریاں برقرار رہیں۔ انسانی حقوق کے اصول بھی موقع اور دوست کے حساب سے دھندلے پڑتے دکھائی دیے۔

اس الجھن سے نکلنے کے لیے ہندوستان کو اپنے حجم کے مطابق سنجیدگی اختیار کرنا ہوگی۔ امریکہ کے ساتھ تعلق باہمی فائدے اور واضح شرائط پر قائم ہو۔ چین کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں، مگر صنعتی انحصار کم کرنے کا قابلِ پیمائش کام بھی ہو۔ پڑوسیوں سے رابطہ وہاں کی ایک جماعت تک محدود نہ رہے۔ فلسطین پر انصاف کا مؤقف تعلقات کی سہولت کے تابع نہ ہو۔ اور پارلیمان و عوام کو صرف کامیابی کی تصویریں نہیں، فیصلوں کی شرائط اور نتائج بھی معلوم ہوں۔

مودی کی خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی الجھن یہی ہے کہ اس نے وزیرِ اعظم کی عالمی موجودگی کو ہندوستان کی عالمی طاقت کا ثبوت بنا دیا۔ موجودگی ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ ملک کا قد اس دن بڑھتا ہے جب سرحد پر خطرہ کم ہو، کارخانے کا مستقبل زیادہ محفوظ ہو، پڑوسی کا اعتماد بڑھے اور اصول مشکل وقت میں بھی قائم رہیں۔ تصویروں سے بھرا البم ان نتائج کا بدل نہیں بن سکتا۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے