فکر فردا

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: مشرق وسطی میں سعودی عرب کی نئی صف آرائی ،متبادل سیکیورٹی کی تلاش یاامریکی منصوبہ ؟

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان مشترکہ دفاع کا نیا فریم ورک بنا رہے ہیں۔ جس کی سنجیدگی کا اظہار مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی توثیق کے لیے ترکیہ کی پارلیمانی کارروائی سے ہوتا ہے لیکن سوال…

کالم کا حصہ
فکر فردا
فکر فردا October 23, 2026 25 منٹ مطالعہ
شیئر کریں
WhatsApp Facebook X

سعودی عرب، ترکی اور پاکستان مشترکہ دفاع کا نیا فریم ورک بنا رہے ہیں۔ جس کی سنجیدگی کا اظہار مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی توثیق کے لیے ترکیہ کی پارلیمانی کارروائی سے ہوتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ایک آزاد علاقائی سیکورٹی نظم (Security Order) کا آغاز ہے، واشنگٹن کے غیر یقینی وعدوں کا جواب ہے یا ایک ایسی پیش رفت جو مشرق وسطیٰ کو مزید خطرناک تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے؟

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ترک پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اہمیت مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک منظر نامے میں ایک اہم پیشرفت کی ہے۔ یہ موجودہ بین الفریقین دفاعی تعلقات کو اجتماعی سلامتی کے سہ فریقی فریم ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے اوراس کی سب سے نتیجہ خیزشق یہ ہے کہ ایک دستخط کنندہ کے خلاف بیرونی مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ مانا جائے گا۔

یہ معاہدہ ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جو فوجی تعاون سے بالاتر ہیں۔ کیا سعودی عرب متبادل سیکورٹی انتظامات بنانے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ اب امریکہ کے ساتھ اپنی روایتی شراکت داری کو کافی نہیں سمجھتا؟ کیا ترکی خلیج اور وسیع تر مسلم دنیا میں اپنا ایک بڑا کردار چاہتا ہے؟ کیا پاکستان کو اس میں صرف اپنے اقتصادی اور سفارتی مفادات نظر آتے ہیں یا اس کی اپنے تزویراتی اثر و رسوخ کو بڑھانے کی خواہش بھی کار فرما ہے؟ یا ابھرتا ہوا انتظام ایک بڑے جغرافیائی سیاسی مقابلے کا حصہ ہے جس میں علاقائی طاقتیں بین الاقوامی مفادات کی رسہ کشی کا آلہ بن رہی ہیں؟

یہ سوالات سنجیدہ  غوروفکر کے مستحق ہیں لیکن جوابات کے لیے ثابت شدہ حقائق، قابل فہم حکمت عملی اور ممکنہ سازش کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت  ہے۔

مکہ میں معاہدے پر دستخط سے انقرہ میں پارلیمانی ٹیسٹ تک

اس معاہدے پر سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں دستخط کیے۔ ترک حکومت نے اس معاہدے کو باقاعدہ آئینی کارروائی میں لاتے ہوئے اکتوبر میں توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا۔  23 اکتوبر 2026 کو جنرل اسمبلی نے اس مسودہ کو خارجہ امور کمیشن کو سونپا جو آگے بڑھنے سے پہلے اس کی جانچ پڑتال کرے گا۔ اب پارلیمان کی منظوری صرف ایک قدم آگےرہ گئی ہے۔

اب یہ دوہرانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ معاہدہ سیاسی یکجہتی کے اعلان سے زیادہ اہم ہے۔ اس کے 16 آرٹیکلز فوجی تعاون، مشترکہ تربیت، دفاعی صنعتی ترقی، انٹیلی جنس کا اشتراک، لاجسٹک سپورٹ اور سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون کی فراہمی کو محیط ہیں۔ اس میں ایک اسٹریٹجک سیاسی اور دفاعی کمیٹی کی تشکیل کا انتظام بھی  ہے جس میں شریک ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان شامل ہوں گے۔ اس کا ایک سیکرٹریٹ بھی ہوگاجو سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا جس کا پہلا سیکرٹری جنرل پاکستانی شہری ہوگا۔

معاہدہ کے دستخط کا مقام بھی سیاسی طور پر انتہائی اہم ہے۔ مکہ مکرمہ میں کعبہ ہےجو دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ  ہے۔ یہ مسلمانوں کے لیے دنیا کا سب سے مقدس مقام اورعلامتی اہمیت کا حامل شہر ہے۔ سربراہی اجلاس کے سرکاری بیان میں اسلامی یکجہتی، تاریخی تعلقات اور مشترکہ اسٹریٹجک مفادات پر زور دیا گیا ہے۔ پھر بھی یہ معاہدہ محض ایک مذہبی اتحاد نہیں ہے۔ یہ ریاست سے ریاستی سلامتی کا عہدوپیمان ہے جو قومی مفاد، فوجی صلاحیت اور علاقائی اثر و رسوخ سے چلتا ہے۔ اس کی اصل اہمیت اس کے دستخط پر منحصر نہیں ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ جب سیکیورٹی کا سنگین بحران رونما ہوتا ہے تو تینوں حکومتیں اپنے وعدوں کی تشریح اور ان پرعمل درآمد کیسے کرتی ہیں۔

صف آرائی کا فوری محرک

معاہدے کا وقت قابل غور ہے اورعلاقائی سلامتی کی صورت حال ایک اہم اشارہ۔ سعودی عرب کی سرزمین پر حوثیوں کے حالیہ حملوں، انصاراللہ کے میزائل اور ڈرون نے ریاض پر اپنے اہم انفراسٹکچر کی حفاظت کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کا دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یمنی انصاراللہ جن کو حوثی بھی کہا جاتا ہے، صرف ایک قبیلہ نہیں، ایک تحریک ہے اور اسے ایران کی حمایت بھی حاصل ہے۔ صنعاء، ریاض اورعدن کے وسیع سیاسی اور فوجی منظر نامے میں شامل تنازعات نے بار بار خلیج کی سیکورٹی اور بحیرہ احمر کی جہاز رانی کو خطرہ لاحق کیا ہے۔ سعودی عرب کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ کسی خاص حملے کا جواب کیسے دیا جائے۔ یہ اس کے شہروں، ہوائی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اسٹریٹجک تنصیبات کے خلاف مستقبل کے حملوں کو روکنے کا مسئلہ بھی ہے۔ سعودی اقتصادی تبدیلی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کا انحصار کس حد تک سیکیورٹی کی صورت حال پر ہے کسی باخبر شخص سے مخفی نہیں ہوسکتا۔ میزائل اور ڈرون کے حملوں اور روزافزوں دشمنیوں سے دوچار خطے میں ترقی اور تبدیلی کے  ان منصوبوں کا جاری  رکھناکب ممکن ہے جن میں  محمد بن سلمان کی جان اٹکی ہوئی ہےیا جن پر سعودی عرب نے بے حساب دولت جھونک دی ہے۔ گویا یہ معاہدہ ریاض کو اپنی سیکیورٹی شراکت داری کو وسیع کرنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتا ہے۔  واشنگٹن کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات پر مکمل انحصار کے بجائے سعودی عرب ترکی اور پاکستان سے فوجی صلاحیت حاصل کر کے اس کی تکمیل کر سکتا ہے۔تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہو گا کہ سعودی عرب نے امریکہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ایک زیادہ قابل اعتماد توضیح یہ ہے کہ ریاض ایک ایسی دنیا میں اضافی اسٹریٹجک آپشنزکی تلاش میں ہے جہاں دیرینہ اتحاد بھی اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ ہر پارٹنر ہر بحران کا اس طرح جواب دے گا جس طرح اس کے اتحادی کی توقع ہے۔

کیا یہ معاہدہ امریکی سیکوریٹی کا متبادل ہے؟

کئی دہائیوں سے امریکہ نے فوجی تعیناتیوں، ہتھیاروں کی فروخت، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی حکومتوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے خلیج کی سلامتی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ تیل کی پالیسی، انسانی حقوق، علاقائی تنازعات اور فوجی تعاون کی شرائط پر وقتاً فوقتاً اختلافات کے باوجود سعودی عرب امریکہ کا ایک اہم دفاعی اور اقتصادی شراکت دار رہا ہے۔ پھر بھی علاقائی ترتیب بدل گئی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگیں، علاقائی شراکت داروں کے ساتھ امریکی اختلاف، یکے بعد دیگرے امریکی انتظامیہ کی بدلتی ترجیحات اور مشرق وسطیٰ کے ایک اور تنازعہ میں براہ راست ملوث ہونے کے لیے واشنگٹن کی رضامندی کی حد تک غیر یقینی صورتحال نے خلیجی حکومتوں کو اپنے تعلقات کو متنوع بنانے کی ترغیب دی ہے۔

سعودی عرب نے اپنے امریکی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے چین اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعلقات کی پیشرفت کی ہے۔ ترکی اور پاکستان کے ساتھ اس کا تعاون سٹریٹجک تنوع کے اس وسیع نمونے کے مطابق ہے۔ مکہ معاہدہ سعودی عرب کا دفاع کے مخصوص شعبوں میں کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار کم کر سکتا ہے۔

ترکیہ ایک ترقی پذیر دفاعی صنعت، ڈرون اور میزائل سے متعلق ٹیکنالوجیز میں تجربہ  اور کافی فوجی صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔ پاکستان کے پاس ایک بڑی فوجی اسٹیبلشمنٹ، نیوکلیئر ڈیٹرنس اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کا دیرینہ تجربہ ہے۔ لیکن متبادل اور ضمیمہ کے درمیان فرق بہت ضروری ہے۔ یہ معاہدہ خود یہ ثابت نہیں کرتا ہے کہ ترکی اور پاکستان امریکی صلاحیتوں کی مکمل رینج کو تبدیل کر سکتے ہیں، بشمول لاجسٹک سپورٹ، انٹیلی جنس انفراسٹرکچر، جدید فوجی نظام اور واشنگٹن کے لیے دستیاب علاقائی موجودگی اور نہ ہی یہ دستخط کنندگان کی موجودہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کو منسوخ کرتا ہے۔ معاہدہ واضح طور پر پچھلے بین الاقوامی معاہدوں سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ ترکی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے نیٹو کے وعدے معاہدے غیر متاثر ہیں۔ اس لیے ابھرتے ہوئے انتظامات کو امریکی سیکورٹی چھتری کے مکمل طور پر تیار کردہ متبادل کے بجائے اس کے اراکین کے لیے دستیاب اختیارات کو بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

 نیٹو کی طرز کا عزم لیکن ۰۰۰

معاہدے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا اجتماعی دفاعی نظم ہے۔ آرٹیکل 2 کہتا ہے کہ ایک دستخط کنندہ کے خلاف بیرونی مسلح حملہ کو سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، دوسرے فریق اپنے پاس دستیاب ذرائع بشمول فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے مدد فراہم  کریں گے۔ مدد کے دائرہ کار اور نوعیت کا تعین حالات کے جائزے اور مطلوبہ مدد کے بعد کیا جانا ہے۔ یہ زبان شمالی بحر اوقیانوس معاہدے کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے، جو نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول کی بنیاد ہے لیکن مشابہت کو برابری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ نیٹو ایک طویل عرصے سے قائم اتحاد ہے جس میں وسیع مربوط کمانڈ ڈھانچے، قائم شدہ فوجی منصوبہ بندی، باہمی تعاون کے انتظامات اور دہائیوں کی مشترکہ مشقیں ہیں۔ مکہ معاہدہ، محض باہمی دفاع کا اعلان ہےجو اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ تینوں حکومتیں بحران کا یکساں جواب دیں گی۔ فوری امداد کے لیے معاہدے کی وسیع وابستگی اور امداد کی اصل شکل کے درمیان بھی فرق ہے۔ ترک پارلیمانی مسودہ اور اس کے ساتھ موجود وضاحتی یادداشت معاہدے کو دفاعی قرار دیتی ہے اور مشاورت اور قومی آئینی طریقہ کار پر زور دیتی ہے۔ معاہدہ خود ہر فریق سے یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ وہ حالات اور دستیاب صلاحیتوں کی روشنی میں امداد کی نوعیت اور حد کا تعین کرے۔

اس سے ایک اہم سوال کا جواب نہیں ملتا۔ اگر سعودی عرب کو کسی ایسے حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی ذمہ داری وہ ایران، ایران سے منسلک مسلح گروپ یا کسی اور علاقائی کردار پر ڈالتا ہے تو کیا ترکی اور پاکستان بغیر کسی تحفظات کے ریاض کے اندازے کو قبول کریں گے؟ یا وہ اس کی غیرجانبدارانہ تصدیق طلب کریں گے؟ سفارتی مذاکرات اور ان کی فوجی شمولیت کی حدود کیا ہوں گی؟ معاہدہ تعاون کرنے کی ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔ یہ قومی مفادات میں اختلافات کو ختم نہیں کرتا اور نہ ہی تنازعات کے اسباب، دائرہ کار اور مناسب ردعمل پر معاہدے کی ضمانت دیتا ہے۔

ترکی: علاقائی طاقت جوتزویراتی گہرائی کی تلاش میں ہے

اس اتحادمیں ترکی کی شرکت خاص طور پر اہم ہے کیونکہ انقرہ سعودی عرب کی قیادت میں انتظامات میں محض ایک جونیئر پارٹنر نہیں ہے۔ یہ ایک اہم علاقائی طاقت ہے جس کے اپنے سفارتی عزائم، فوجی صلاحیتیں اور امریکہ، نیٹو، روس، ایران اور عرب حکومتوں کے ساتھ پیچیدہ تعلقات ہیں۔صدر ایردوان نے ترکی کو مشرق وسطیٰ، مشرقی بحیرہ روم، قفقاز اور وسیع تر مسلم دنیا میں ایک بااثر کردار کے طور پر پوزیشن دینے کی کوشش کی ہے۔ وہ عثمانی مُکے اور عثمانی شان و شوکت کی واپسی کی بات کرتے ہیں ۔دفاعی برآمدات، فوجی شراکت داری اور سفارتی ثالثی ان کی حکمت عملی کے اہم حربے بن چکے ہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعاون ترکی کو دفاعی تیاری، تکنیکی تعاون، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور علاقائی سفارت کاری میں مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے انقرہ کو ایک ایسے وقت میں خلیج میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے جب علاقائی ریاستیں کسی ایک بیرونی طاقت پر بھروسہ کیے بغیر سیکیورٹی کا انتظام کرنے کے طریقہ کار پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔

بہر حال، ترکی کی شرکت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انقرہ نے ہر محاذ آرائی میں سعودی عرب کی پیروی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات میں ترکی کے اپنے مفادات ہیں، شام اور عراق کے ارد گرد اس کے اپنے تحفظات ہیں، اور نیٹو کے رکن کے طور پر اس کی مسلسل ذمہ داریاں ہیں۔ اس لیے معاہدے کا موجودہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کا تحفظ خاص طور پر اہم ہے۔ انقرہ کو اپنے قائم کردہ اتحادوں اور ملکی آئینی تقاضوں کے ساتھ اپنے نئے وعدوں میں توازن رکھنا ہوگا۔

تاہم پارلیمانی کارروائی کوئی رسمی بات نہیں جسے نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ اس ٹیسٹ کا حصہ ہے کہ آیا کسی اسٹریٹجک ڈیکلریشن کو ایک پائیداراورقانونی طور پر رو بہ عمل دفاعی انتظامات میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان: دیرینہ سیکیورٹی پارٹنر

پاکستان کا کردار بھی اتنا ہی نتیجہ خیز ہے۔ اس نے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی تعلقات برقرار رکھے ہیں، جن میں فوجی تربیت اور تعاون شامل ہے جبکہ اس کے پڑوس میں بھی اس کےکافی سفارتی اور سیکورٹی مفادات  ہیں۔

یہ معاہدہ خلیجی ریاستوں کے دفاعی پارٹنر کے طور پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فوجی تربیت، انٹیلی جنس، لاجسٹکس اور دفاعی پیداوار میں تعاون کی گنجائش بھی پیش کرتا ہے۔ ایک پاکستانی شہری کے لیے اس کے پہلے سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے کا انتظام اسلام آباد کو معاہدے کی ابتدائی ترقی میں ایک ادارہ جاتی کردار فراہم کرتا ہے۔ تاہم، یہ واقعہ تاریخ کےکئی اوراق پلٹ دیتا ہے، کسی زمانے میں ایک بین الاقوامی تنظیم کا پاکستانی سکریٹری جنرل تہران میں ہوا کرتا تھا، اب ریاض میں ہوگا۔ فرق یہ ہے کہ وہ ترقیاتی تعاون کا قصہ تھا، یہ دفاعی تعاون کی حکایت نو ہے۔

پاکستان کے مفادات بھی سعودی عرب تک محدود نہیں ہیں۔ اس کی سرحد ایران کے ساتھ ملتی ہے اور اسے تہران کو شامل کسی بھی فوجی تصادم کے نتائج پر سو بارغور کرنا ہوگا۔ اس کی معیشت، ملکی سلامتی اور وسیع تر علاقائی تعلقات سب ایک ایسے تنازعہ سے متاثر ہوں گے جو آپریشن کے فوری تھیٹر سے بہت آگے جائے گا۔ لہذا پاکستان کو ایک مشکل انتخاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسے کشیدگی کے خطرات، اپنے قومی مفادات اور وسیع تر علاقائی جنگ میں ملوث ہونے کے نتائج کے خلاف سعودی عرب کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو تولنا ہوگا لیکن اس کی شرکت کو خود بخود ایران مخالف فوجی بلاک سے وابستگی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ فیصلہ کن ثبوت وہ حالات ہوں گے جن میں پاکستان مدد دیتا ہے اور اس امداد پرکہ  وہ کیا پابندیاں لگاتا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان پر امریکی حملے میں جو کردار پاکستان نے ادا کیا تھا، کیاوہی کردارایران پر وسیع تر جنگ بھی ادا کرےگا یعنی جنرل عاصم منیر کی شکل میں بش کی طرح ٹرمپ کو بھی ایک جنرل مشرف مل چکا ہے۔مکہ مکرمہ میں ایک سربراہی اجلاس جنرل مشرف نے بھی منظم کیا تھا جس کا ایجنڈا اسرائیل کو قدس(مشرقی یروشلم) دے کرمسئلہ فلسطین کا مستقل نکالنا تھا اور اُس بار بھی براہمی اتحاد(Ibrahamic Accord)کی طرح  بیل منڈھے نہیں چڑھی تھی۔ جنرل عاصم منیر بظاہرجنرل مشرف کی وراثت کو زیادہ سرگرمی سے آگےبڑھاتے نظر آتے ہیں۔بھاگ بھاگ کر تہران، ریاض اور واشنگٹن جاتے ہیں لیکن کیا وہ سعودی عرب کے دفاع میں کھل کر جنگ میں کودیں گے، حوثیوں کی سرکوبی میں علی الاعلان حصہ لیں گے اور ایران پر حملہ کے لیے امریکہ کو اپنی زمین دیں گے، ابھی تک واضح نہیں ہے ۔

کیا یہ نیا ایران مخالف محاذ ہے؟

اس سوال کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا کہ کیا یہ ایک نیا ایران مخالف محاذ ہے؟ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ابھر رہا ہے جب علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور حوثیوں کے حملوں سے متعلق فوری سیکورٹی خدشات اسے ایک ٹھوس ‘آپریشنل پرسپیکٹو’فراہم کرتے ہیں۔ ایک ایسا انتظام جو سعودی عرب کے فضائی دفاع، انٹیلی جنس صلاحیتوں اور فوجی مدد حاصل کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے، مسلح گروپوں اور علاقائی حکومتوں کا حساب کتاب بدل سکتا ہے۔ یہ جارحیت کی متوقع لاگت کو بڑھا کر حملوں کو روک سکتا ہے لیکن عین اسی وقت اجتماعی دفاع کی شق مقامی تصادم کو وسیع تر تصادم میں تبدیل کر سکتی ہے۔

اگر ترکی اور پاکستان عسکری طور پر سعودی عسکری کارروائی میں شامل ہو جائیں تو سعودی عرب اور حوثیوں پر کارروائی ایک مختلف کردار حاصل کر سکتا ہے۔ اگر ایران کو براہ راست ملوث کیا گیا یا اس طرح کی مداخلت کا جواب دیا گیا تو یہ تنازعہ کئی ممالک اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس کے باوجودکہ معاہدے کی بیان کردہ پوزیشن یہ ہے کہ یہ دفاعی ہے اور کسی خاص ملک کو نشانہ نہیں بناتا۔ اس کے متن میں ایران کو دشمن کا نام دینے کے بجائے اجتماعی سلامتی، دفاعی تعاون اور انسداد دہشت گردی کا التزام کیا گیا ہے۔ اس لیے معاہدے کے اعلان کردہ مقصد اور اس کے ممکنہ اسٹریٹجک اثرات کے درمیان فرق کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ یہاں تک کہ ایک دفاعی انتظام بھی طاقت کے علاقائی توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور پڑوسی ریاستوں کی طرف سے اسے خطرے کے طور پر دیکھا جانا غیرفطری نہ ہوگا۔ لیکن اس کی عملی منصوبہ بندی، فوجی تعیناتیوں اور مطلوبہ ہنگامی حالات کے بارے میں مزید شواہد کے بغیر اسے ایران مخالف اتحاد کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہے اور یہی احتیاط بحیرہ احمر میں وسیع تر تصادم کے امکان پربھی منطبق ہوتی ہے۔ بحری راستوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی جہاز رانی کی حفاظت اس معاہدے کے تینوں دستخط کنندگان کے فوری خدشات سے بالاتر ہیں۔ تاہم، ان مضمرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاہدے کو کس طرح عمل میں لایا جاتا ہے۔

کیا اس اتحاد کے پس پردہ کوئی امریکی منصوبہ ہے؟

سیاسی طور پر یہ سب سے حساس سوال ہے جو معاہدے پر اٹھایا گیا ہے کہ کیا واشنگٹن سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کو ایک نیا سیکورٹی محاذ بنانے کی ترغیب دے سکتا ہے اور اس کے پس پردہ اس کی کوئی حکمت عملی ہے جو امریکی مفادات کو آگے بڑھائے گا؟

ایک بڑی طاقت کی حکمت عملی کے بارے میں ایک مفروضے کے طور پر یہ سوال جائزہ لینے کے قابل ہے۔ تاہم، ایک حقیقت پسندانہ دعوے کے طور پر، اس کے لیے ایسے شواہد درکار ہیں جو معاہدے یا ترک پارلیمنٹ میں پیش کردہ دستاویز سے ثابت نہیں ہوتے۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ کی  تاریخ ہے کہ اس نے علاقائی شراکت داروں کے ذریعے کام کیا ہے، فوجی اتحاد کی حمایت کی ہے اور ان ریاستوں کے درمیان سیکورٹی تعاون کی حوصلہ افزائی کی ہے جن کے مفادات اس کے اپنے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ بڑی طاقتیں اکثر علاقائی سلامتی کے انتظامات کو ان کے نفاذ کی ذمہ داری قبول کیے بغیر تشکیل دینے کی کوشش کرتی ہیں اور اپنے مفادات کے لیے ان کا استعمال کرتی ہیں۔ لیکن یہ اس بات کی توثیق نہیں کرتا  کہ امریکی شراکت داروں کے درمیان ہر نیا اتحاد واشنگٹن میں ڈیزائن کیا جاتاہے۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے پاس آزادانہ سٹریٹیجک حسابات ہیں، اور ہر ایک کے پاس اپنے سیکورٹی تعلقات کو مضبوط کرنے کی وجوہات ہیں چاہے امریکہ اس اقدام کی حمایت کرتا ہو۔

درحقیقت، یہ معاہدہ اس کے مختلف فریق کے  مختلف مقاصد کو پورا کر سکتا ہے۔ سعودی عرب  اس سےاپنی سرزمین اور انفراسٹرکچر پر حملوں کے خلاف زیادہ تحفظ حاصل کر سکتا ہے۔ ترکی خلیج میں ایک مضبوط دفاعی صنعتی اور سفارتی پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔ پاکستان ایک علاقائی فوجی شراکت دار کے طور پر اپنی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ریاض کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات اور اقتصادی مفادات کو مزید گہرا  اور وسیع کرنا چاہتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ مقاصد امریکی مفادات کے حق میں ہوں ۔ معاہدے سےیہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ واشنگٹن نے خفیہ طور پر تینوں حکومتوں کو ایران کے ساتھ تصادم کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ محض دستخط کنندگان کی شناخت، امریکہ کے ساتھ ان کے ماضی کے تعلقات یا پارلیمانی کارروائی کے وقت سے ایسا کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ایک ٹھوس جغرافیائی سیاسی تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ ہم آہنگی، مشترکہ مفادات اور سازش کے درمیان فرق قائم رکھے۔ پہلے دو کا ثبوت خود بخود تیسرے کو ثابت نہیں کرتا۔ زیادہ نتیجہ خیز سوال یہ نہیں ہے کہ کیا کوئی غیر ثابت شدہ سازش موجود ہےبلکہ یہ ہے کہ کیا نیا انتظام اس کے ارکان کی آزادانہ فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا یا انہیں بڑی طاقتوں کی ترجیحات کے مطابق تنازعات کی طرف لے جائے گا۔

اصلی بساط: تین دارالحکومت، کئی مسابقتی دلچسپیاں

مکہ معاہدے کو بین الاقوامی نظام میں وسیع تر تبدیلی کے خلاف دیکھا جانا غلط نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ اب خصوصی طور پر کسی ایک بیرونی سیکورٹی سرپرست یا حریف بلاکوں میں براہ راست تقسیم کے ارد گرد منظم نہیں ہے۔ علاقائی طاقتیں متعدد تعلقات برقرار رکھنے، اپنی دفاعی شراکت داری کو متنوع بنانے اور اپنی چال چلنےکے لیے اپنی گنجائش بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سعودی عرب متسابق بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ مشغول ہونے کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سرزمین اور معاشی عزائم کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ ترکی نیٹومیں اپنی  پوزیشن کو قربان کیے بغیر زیادہ علاقائی اثر و رسوخ چاہتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے سیکورٹی تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور ایران کے ساتھ اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے تصادم سے گریز کرتا ہے۔ یہ مقاصد ایک نقطہ تک مطابقت رکھتے ہیں لیکن وہ اس پوائنٹ سے آگےجاسکتے ہیں یا نہیں، وقت بتائے گا۔

معاہدے میں تین بانی اراکین کے درمیان اتفاق رائے سے مزیدشرکاء کو شامل کرنے کی دفعات بھی موجودہیں۔ اس سے یہ امکان کھل جاتا ہے کہ یہ انتظام بالآخر ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے فریم ورک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ آیا یہ امکان حقیقت بن جاتا ہے اس کا انحصار دیگر ریاستوں کی شمولیت کے لیے رضامندی اور ان کی ان تین حکومتوں پر اعتماد کی قوت پر ہوگا۔ ایک وسیع فریم ورک استحکام میں معاون ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ شفاف قوانین قائم کرے، مواصلات کو بہتر بنائے اور شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر حملوں کی حوصلہ شکنی کرے۔ تاہم، اگر رکنیت سیاسی وفاداری کا امتحان بن جائے یا اگر اجتماعی دفاع کو تنازعات کو بڑھانے کی اجازت سے تعبیر کیا جائے یہ علاقائی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ اسرائیل کا امریکی حمایت یافتہ میثاق ابراہمی بھی اپنے اندر ایک مذہبی علامت کاری رکھتا تھا، ایران، حزب اللہ(لبنان)، انصاراللہ(یمن) اور فلسطین (حرکہ مقاومۃ اسلامیہ) بھی مذہبی نقطہ نظر رکھتے ہیں اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ میں بھی مذہبی علامت قدرمشترک ہے۔سعودی عرب حرمین شریفین کی حفاظت کا ایجنڈا آگے رکھ رہا ہے۔

اہم مسئلہ یہ ہے کہ آیا یہ معاہدہ جارحیت کو روکنے کے طریقہ کار کے طور پر کام کرے گا یا ادارہ جاتی عمل کے طور پرایک مسابقتی فوجی بلاک کی بنیاد بنے گا۔

 دنیا کو آگے کیا دیکھنا ہے؟

معاہدے کی اصل سمت کو اس کی پیش رفتیں ظاہر کریں گی۔ سب سے پہلے، ترک پارلیمنٹ کی توثیق کا عمل یہ ظاہر کرے گا کہ انقرہ اپنے آئینی فریم ورک اور موجودہ اتحادوں کے ساتھ اپنے نئے وعدوں کو کس طرح ہم آہنگ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دوسرے، فوجی امداد کے لیے عملی انتظامات سیاسی اعلانات سے زیادہ اہم ہوں گے۔ تعیناتیوں کی نوعیت، فضائی دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور لاجسٹک سپورٹ اس بات کی نشاندہی کرے گی کہ آیا یہ معاہدہ بنیادی طور پر ایک دفاعی شراکت داری ہے یایہ ایک وسیع آپریشنل الائنس بنتا ہے۔تیسرے، سنگین علاقائی بحران کے دوران تینوں حکومتوں کا طرز عمل اجتماعی دفاع کی ساکھ کا امتحان لے گا۔ ایک معاہدہ اتنا ہی مضبوط ہوتا ہے جتنا کہ اس کے فریق کی ایک دوسرے کی حمایت کی قیمت کو قبول کرنے کی سیاسی آمادگی۔چوتھے، ایران کے ساتھ تعلقات ایک فیصلہ کن اشارے ہوں گے۔ مواصلات کے چینلز اور فوجی پیش قدمی کی واضح حدیں پڑوسی ریاستوں کو یقین دلانے میں مدد کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، ایران کے ساتھ مفروضہ تصادم کے ارد گرد تیار کی گئی فوجی تیاری بداعتمادی کو تیز کر سکتی ہے اور جوابی اقدامات کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔الغرض ، نازک ہے بہت کام اس کارگہ شیشہ گری کا۔

آخری نکتہ یہ ہے کہ امریکہ، چین اور دیگر بڑی طاقتوں کا ردعمل اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرے گا کہ یہ معاہدہ وسیع تر بین الاقوامی نظام میں کس طرح فٹ بیٹھتا ہے۔ خفیہ ہدایات کے بارے میں مفروضوں کی بجائے عوامی پالیسی، سفارتی مصروفیات اور قابل مشاہدہ فوجی تعاون کے ذریعے ان کے ردعمل کا اندازہ لگایا جانا چاہیے۔

اجتماعی حفاظت کا موقع یا ایک نئی فالٹ لائن؟

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی جانب سے اپنے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں زیادہ علاقائی صلاحیت کی تلاش کی عکاس ہے جب موجودہ حفاظتی انتظامات پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے اور اہم بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات پر قابو پانا مشکل ہو گیا ہے۔

سعودی عرب کے لیے، یہ اپنی سیکیورٹی شراکت داری کو متنوع بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ ترکی کے لیے، یہ اپنے اثر و رسوخ اور دفاعی صنعتی تعلقات کو مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ ایک اہم اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرتا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تنازعے میں ملوث ہونے کے خطرات کے بارے میں مشکل سوالات پیداکرتا ہے۔ پھر بھی یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ یہ سیکورٹی پارٹنرشپ امریکہ کی جگہ لے گی، ایران مخالف جنگی اتحاد باضابطہ طور پر قائم ہو چکا ہے یا یہ کہ کوئی خفیہ امریکی سازش تینوں حکومتوں کو اس طرف لے جا رہی ہے۔ اس طرح کی تشریحات اس وقت دستیاب شواہد سے بالاتر ہیں۔

غیر یقینی صورتحال کا مرکز کہیں اور ہے

کیا اجتماعی دفاع ان ممالک کو جنگ اور امن کے بارے میں فیصلے کرنے میں زیادہ آزادی دے گا، یا یہ نئی ذمہ داریاں پیدا کرے گا جس سے علاقائی کشیدگی پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا؟ اگر اس معاہدے کو عام شہریوں کے تحفظ، بنیادی ڈھانچے کے دفاع، حملوں کو روکنے اور سفارتی تصفیہ کی حوصلہ افزائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ زیادہ متوازن علاقائی سلامتی کے نظم میں حصہ ڈال سکتا ہے۔ اگر یہ بلاک کی سیاست، مقابلہ کرنے والی فوجی صف بندی اور باہمی خطرات کی سواری بن جاتی ہے، تو یہ مشرق وسطیٰ کو اور بھی خطرناک اسٹریٹجک بساط میں بدل سکتا ہے۔

مکہ معاہدہ کا اصل امتحان اس پر دستخط یا اس کے متن کی زبان نہیں ہوگا۔ اس کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ آیا اس کے تین تینوں فریق اپنے مشترکہ اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے محض ایک جنگ کی تیاری کرتے ہیں یا اس کے بجائے وسیع تر جنگ کو روک سکتے ہیں۔

یہ تحریر شیئر کریں

فیس بک پر شیئر کریںلنکڈ اِن پر شیئر کریںای میل کریں

مزید پڑھیے